عمران خان نےموسم نہیں‌بلکہ اپنی پارٹی کی صورتحال دیکھ کر دورہ سکردو منسوخ کردیا، سعدیہ دانش

گلگت(پ ر) پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ عمران خان نے موسم کی خرابی کی وجہ سے نہیں اپنی پارٹی کی صورتحال کو دیکھ کر دورہ منسوخ کرلیا ہے۔ عمران خان کی آمد سے قبل وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے پارٹی کی ابتر صورتحال پر بریفنگ دی تھی جس پر عمران خان نے اپنا دورہ سکردو منسوخ کرلیا۔ تبدیلی سرکار کی گلگت بلتستان سے کوئی بھی دلچسپی نہیں ہے، ایک پارٹی کو نہ سنبھال پانے والوں کو ملک پر مسلط کردیا گیا ہے۔ علی امین گنڈاپور کو سکردو جلسے میں اپنی اور اپنی پارٹی کی اصلیت اور اوقات کا پتہ چل گیا اسی گراؤنڈ میں چند ماہ قبل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسہ کیا تھا اور پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے آواز حق بلند کیا تھا۔ علی امین گنڈاپور کو چند سڑکوں اور سیاحتی مقامات کے علاوہ نہ کسی چیز کا نام یاد ہے اور نہ ہی کوئی دلچسپی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے اپنے جلسے کے دوران گلگت بلتستان اور کشمیر کی سنگین صورتحال پر ایک لفظ تک نہیں بھولا۔ وفاقی وزیر کی آمد کے بعد پی ٹی آئی میں مزید دھڑے بن گئے ہیں اور ان کی پارٹی میں مایوسی پھیل رہی ہے، عمران خان کو بھی علی امین گنڈاپور نے دورہ منسوخ کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ وہ خود پارٹی میں دھڑے بازیوں کو دیکھ چکے تھے۔ مہنگائی میں پسی عوام سے یہ توقع کرنا ان کی بیوقوفی ہے اور رہے گی کہ اب بھی تحریک انصاف کو ووٹ ملے گا۔سعدیہ دانش نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن حکومت بھی نمک خوار بن چکی ہے، وفاق میں ان کا کچھ اور کردار ہے جبکہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کی بی ٹیم بننے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیراعظم کے تنظیمی دورے پر حفیظ الرحمن اپنی کابینہ کو بھی لیکر ان کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو سکردو کی باشعور عوام نے آئینہ دکھادیا ہے۔ حفیظ الرحمن کو شوق ہے تو گلگت بلتستان کے کنٹیجنٹ اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کے لئے اقدامات کریں، لیکن ان کی ترجیح میں ایسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین سال بلاشرکت غیرے قومی خزانے کو لوٹتے رہے اور اب تحریک انصاف کو بھی حصہ دار بناکر عوامی پیسے پر ہاتھ صاف کیا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام آئندہ الیکشن میں دونوں پارٹیوں کا بھرپور احتساب کرے گی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments