طنزو مزاح 

تحریر: اسرارالدین اسرار

پچھلے سال نو بل انعام یافتہ ملالہ یوسف ذئی کے حوالے سے ملک کے ایک موقر انگریزی روزنامہ میں ندیم ایف پراچہ کی ایک طنزومزاح پر مشتمل تحریر ” ملالہ کی اصلی کہانی، ثبوتوں کے ساتھ” کے عنوان سے شائع ہوئی تھی۔ جس میں اُس ذہنیت کے لوگوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا جو ملالہ پر حملہ اور ان کو ذخمی حالت میں برطانیہ منتقل کرنے کی کارروائی سے لے کر ان کو نوبل انعام ملنے تک کی کہانی کو محض ایک ڈرامہ قرار دیتے رہے ہیں۔ تحریر میں ایک فرضی کہانی بیان کی گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اگر ملالہ پر حملہ اور ذخمی حالت میں برطانیہ منتقل کیا جانا ایک ڈرامہ تھا تو وہ ڈرامہ کیسے ترتیب دیا گیا ہوگا۔ اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کواصلی کہانی سمجھ لیا اور جگہ جگہ اس تحریر کا حوالہ دیکر کہا جاتا رہا کہ دیکھا ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ سب ایک ڈرامہ تھا۔ جن لوگوں نے اس تحریر کو پڑھا ہی نہیں تھا وہ سب بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتے رہے اور کہا جاتا رہا کہ ملالہ کو گولی مارنے اور ذخمی کرنے کا واقعہ ڈرامہ نکلا۔ ایک عرصے تک سوشل میڈیا میں اس بیانیہ کو خوب اجاگر کیا جاتا رہا۔ انگریزی روزنامہ اس صورتحال سے کافی پریشان ہوا اور پھر ان کو اس تحریر کے آغاز میں ہی اپنا وضاحتی نوٹ بھی لکھنا پڑا۔ جس میں زور دیکر کہا گیا کہ کہ یہ تحریر محض ایک طنزیہ تحریر ہے لہذا اس کو حقیقت نہ سمجھا جائے۔

طنزومزاح ادب کی ایک اہم صنف سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کی تقریبا تمام زبانوں میں طنزو مزاح کی روایت موجود ہے۔ انگریزی کے مشہور مزاح نگار اسٹیفن لی کاک نے اپنی کتاب ہیومر اینڈ ہیومنٹی میں ادب کی اس اہم صنف طنز و مزاح پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اردو شاعری اور نثر دونوں میں اس کی روایت بہت پرانی ہے۔ اردو نثر میں پطرس بخاری، ڈپٹی نذیر احمد، شفیق الرحمان اورمشتاق احمد یوسفی جیسے بڑے نام گزرے ہیں جو اپنی تحریروں کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے تھے۔اردو مزاحیہ شاعری میں اسد اللہ غالب سے لیکر موجودہ دور میں ا نور مسعود تک بڑے نام ہیں۔

طنزو مزاح میں شاعر، ادیب یا لکھاری اپنی بات اس انداز میں پیس کرتا ہے کہ پڑھنے والے تک اصل پیغام بھی پہنچے اور وہ لطف اندوز بھی ہو۔ ادب کی اس صنف میں لکھاری ان تمام کرداروں کو استعاروں، تشبیہات اور اشاروں گنایوں میں بے نقاب کرتا ہے جن کا عام حالات میں کھل کر ذکر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

بدقسمتی سے کتاب سے دوری اور ذوق مطالعہ کے فقدان کے سبب آج کی نسل طنزو مزاح کو سمجھنے میں دقت محسوس کرتی ہے۔ ہمارے ہاں عام آدمی کو انگریزی کی طنزو مزاح کا سمجھ میں نہ آنا فطری بات ہے کیونکہ زیادہ تر لوگوں کاذریعہ تعلیم انگریزی نہیں رہا ہے۔ مگر ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اردو میں لکھی ہوئی طنزومزاح کی تحریر کو بھی نہیں سمجھتی ہے۔ آج کی نسل نہ تو صحیح معنوں میں اردو میں شغف رکھتی ہے اور نہ ہی انگریزی میں۔دونوں زبانوں میں سطحی شدبد پر اکتفا کیا جاتا ہے۔جس میں انٹر نیٹ کے غلط استعمال کا کلیدی کردار ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو کتا ب سے دور کردیا ہے۔ پہلے زمانے میں لوگ تفریح طبع کے لئے بھی طنزو مزاح کی تحریروں کا انتخاب کرتے تھے۔اب لوگ یو ٹیوب میں بے تکی چیزیں دیکھ کر وقت ضائع کرتے ہیں جس کی وجہ سے کتا ب سے رشتہ ختم ہوگیا ہے۔ پھر ان کو غلط فہمی بھی ہے کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ آج اکثر لکھاری جب طنزو مزاح میں طبع آزمائی کرتے ہیں تو قارئین کا ردعمل انتہائی مایوس کن ہوتاہے جو کہ لکھاری کو دوبارہ سنجیدہ تحریر کی طرف لوٹ آنے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک مزاحیہ تحریر شائع ہونے کے بعد قارئین کو سمھجانے کی غرض سے اس کی تشریح کر نی پڑتی ہے اور اس موضوع پر ایک سنجیدہ تحریر کی اضافی مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ وقت کے ساتھ طنزومزاح کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے۔

آج کے قاری کی ڈیمانڈ ہے کہ بات سیدھی کی جائے، گھما پھیرا کر نہ کی جائے۔ تشبیہ اوراستعارہ کا استعمال ان کو غیر ضروری عمل لگتا ہے۔ سوچ اتنی سطحی اور ناپختہ ہے کہ بات سیدھی ہے تو سمجھ آجاتی ہے اور اگر زراء برابر بھی ادبی پیرائے میں بات کی جائے تو ان کے سر کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اس لئے ادب بھی سطحی شکل اختیار کر گیا ہے۔ نہ تو الفاظ کا چنا و اہم رہا ہے اور نہ جملوں کا تسلسل اور نہ ہی مفہوم کی گہرائی۔ آج کی نسل کا ماننا ہے کہ گالی دینی ہے تو حسن نثار کی طر ح کھل کر اور دوٹوک گالی دی جائے نہیں توعثمان بزدار کی طرح خاموشی اختیار کی جائے۔ درمیانی راستہ نامنظور ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments