“شمالی پاکستان کی قومیتوں میں ثقافتی و نسلی تکثریت کا فروغ” کے عنوان سے بالائی کوہستان میں جرگے کا انعقاد

کوہستان (نامہ نگار) ضلع اپر کوہستان کے صدر مقام داسو اور مرکزی شہر کمیلہ کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں ادارہ برائے تعمیر و ترقی کے زیر اہتمام ”شمالی پاکستان کی قومیتوں میں ثقافتی و نسلی تکثریت کا فروغ ” کے عنوان سے جرگے کا انعقاد کیا گیا جہاں ضلع کولئی پالس ، ضلع لوئر کوہستان اور ضلع اپر کوہستان کے باسیوں نے بھرپور شرکت کی۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے فاونڈر زبیر توروالی نے کہا کہ ان جیسے کانفرنسوں سے علاقائی ثقافت اور ہم آہنگی کے فروغ میں مدد ملے گی اور تینوں کوہستانوں کی نمائندگی سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ تمام لوگ اپنے علاقوں میں امن اور بھائی چارگی چاہتے ہیں۔انہوں نے کانفرنس پہ سیر حاصل گفتگو کی اور کہا کہ ادارہ برائے تعلیم و ترقی شمالی پاکستان کے باسیوں کی مشاورت اُن کی ثقافت امن و بھائی چارگی میں کردار ادا کریگی۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آر سی لوئر کوہستان کے چئیرمین مولانا کریمداد نے کہا کہ علاقائی پائیدار امن و بھائی چارگی کیلئے ضروری ہے تینوں اضلاع کے مشران کو اس عمل میں شامل کریں ،جس کیلئے میں بذات خود کردار ادا کرونگا۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی تو نہیں مگر خواتین کا نوکری کرنا جائیز نہیں ۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کی نوٹ سپیکر انجینئر جنیدالرحمن اس نتیجے پر پہنچے کہ ہم اناپرستی کو چھوڑ دیں تو مسائل جنم نہیں لیں گے انہوں نے تینوں اضلاع میں لیڈر شپ کا فقدان قراردیا اور کہا کہ ایسے پروگراموں کے ذریعے ہم امن وبھائی چارگی کو فروغ دیں گے۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ برائے تعمیر و ترقی کے کو فاونڈر آفتاب احمد انجل نے کہا کہ ہمیں یہ موقع انتہائی خوشی کا ہے ہم اپنے مسائل اپنی دہلیز پر حل کررہے ہیں اور تینوں کوہستانوں سے مشران ، سماجی کارکنان ، علما اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگراموں کے ذریعے مسائل کی نشاندہی اور اُن کا حل نکالیں گے۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی قاری محمد سعید نے کہا کوہستان کے مسائل میں ایک مسلہ تعصب کا ہے ، ہمیں ترقی کے راستے پر چلنے کیلئے تعصب کو پس پشت ڈالنا ہوگا ہوگا ، انہوں نے قرعہ اندازی کے ذریعے ممبران کے چناو پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایسے حالات ہوئے تو کوہستان کبھی ترقی نہیں کر پائے گا۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی شمس الرحمن شمس نے کہا کہ مسائل کیا ہیں ، کہاں ہیں اور اُن کا حل کیا ہے؟ ہمیں سب معلوم ہے ہم جرگوں میں شمولیت کرکے ان مسائل کو حل کرنے کا جذبہ تو دکھاتے ہیں مگر یہاں سے جانے کے بعد ہم بھول جاتے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مسائل کے حل کیلئے مستقل لائحہ عمل طے کرکے عملی اقدامات کئے جائیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments