پہاڑ اور چراگاہ – دوسری قسط

کلاشھے دن اوسم یا کلاشھو بورتھ لکھینی:  یہ بھی سلطان آباد کے حدود میں ایک چھوٹی مگر عمودی پہاڑی ہے۔ سی پہاڑی ہے جو کہ بالکل عمودی قسم کا ہے اور مشکل سے کوئی شخص ہاتھ پاؤں کے ناخن سے ہی پگڑسکتا ہے یعنی اس میں بالکل معمولی اُبھری ہوئی  دندانے جیسے حصے ہیں ایک عام انسا ن اس پہاڑ پر چڑھنے کی سوچ بھی نہیں سکتا ہے اس پہاڑ کی اونچائی کے تقریباََ تین چوتھائی حصے پر جاکر ایک سوراخ ہے اس سوراخ میں تین پتھر رکھے ہوے ہیں کافی اونچائی پر ہے صحیح  اندازہ لگانا تو مشکل ہے لیکن قیاص ہے کہ ہر پتھر کی موٹائی تقریباََ چھ انچ کے قریب ہے بزر گوں سے سنا ہے کہ کسی زمانے میں ایک راجہ کے پاس ایک کلاشھ جن کو کلاش کہا جاتا ہے نوکر یا غلام تھا  وہ شخص بہت ہوشیار، بہادر اور محنتی بندہ تھا اور ایک دن راجہ اپنے علاقے کے دورے کے لئے نکلا تو اس پہاڑ کے نیچے جا کر جب اوپر دیکھا تو اس کو یہ سوراخ نظر آیا اور  اس راجہ کو خیال آیا کہ کیا کوئی ایسا شخص ہو گا جو اس سوراخ میں پتھر لے جاکر رکھے، راجہ یا مہتر نے گھوڑے کی لگا م کھینچی اور سارے لوگ بھی یہ دیکھ کر رک گئے تو راجہ نے علان کیا کو کوئی ہے جو یہ کام کر سکے تو سب لوگ خاموش ہو گئے لیکن اس کلاش غلام نے عرض کہ اگر کوئی یہ کام کرے تو حضور کیا انعام دیں گے تو راجہ نے بر جستہ کہا کہ اگر تم یہ کام کر دیکھاؤ تو پھر میرے اس گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے گھر چلے جاؤ اور یہ تمھاراکام کا  انعام اور کہا کہ گھوڑے کو جل پوش ڈال کر سوار کر کے تمھیں آزاد کرونگا، تو سب لوگوں نے یہ بات سن لی اور اس کلاشہ بندے نے انداہ لگایا اور یہ تین پتھر اُٹھایا اور شوقہ پر کمربند باند ھ کر ان پتھروں کو شوقہ اور اپنی جسم کے درمیان میں رکھا اور اوپر چڑھ گیا  اور اُ س سوراخ میں ان تین پتھروں کو رکھا اور پھر واپس نیچے آنے کی بجا ئے اوپر چڑھ گیا اور دوسری جانب سے نیچے اتر کر راجہ کے پاس آگیا اور راجہ اس کی اس کارکردگی پر بہت خوش ہوا۔ اپنے وعدے کے مطابق گھوڑا جال پوش ڈال کر اور خلعت سے نواز کر اُسے اپنے علاقہ جانے کی اجازت دی، اس کلاش کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے بھی لگائی جا سکتی ہے کہ اس نے ایک اندازے کے مطابق ایسے تین پتھر چن لیا گویا  اس سوراخ ہی سے گرے تھے یا اسی مقصد کے لئے ہی تھے، جب اُس سوراخ میں وہ پتھر رکھا تو سوراخ بند ہو گیا اور آج بھی وہ پتھر اُس بے نام کلاش کی یاد کو تازہ کرتی ہیں

وری بسہ کیشھ یا بسہ کِش:   یہ ایک چھوٹا سا غار ہے جو کہ ہویلتی کے دونوں کوہلوں میں سے بالا کوہل جس کو تھمو دلہہ یعنی راجے کا نہر کہا جاتا ہے کے کنارے پہاڑ کے دامن میں ہے۔ ان نہروں یا کوہلوں میں جب یاسین کی مشہور تہوار بو یایوم یا  بی گنیک  (جشن بہاراں) کے بعد بھل صفائی یعنی ان  نہرون کی صفائی کے بعدکسی نیک ساعت کا تعین کیا جاکرہویلتی اور تھاوس یعنی طاوس کی عوام اجتماعی طور پر اس رسم چل دیچم میں شرکت کرتے ہیں اور کسی عالم سے دعا کرا کر کسی فتاکِن سے پانی کو ان نہروں میں چھوڑا جاتا ہے اور اسی روز ان  کوہلوں کی نگرانی کے لئے دودو بندے مقرر کئے جاتے ہین تاکہ وہ ان نہروں کی حفاظت کرے اور کسی بھی ناگہانی حادثہ سے بچا جا سکے ان میں سے ایک ایک ہویلتی سے اور ایک ایک طاوس سے مقرر کیا جاتا ہے اور سالانہ فصل اُٹھانے اور تھریشنگ یعنی بریچم کے بعد ایک ایک چھق یعنی تقریباََ دس دس کلو گندم یا مکئی کا دانہ دیاجاتاہے اور اس طرح ایک ذخیم ذخیرہ ان کے پاس جمع ہو جاتا ہے اور وہ آپس میں تقسیم کرتے ہیں، ان چوکیداروں  دلہہ ول یا دلہہ یٹکوئن کہا جاتا ہے  یہ رسم اس دن سے جاری ہے جب ان نہروں کو کھودا جاکر ان میں پانی کا اجراء ہوا، ان دلہہ ول میں سے ایک بندہ بہت مشہور تھا جس کا نام وری تھا اور وہ تقریباََ چوبیس گھنٹے اس کام کی نگرانی کیا کرتا تھا اور رات کو اس غا ر میں رات  گذارتا تھا اور دن کو اس میں سستایا کرتا تھا اس لئے اس غار کا نام بھی اس عظیم بندے کے نام سے وری بسہ کیش پر گیا یعنی وری کے رہنے کی جگہ۔

گلینگ:  گلینگ اس پکڈنڈی کوکہاجاتا ہے، جو کسی پہار یاپہاڑی کو عبور کر نے کے لئے پاؤں رکھنے کے جگہ بناک راستہ کی شکل دی جائے اور آہستہ آہستہ ایک پکڈنڈی کی شکل اختیا ر کرے، یہ ہویلتی اور تھوئی یا توئی کے درمیان حد فاضل بھی ہے یعنی یہ جگہ ہویلتی اور تھوئی کی بونڈری لائن ہے، راجگی نطام جب تک قائم رہا اس وقت تک اگر گلگت سے کوئی لاش اگر لائی جاتی تو طاوس بر کے نیچے ایک زیارت تھی وہاں سے اس گلنگ تک ہویلتی سلطان آباد والوں کی ڈیوٹی تھی کہ وہ اس لاش کو اس گلنگ تک پہنچاتے اور وہاں سے تھوئی کی طرف تھوئی کے لوگ آکر لے جاتے اسی طرح اگر راجہ  یا کوئی مہاراجہ یا انگریز افیسر کا دورہ ہوتا تو تب بھی حدود تقسیم تھے اپنی اپنی حدود میں راستے کی صفائی کی جاتی تو ہویلتی والے تھاوس زیارت سے گلینگ تک راستہ بھیبناتے اور صفائی  بھی رکھنے کی ذمہ داری تھی۔، لیکن سلطان آباد والوں کی سستی کی وجہ سے طاوس رت اور گلنگ سے اس طرف کا زمین بھی دوسروں نے قبضہ کیا  ورنہ حق تو یہ تھا کہ حق ادا نہ ہو ا کے مصداق سلطان آباد کی زمین ہاتھوں سے نکل گئی۔

بکٹیلی: بکٹ بروشاسکی میں پٹسن کو کہا جاتا ہے یہ ایک جنگل کا نام ہے اس جنگل میں پٹسن کی کثرت تھی اور کہا جاتا ہے یہ جنگل نہت زیادہ آباد تھا اور اتنا گھنا تھا کہ اونٹ گھم جاتے تھے اور برکولتی تک اس کے حدود پھیلے ہوے تھے، اس میں پٹسن کے علاوہ سیبک تھرون کے بڑے برے درخت تھے اور ہویلتی کے لوگ چراگاہ اور لکڑی میں کفیل تھے۔ یہ جنگل جو کہ سلطان آبادہویلتی والوں کی چراگاہ تھی اور دوری امان برادر گوہرآمان کی قبضے میں تھی کہتے ہیں جب وہ مستوج کی گورنری چھوڑ کر یاسین آیا تو ہویلتی کا یہ جنگل اور اس سے ملحقہ ایک قطعہ اراضی اسے پسند آیا اور وہ یہی کا ہو کر رہ گیا اور اس جنگل میں وہ پانی کے تالاب بناکر مرغابیوں کا شکار کرتا تھا اور پہاڑوں پر رامچکور (بُھلا)، خرگوش اور چکور وغیرہ کا شکار کرتا تھا، بعد میں اسی بندوق سے ڈوگرہ فوج کے خلاف ایک حریت پسند کی حثیت سے مقابلا کرتے ہوے مڈوری کے قلعے کے زیرین حصے میں شہیدہوے اور ایک دو عشرے پہلے تک سلطان آباد کے عوام اور الاد، دریامان مل کر اس چراگاہ کو  زیر استعمال لاتے تھے، لیکن پھر ان کے درمیان شدید اختلافات ہوے اور ابھی اس کی حالت بھی خستہ ہے اور نہ بکٹ ہے اور نہ ہی سیبک تھرون رہے ہر طرف سے دریائے تھوئی نے کاٹ کاٹ کر بنجر بنادیا اور سفید پتھر اور ریت ہی ریت نظر آتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments