پاکستان کے زیر انتظام ناردرن ایریاز میں 1950سے 1994 تک اصلاحات کی کہانی

تحریر۔اشفاق احمد ایڈوکیٹ

پانچ اگست 2019 کو مودی سرکار نے جب انڈین زیر کنٹرول جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس واقعے کے فوراً بعد پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں متوقع تبدیلی کے بابت پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ انکی حکومت گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کررہی جس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف متاثر ہو البتہ انہوں نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو محض احساس شمولیت دی ہے۔

 وزیر خارجہ کے اس بیان کے ردعمل میں گلگت بلتستان کے عوام یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اگر مسئلہ کشمیر مزید ایک ہزار سال تک حل نہیں ہوا تو کیا اس بات کو جواز بنا کر گلگت بلتستان کے بیس لاکھ عوام کو بنیادی انسانی جمہوری حقوق سے محروم رکھا جائے گا اور محض احساس شمولیت ہی دی جائے گی؟

کیا اکیسویں صدی میں اس خطے کی نئی نسل کو اب محض احساس شمولیت والی کہانیوں سے ٹالنا ممکن ہے؟

   احساس شمولیت والی کہانی بیسویں صدی کے وسط میں اس وقت سے شروع ہوئی جب حکومت پاکستان نے 28 اپریل 1949 میں معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول حاصل کرنے کے فوراً بعد یہاں ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کیا جو 1974 تک جاری رہا اور اس خطے کی پسماندگی کا باعث بنا رہا۔

  جس کے بابت انٹرنیشنل کرائسس گروپ ایشیا ریورٹ نمبر 131 کے صفحہ نمبر 5 میں لکھا گیا ہے کہ تنازعہ کشمیر سے منسلک علاقوں کو ڈیل کرنے کے لئے سال 1950 میں پاکستان کی منسٹری آف کشمیر آفیرز کا قیام عمل میں لایا گیا۔

 اس کے بعد منسٹری آف کشمیر آفیرز اور ناردرن ایریاز قائم کی گئی جس نے گلگت ایجنسی بشمول بلتستان کے انتظامی معاملات کا کنٹرول سنبھالا اور اس کے ساتھ ہی حکومت پاکستان نے اس ریجن کا نام بدل کر فیڈرل ایڈمنسٹرڑ ناردرن ایریاز رکھا مگر   بدستور بضد رہے کہ یہ علاقہ متنازعہ ریاست جموں وکشمیر کا حصہ ہے اس لئے اس خطے کی آئینی حیثیت کی تعین کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل تک انتظار کیا جائے ۔اسی پالیسی کی وجہ سے گلگت بلتستان کو پاکستان کے تیسرے آئین یعنی موجودہ آئین میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔

  انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی 2 اپریل 2007 میں شائع کی گئی  ایشیا رپورٹ نمبر 131 میں حکومت پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان میں متعارف کروائے گئے اصلاحات کا تفصیلی ذکر  بعنوان    Discord in Pakistan,s Northern    Areas .

میں کیا گیا ہے ۔

اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر کے برعکس مختلف طریقے سے اصلاحات کی گئیں اور تاج برطانیہ کے مرکزیت پر مبنی ماڈل پر عمل کرتے ہوئے پہلے ایک پولیٹیکل ایجنٹ کو اس خطے کی زمہ داریاں سونپی گئی پھر NWFP صوبہ سرحد کے انتظامی کنٹرول میں دیا گیا۔

 1950 میں گلگت ایجنسی اور بلتستان کو FATA کے انڈر دیا گیا اور ایف سی آر نافذ کیا گیا۔

مقامی حکمرانوں کو گرانٹ ، امدادی رقم ادا کرکے نامزد کیا گیا ساتھ ہی انہیں اپنے قلمرو میں عوام سے مالیہ وصول کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔

جبکہ ہنرہ اور نگر کے حکمرانوں کو اپنی ریاستوں میں executive, judicial, legislative اختیارات معاہدے کے تحت دیے گئے کہ وہ ان اختیارات کا استعمال پولیٹیکل ایجنٹ کی احکامات کے مطابق کرسکتے تھے۔

1952 میں وفاق پاکستان میں KANA کے جوائنٹ سیکریٹری جو کہ درمیانے درجے کے ایک سول سرونٹ ہوتے تھے انہیں بحثیت پولیٹیکل ایجنٹ ناردرن ایریاز کے انتظامی معاملات چلانے کے اضافی اختیارات دیے گئے۔

یہ انتظام سال 1967 تک برقرار رکھا گیا جب ناردرن ایریاز کا دارالخلافہ گلگت میں پولیٹیکل ریزیڈنٹ برائے ناردرن ایریاز کا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا۔

وفاق کے نمائندے کے طور پر ریزیڈنٹ کے پاس بےپناہ اختیارات تھے جو مقامی انتظامیہ کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس خطے میں ایف سی آر کے نفاذ کا زمہ دار بھی تھا۔ساتھ ہی وہ فایننشل اور ریونیو سے متعلق معاملات کا زمہ دار بھی تھے۔

وفاق کی طرف سے گلگت اور بلتستان کے لیے مقرر دو پولیٹیکل ایجنٹس ریزیڈنٹ صاحب کی مدد کرتے تھے۔

وفاقی حکومت کے مشورہ سے ریزیڈنٹ  ناردرن ایریاز کے لیے قانون سازی کرنے کے بھی مجاز تھے۔

اس کے بعد پاکستان کے دوسرے فوجی حکمران جنرل یحیٰی خان صاحب نے سال 1969 میں ناردرن ایریاز ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل میں لایا مگر اس کے پاس قانون سازی کے کوئی اختیار نہیں تھے بلکہ وہ دراصل ریزیڈنٹ صاحب کی ماتحت تھی۔

اس کے بعد پاکستان کے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جمہوری اور انتظامی اصلاحات متعارف کروایا گیا، ایف سی آر کے خلاف مقامی تحریک کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان سے ایجنسی سسٹم بشمول Hereditary Princess راجگی نظام اور ایف سی آر کا خاتمہ کیا اور پاکستان کے طرز پر گلگت بلتستان میں بھی اضلاع کی بنیاد رکھی گئی اور متبادل نظام کے طور پر ریزیڈنٹ صاحب کو بدل ریزیڈنٹ کمشنر بنایا گیا اور پولیٹیکل ایجنٹس کو بدل کر ڈپٹی کمشنر بنایا گیا۔

ناردرن ایریاز ایڈوائزری کونسل کی جگہ سال 1975 میں ناردرن ایریاز کونسل بنائی گئی۔

اسی دوران ناردرن ایریاز میں پہلی بار عدالتی نظام قائم کرکے دو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے اوپر ایک جوڈیشل کمشنر بطور عدالت اپیل قائم کیا گیا۔

 اسی دور میں ہنزہ اور نگر کی نیم خودمختار شاہی ریاستوں کو ختم کر دیا گیا جو آج کل دو اضلاح بن گئے ہیں۔

اسی دوران ناردرن ایریاز یعنی گلگت بلتستان میں انتظامی سٹرکچر تو تبدیل کیا گیا مگر آزاد کشمیر طرز پر گلگت بلتستان میں ادارے قائم نہیں کئے گئے

 جس طرح سال 1970 میں آزاد جموں وکشمیر گورنمنٹ ایکٹ 1970 میں آئینی ترمیم کیا گیا اور  آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو ایک جمہوری نظام اور ایک آئین دیا گیا جو آزاد جموں و کشمیر کا عبوری آئین 1974 کہلاتا ہے۔

جس کے تحت ان کا اپنا صدر ،وزیراعظم اور قانون ساز اسمبلی ، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ پبلک سروس کمیشن اور یہاں تک کہ ان کا اپنا ایک الگ جھنڈا اور قومی ترانہ بھی ہے اور گلگت بلتستان کے برعکس وہاں باشندہ ریاست کا قانون یعنی سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بھی بدستور برقرار رکھا گیا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی اس رپورٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک کے پارلیمانی نظام کی طرح آزاد کشمیر کے عوام اپنی قانون ساز اسمبلی کے ممبران کا چناؤ بالغ حق رائے دہی سے کرتے ہیں۔

حکومت پاکستان صرف دفاع، فارن پالیسی اور کمیونیکیشن کو بذریعہ آزاد جموں وکشمیر کونسل اور KANA کے ذریعے سے کنٹرول کرتی ہے مگر آزاد جموں وکشمیر کی حکومت بہت سارے معاملات میں اندرونی طور پر خودمختار ہے۔

دوسری طرف آزاد کشمیر کے بلکل برعکس گلگت بلتستان کو  آئین سے محروم رکھا گیا بلکہ آئین کی بجائے KANA ڈویژن نے 1994 میں لیگل فریم ورک آرڈر کو یہاں مسلط کیا اور عوامی رائے پوچھے بغیر  ناردرن ایریاز رولز آف بزنس 1994 جو بنیادی قانون کے طور پر کام کرتا تھا کو بھی KANA  ڈویثرن کا ایک وفاقی وزیرِ بطور انتظامیہ کے سربراہ لاگو کیا تھا”۔

 دوسری طرف جب سال   1977 میں جنرل ضیا الحق نے پاکستان میں مارشل لاء نافذ کیا تو انہوں آزاد جموں وکشمیر میں مارشل نافذ نہیں کیا مگر گلگت بلتستان کو زون ای ڈیکلیئر کرکے یہاں  مارشل لاء بھی نافذ کیا۔

انہوں نے سال 1882 میں گلگت بلتستان کے دو افراد کو بطور مبصر اپنی مجلس شوریٰ میں نمایندگی بھی دے دی ۔

سال 1994 میں بینظیر بھٹو نے اپنی دور حکومت میں یہاں سیاسی اور جوڈیشل ریفارمز کیے اور ناردرن ایریاز کونسل کا نام بدل کر ناردرن ایریاز لیجسلیٹو کونسل رکھا۔

اصلاحات کے نتیجے میں کونسل کے ممبران کی تعداد بڑھا کر 26 کیا جن میں عورتوں کے لئے بھی دو نشستیں مقرر کیا۔

اس کے ساتھ ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور پانچ ایڈوائزرز کے عہدوں کو بھی تخلیق کیا اور جوڈیشل کمیشنر کے عہدے کو ختم کرکے پہلی بار چیف کورٹ کاقیام عمل میں لایا جوکہ ایک چیرمین اور دو ججوں پر مشتمل ہوتا تھا۔

 اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کو دی گئی  احساس شمولیت کی پالیسی کے تحت حکومت پاکستان نے بذریعہ کشمیر افیرز اور ناردرن ایریاز ڈویژن 12 جون 1994 میں 9 صحفات  22 شقوں پر مشتمل ایک حکم نامہ جاری کیا ۔

جس میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے  ناردرن ایریاز ( گلگت بلتستان) میں جمہوری اداروں کے قیام اور عوام کو اپنے معاملات میں احساس شمولیت کے لئے ایک آرڈر جاری کیا ہے ۔

 اس آرڈر کے آرٹیکل 1 میں دی گئی تعریف کے تحت یہ حکم نامہ ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر 1994 کہلاتا ہے۔

 اس آرڈر کے آرٹیکل 2 کے تحت ناردرن ایریاز   کونسل کے چیئرمین کو چیف ایگزیکٹو کا نام دیا گیا جوکہ وفاقی وزیر برائے کشمیر افیر اور ناردرن ایریاز تھا۔

 کونسل کے چیف ایگزیکٹو کو حکومت پاکستان نامزد کرتی تھی جبکہ اس آرڈر کے رولز آف بزنس کے آرٹیکل 5 کے تحت وہ ہیڈ آف گورنمنٹ یعنی ناردرن ایریاز کی حکومت کا سربراہ ہوتا تھا۔

 کونسل فار ناردرن ایریاز کے کل منتخب آراکین کی تعداد 24 تھی جو اکثریتی رائے سے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کا انتخاب کرتے تھے جو بہت محدود اختیارات کا مالک تھا۔

کونسل کو مقررہ مدت پانچ سال پوری کرنے سے قبل ہی ممبران دو تہائی اکثریت سے تحلیل کرسکتے تھے  ساتھ ہی اگر حکومت پاکستان کسی بھی وقت یہ سمجھتی کہ کونسل ارڑر کے تحت کام کرنے میں ناکام رہی ہے تو آرٹیکل 9 کے تحت کونسل کو تحلیل کرسکتی تھی۔

اس آرڈر کے تحت عوامی نمائندوں کے حلقہ انتخاب کی بانڈریز طے کرنے کا اختیار کمشنر کے پاس تھا جس کے فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ لیگل فریم ورک آرڈر 1994کے آرٹیکل 17 میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حکومت پاکستان UNCIP کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے پیش نظر کونسل کو مندرجہ زیل اختیارات تفویض کرتی ہے جوکہ یہ ہیں۔

1. ناردرن ایریاز کونسل ایسے قوانین بناسکتی ہے جو میونسپل لیول کے ہوں اور جنھیں حکومت پاکستان نے وضح کیے ہوں۔

2.ناردرن ایریاز کی ایڈمنسٹریشن سے متعلق معاملات میں بہتری کے بابت  مشورے دے۔

3.لوکل باڈیز پر صوبائی حکومت کو مشورہ دے۔ واضح رہے کہ اس آرڈر کے آرٹیکل 2 ( j ) کے تحت صوبائی حکومت سے مراد چیف ایگزیکٹو، ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور چیف سیکرٹری ناردرن ایریاز تھے”۔

4.ترقیاتی سیکموں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں رکھنے یا ترجیح بنیادوں پر  پانچ سالہ پروگرام میں شامل یا خارج کروانا تھا۔

5 ۔مختلف ترقیاتی منصوبوں اور پروجیکٹس پر جاری کام کا جائزہ لینا۔

6.ترقیاتی سکیموں کی اجازت دینا۔

7.ایسے تمام کام کرنے کے بابت تمام اختیارات  استعمال کرنا جو پاورز پاکستان میں لوکل کونسلوں کو حاصل ہیں۔

آرٹیکل 20 کے تحت اس آرڈر کی validity کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا، جس طرح آرڈر 2009 ، 2018 اور 2019  کو گلگت بلتستان کے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اس انتظامی حکم نامے کے آرٹیکل 22 کےتحت ناردرن ایریاز کونسل لیگل فریم ورک آرڈر 1975 کو معطل کردیا گیا۔

آخر میں اس لیگل فریم ورک آرڈر کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ اسکو جلال الدین شاہ نامی ایک جوائنٹ سیکرٹری برائے حکومت پاکستان منسٹری آف کشمیر افیرز اور ناردرن ایریاز اسلام آباد نے اپنے دستخط سے جاری فرمایا تھا۔

قصہ مختصر آزاد کشمیر کے نظام کے بلکل برعکس گلگت بلتستان میں سال 1950 سے 1974 تک ایف سی آر کا کالا قانون نافذ رہا پھر  آئین پاکستان میں شامل کرنے کی بجائے محض احساس شمولیت کے نام پر آرڈر پر آرڈرز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔

  اس لئے کوہ ہمالیہ، کوہ ہندوکش اور کوہ قراقرم کے دامن میں واقع یہ خوبصورت خطہ عام طور  سر زمین بےآئین بھی کہلاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments