سفر نامہ: گاہکوچ سے چین تک …… قسط (3)

 تحریر:۔دردانہ شیر

برف باری نے ہمیں سخت پریشان کرکے رکھ دیا تھا اوپر سے سوست کی لہو جمانے والی سردی سے ہمارا برا حال ہوگیا تھا رات گئے تک برف باری کا سلسلہ جاری تھاصج جاوید بھائی شاید کچھ جلدی سے جاگے تھے اس لئے باہر موسم کے جائزہ لیا ہوگا مجھے آکر جاگیا اور اور کہا کہ بھائی برف باری تو تھم گئی ہے البتہ برف کافی پڑی ہے ہمیں عزیزم ندیم علی رفع نے بتایا تھا کہ نو بجے تک سوست امیگریشن کے دفتر پہنچنا ہے اس لئے ہم نے جلدی سے ناشتہ کیا اور اپنے روم سے سامان اٹھائے امیگریشن کے دفتر کی طرف روانہ ہوگئے مین روڈ پر آئے ہی تھے کہ ایک کار ہمارے سامنے آکر رک گئی کار کے اندر سے ایک بندہ نے آواز لگائی دردانہ بھائی کہا گھوم رہے ہیں میری نظر گوجال کے مشہور کاروباری شخصیت رضوان کریم پر پڑی جس سے میری تین سال قبل چائینہ میں ملاقات ہوئی تھی وہ گاڑی سے نیچے اُترے انھیں ہم نے اپنے سفر کے بارے میں بتایا تو وہ بہت خوش ہوگئے اچھا ہوا مجھے ہمسفر مل گئے میں بھی چائنہ جارہا ہوں البتہ آج موسم کچھ ٹھیک نہیں ہے اس لئے ہمیں بڑی گاڑی میں چائینہ جانا ہوگا انھوں نے اس دوران کسی بندے کو فون کیا اور کہا کہ میرے دو دوست بھی چائنہ جارہے ہیں ان کے لئے بھی سیٹیں رکھ دو ہم برادرم رضوان کی کار میں سوار ہوگئے اور سوست امیگریشن پہنچے تو مسافروں کا بہت زیادہ رش تھا ہم بھی اپنے بیگ لیکر امیگریشن کے آفس میں داخل ہوگئے ایک کونٹر پر ایک صاحب پولیو کے قطریں پلانے بیٹھ گیا تھا ہم سے پوچھنے لگا کہ آپ پہلی بار چائنہ جارہے ہو میں اور رضوان بھائی نے موصوف کو بتایا کہ ہم کئی بار چائنہ جاچکے ہیں اور پولیو کا کارڈ بھی موصوف کو دیکھا یا البتہ جاوید بھائی پہلی بار چائنہ جارہا تھا انھیں پولیو کے تین قطریں پلائے گئے اور کارڈ بنایا گیا کوئی ساڑھے دس بجے ہم اپنے بس میں سوار ہوچکے تھے عزیزم ندیم علی نے ہمیں رخصت کیا اب ہماری گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی روڈ پر برف پڑی ہوئی تھی ہم ڈرے ہوئے تھے کہ سوست میں اتنی برف پڑی ہے تو خنجراب میں کیا حالت ہوگی برادرم رضوان نے ہمیں بس کی دو اور تین نمبر کی سیٹیں دلا دی تھی بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی کوئی آدھے گھنٹے کی مسافت پر خنجراب نیشنل پارک کے بیرل میں ہماری گاڑی کو روک دی گئی اور بتایا گیا کہ فی سواری نے پچاس روپے جمع کرانے ہیں اور کوئی غیر ملکی ہے تو وہ دس ڈالر ادا کر دیں تمام مسافروں پیسے ادا کر دئیے تھے مگر ایک مسافر نے یہ کہہ کر پچاس روپے دینے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ خنجراب نیشل پارک میں جنگی حیات نظر نہیں آتے تو ایسے میں فیس کس بات کی لی جاتی ہے بیرل میں تعینات اہلکار اور مسافر کے درمیان گاڑی میں کافی دیر تک تکرار جاری رہی ہم نے بھی اپنے ہم سفر ساتھی کو زور دیا مگر وہ مسلسل انکار کر رہا تھا جس پر مزید اہلکار بس میں داخل ہوگئے اور کہا کہ فیس نہیں دینا ہے تو چائینہ بھی نہیں جاسکتے انھیں گاڑی سے اُتردیا گیا کوئی دس منٹ کے بعد مزکورہ شخص بس میں سوار ہوگیا چہرے سے اندازہ لگایا کہ موصوف نے فیس پوری ادا کرکے گاڑی میں سوار ہوئے تھے اس مسافر کی وجہ سے نصف گھنٹہ ہمارا ضائع ہوگیا برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی تھی ابھی ہم نے کوبیس منٹ کا سفر ہی طے کیا ہو گا روڈ کے کنارے ہمیں آئی بکس کے ریوڑ نظر آئے ہم نے اپنے اس دوست کو بتایا دیکھ جناب آپ کہہ رہے تھے کہ جنگلی حیات نظر نہیں آتے تو پھر اتنے سارے مارخور کہاں سے آئے مسلسل برف باری ہورہے تھی کئی جہگوں پر کنٹینراور چھوٹی گاڑیاں پھسل گئے تھے کوئی ایک بجے کے قریب ہم چائینہ کے بارڈر میں داخل ہوگئے مجھے اندازہ تھا اس بار پھر چائنہ کی پولیس نہ صرف ہمارے موبائل بلکہ ہمارے ساتھ موجود سامان کی سخت چیکنگ کریگی بارڈر میں موجود چائینہ پولیس نے ہماری گاڑی پہنچتے ہی اس کو مین گیٹ کھول دیا تمام مسافر ایک ایک ہوکر بس سے نیچے اُتر گئے مگر اس دفعہ میں نے چائنہ پولیس کے رویے کو دیکھ کر حیران ہوگیا جو پولیس بدتمیزی کی انتہا کر رہی تھی وہ تمام مسافروں کو سر کہہ کر مخاطب ہورہے تھے میں اور جاوید بھائی جب اپنے بیگ لیکر چیکنگ والی جگہ پہنچے تو نہ تو ہمارا موبائل چیک کیا گیا اور نہ ہی سامان کی تلاشی لی گئی 2014سے ہر سال میں چائنہ جارہا ہوں مگر اس دفعہ مجھے ان کے اخلاق پر حیرت ہوئی البتہ ایک مسافر نے کوئی دس کارٹن بلائی کے لائے تھے اس کو روکا گیا تھا اور اس مسافر کی وجہ سے ہم کافی پریشان ہوگئے ہمیں پتہ چلا کہ اس وقت چین میں بلائی کی مانگ بہت زیا دہ ہے پاکستان میں بلائی کی ایک پیکٹ کوئی ایک سو دس روپے میں فروخت ہوتی ہے اور چائنہ میں اس کی قیمت 17ین ہیں جو پاکستانی روپوں میں 391روپے بنتے ہیں بہرحال کافی بحث کے بعد اس شخص کو بھی چھوڑ دیا گیا خنجراب ٹاپ پر لہو جمانے والی سردی تھی اور چائنہ حکومت نے پاکستان سے آنے والے مسافروں کے لئے بہت اچھے انتظامات کر رکھے ہیں تمام بلڈنگ میں ہیٹنگ کا بندوبست ہے جونہی ہم بلڈنگ سے باہر نکلے تو ایک طرف شدید ترین سردی اُوپر برف باری نے ہمارا برا حال کر دیا مگر جلدی ہماری بس کی بھی پولیس نے چیکنگ مکمل کرلی تھی تمام مسافر بس میں سوار ہوگئے چائنہ کی حدود میں تو برف کی گولہ باری ہورہی تھی اور بادلوں کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی اس دوران مجھے ایک مسافر بتایا کہ نصف سے زیادہ مسافر وہ ہیں جو آج چائینہ آئے ہیں کل تشقرغان سے کسی کاروباری کا سامان لیکر واپس سوست پہنچ جائینگے اس طرح انھیں ایک ٹریپ میں چار سے پانچ ہزار کی بچت ہوتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چالیس ہزار افراد کا روزگار سالانہ اس باڈر کی تجارت سے ہوتا ہے اور جس کاروباری شخص کا سامان یہ نوجوان سوست پہنچاتے ہیں تو یہ نوجوان ہزاروں روپے کماتے ہیں لیکن مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ پاکستان سے دس کارٹن بلائی لے جانے والے شخص سے اتنی پوچھ گچھ ہوتی مگر چائینہ سے آپ جتنی مرضی چاہے سامان لائے کوئی نہیں پوچھتا چونکہ مال کے بدلے مال کا دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا مگر پاکستان سے سامان لے جانے کی پابندی اور چائینہ سے مال لانے کی کھلی چھوٹ سراسر ناانصافی ہے پاکستان سے آپ لاکھوں روپے اپنے جیب میں ڈالکر لے جاسکتے ہیں مگر سامان نہیں جوکہ پاکستان کے ان کاروباری افراد کے لئے ایک ظلم سے کم نہیں ہے (جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments