کالمز

دیامر میں شجر کاری یا وقت گزاری……..

تحریر. اسلم چلاسی

دیامر گلگت بلتستان میں واحد خطہ ہے جہاں لاکھوں ایکڑ پر انتہائی قیمتی قدرتی گھنے جنگلات موجود ہیں اور یہی جنگلات کی وجہ سے یہاں پر  انتہائی نایاب جنگلی حیات بھی پاے جاتے ہیں حالانکہ گزشتہ ایک صدی سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہورہی ہے اور ساتھ میں مقامی شکاری بغیر کسی روک ٹوک کے جنگلی حیات کی نسل کشی میں بھی مصروف عمل ہیں ایک طرف جنگل کی کٹائی دوسری طرف شکاریوں کی مار دھاڑ کے باوجود بھی بالائی علاقوں کے گھنے جنگلات اور بلند پہاڑوں میں جنگلی حیات موجود ہیں مگر بد قسمتی یہ ہے کہ محکمہ جنگلات کے ناک کے نیچے  دیامر کے مختلف زیلی نالہ جات میں ہر سال لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں اور بلیک مارکیٹ میں لاکر  فروخت کرتے ہیں

مگر ان بلیکروں کے خلاف کوی کاروائی نہیں ہوتی ہے  اگر محکمہ پر عوام کی طرف سے زیادہ پریشر ہو تو بلیکروں  کے بجاے ان کے مزدوروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائ جاتی ہے اور یوں یہ بچارے مزدور محکمہ کے عتاب میں آتے ہیں جبکہ اصل لوگ محفوظ رہتے ہیں پھر کچھ دنوں کے بعد یہ لوگ وہی عمل دہراتے ہیں جس کی وجہ سے دیامر میں موجود قدرتی جنگلات و جنگلی حیات انتہائی غیر محفوظ ہیں

  دوسری ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ محکمہ جنگلات دیامر میں عملہ کی انتہائی کمی ہے مستقل عملہ تو نہ ہونے کی برابر ہے البتہ عارضی بنیادوں پر چند اہلکاروں سے خدمات لینے کی کوشش کی جاتی ہے مگر بچاروں کو کئ کئ مہینوں تک تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے اور سالوں تک خدمات لینے کے باوجود بھی مستقل نہیں کیا جاتا  جس کی وجہ سے یہ اہلکار دلجمی سے کام نہیں کرتے ایک تو داریل تانگیر سے لیکر گوہر آباد تک پھیلا ہوا وسیع و عریض علاقہ ہے اپر سے یہ چند عارضی ملازمین بھوکے پیٹ کیا تحفظ کرینگے حالانکہ پورے گلگت بلتستان کے کل قدرتی جنگلات کے نوے فیصد حصہ دیامر میں ہے ایسی تناسب سے عملہ نہیں ہے اپر سے  وفاق کی طرف سے قدرتی ماحول کی تحفظ کے نام پر جو فنڈ آتا ہے اس میں اپر والا عملہ ڈنڈی مارتا ہے نچلا طبقہ محروم رہ جاتا ہے

اور ساتھ ہی بد قسمتی یہ بھی ہے کہ محکمہ جنگلات کے دفاتر جنگل کے قریب ہونے کے بجاے شہروں میں واقع ہیں اب میلوں دور جنگل میں کچھ بھی انہونی ہو ان صاحبان کو کئی دنوں کے بعد معلوم پڑتا ہے اور یہ تشریف فرماتے ہیں تب تک کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے کبھی کبار تو ہفتوں اور کہیں کہیں مہینوں تک آگ لگنے کے حادثات ہوتے ہیں مگر اس آگ کو بجھانے کیلے کوی بندوبست نہیں ہوتی خود بجھ جائیں یا قدرت کی طرف سے تیز بارشوں کی صورت میں مہربانی ہو تو الگ بات ہے ورنا ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جاتے ہیں

ہر سال اس طرح  آگ لگنے کے کئی واقعات پیش آتے ہیں جس سے ہزاروں قیمتی درخت جل کر راکھ ہوجاتے ہیں لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں جس سے بے شمار جنگلی حیات کی نسل کشی ہوجاتی ہے اور لاتعداد جنگلی حیات نقل مکانی کر کے کوہستان کی بالا علاقوں کی گھنے جنگلات کی طرف چلے جاتے ہیں جس سے ہر سال بتدریج جنگلی حیات کی تعداد میں کمی واقع ہوتی ہے مقامی بالائ لوگوں کے مطابق گزشتہ دس سالوں کی نسبت جنگلی حیات کی تعداد میں نصف سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور یہی طرز تحفظ رہا تو یقیناً آئندہ چند عشروں میں دیامر کا قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہوگا

جو کہ انتہائ تشویشناک معاملہ ہے محکمہ جنگلات اور متعلقہ اداروں کو گرین پاکستان پر صرور کام کرنا چاہیے مگر سب سے پہلے جو قدرتی گرینری ہے اس کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھانے کی صرورت ہے ایک طرف ہرا بھرا جنگل کو صفحہ ہستی سے مٹایا جارہا ہو دوسری طرف آپ چند نومولود پودے لگا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں یہی کہ صرف فنڈ ہڑپنےکے بہانے ہیں اور کچھ نہیں اس شجر کاری مہم میں پودے لگاینگے وہ اگے یا سوکھ جائیں اس کا بھی کنفرم نہیں ہے جبکہ دوسری طرف عشروں سے موجود درختوں کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں جو بغیر شجر کاری کے قدرتی طور پر موجود ہیں اب یہ شجر کاری والے پودے سو سال بعد بھی ان قدرتی درختوں کے برابر نہیں آئینگے اس سے بہتر یہ ہے کہ  بھیج بونے کے بجاے  پہلے سےقدرتی طور پر موجود جنگلات کی تحفظ کو یقینی بنائیں .دیامر میں سو فیصد عوامی اراضی ہے اور عوامی ملکیتی جنگلات ہیں  اس کی تمام تر مالکانہ حقوق صرف عوام کو حاصل ہے سرکار صرف تحفظ کی حد تک زمہ داری نبھا سکتی ہے طے شدہ معاہدہ ہے کہ سرکار کی طرف سے کوی  ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا ہے ٹمبر پالیسی کے نام پرجرمانہ کی مد میں  اصول کیا ہوا رقم صرف اور صرف عوامی ملکیتی رقم ہے اس رقم  کو فورا  دیامر کے عوام کو واپس کرنا چاہیے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جنگل عوام کا ہے اور جرمانہ سرکار اصول کریں ؟؟؟دنیاں کا یہ دستور رہا ہے کہ جرمانہ  لگان یا ہرجانہ ہمیشہ مالک ہی اصول کرتا ہے

نہ کہ محافظ. پہلی اور دوسری ٹمبر پالیسی میں کل ملا کر اربوں روپے جمع ہوگئے ہیں اس میں صوبائی یا وفاقی حکومت کا کوئی حق نہیں ہے یہ رقم صرف اور صرف دیامر کے عوام کی ہے مگر سرکار اس رقم کو واپس کرنے کیلے تیار نہیں ہے جو کہ آگے جاکر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں عوام اور   حکومت میں بد مزگی پیدا ہو سکتی ہے  کیونکہ پہلے سے ہی ٹمبر پالیسی میں تاخیر اور صرورت سے زیادہ جرمانے کی اصولی کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے   اور اس حوالے سے عوامی سطح پر سخت بے چینی بھی پائ جاتی   ہے   اس وقت چوپالوں میں چے مگویاں جاری ہیں کیونکہ دوسرے اضلاع میں ہنٹنگ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم  مقامی کمیونٹی میں تقسیم ہوتی ہے جبکہ دیامر میں عوامی ملکیتی وسائل کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو مال سرکار کرنے کی مذموم سازش ہورہی ہے حالانکہ گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع سے دیامر کی نوعیت بالکل مختلف ہے تمام قدرتی وسائل دیامر کے عوام کی ملکیت ہے اس کا باقاعدہ ریاست کے ساتھ اگریمنٹ موجود ہے اور اس طرح کے اگریمنٹ والی سوات اور کئ دیگر علاقوں اور لوگوں کے ساتھ بھی ہوگئے ہیں جس پر باقاعدہ ہر دور کی سرکار پابند رہتی ہے صرف دیامر میں پیچھے ہٹنے کی کوشش ہورہی ہے

صوبائی حکومت کو چاہیے کہ دیامر کی تاریخی حیثیت کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں اور فورا عوامی رقم دیامر کے عوام کو واپس کرے اور ہو سکے تو جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنائیں یوں شجر کاری والا وقت گزاری کے بجاے دیامر میں لاکھوں ایکڑ پر موجود قدرتی قیمتی جنگلات کو محفوظ بنائیں کیونکہ اس وقت دیامر کا کوی ایسا علاقہ نہیں ہے جہاں پر غیر قانونی طور پر جنگلات کی بے دریغ کٹائی  نہ کی گئی ہو جگہ جگہ بڑے بڑے سو سالہ قدیم  قیمتی درخت جن کو کاٹ کر گرا دیا گیا ہے بیشتر علاقوں میں ثبوت کے طور پر اب بھی یہ درخت پڑے ہیں جس کی روک تھام صروری ہے. ہمیں امید ہے کہ صوبائی حکومت دیامر کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو متاثر کرنے سے اجتناب کرے گی اور دیامر کے  قدرتی جنگلات کو محفوظ بنانے کیلئے فوٹوسیشن اور فرضی شجر کاری کے بجاے عملی اقدامات اٹھائے گی.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: