حالیہ برفباری اور وادی چپورسن کے حالات

تحریر : کے بی صالح

حالیہ برف باری میں ہنزہ گوجال کے پسماندہ گاؤں چپورسن کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں. سب سے اہم مسئلہ اس وقت روڑ، کمیونیکیشن اور بجلی کی فراہمی ہے. یاد رہے کہ پوررے ضلعے میں چپورسن اور شمشال وہ وادی ہیں جن کی سڑکیں ابھی تک کچے اور انتہائی بدحال ہیں اور مختلف واقعات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے. افسوس کی بات تو یہ ہے کہ وادی چپورسن کا راستہ  پچھلے دور حکومت میں گورنمنٹ کے دستاویزات کے مطابق ٹرک ایبل ہے لیکن حقیقتاً اس راستے پر مشکل سے ایک گاڑی ہی چل سکتی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس پراجیکٹ کے نام پر بہت بڑی کرپشن کی گئی ہے. ذرائع کے مطابق اس وقت علاقے میں شدید غذائی قلت کا خدشہ ہے اور ساتھ ساتھ مریضوں کو بروقت ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئیے بھی کوئی بندوبست نہیں. دوسری طرف بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہے. کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ مسگر پاور ہاؤس مکمّل ناکام ہو گئی ہے اور علاقے میں مشکل سے ایک دو گھنٹے کی بجلی دی جا رہی ہے. یقیناً موجودہ برقی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کو قطعی طور پر درگزر نہیں کیا جاسکتا کہ اس پراجیکٹ میں بھی بڑے پیمانے پر خرد برد کی گئ ہے. کمیونیکیشن سسٹم پہلے سے ہی ناقص ہے لیکن ان مشکل حالات میں ایس-سی-او کے سسٹم کا فحال رہنا قدرت کا کرشمہ ہی سمجھا جائے گا.

میری گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون صاحب اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں سے گزارش ہے اور امید ہے کہ وہ وادی چپورسن کے ساتھ ساتھ دوسرے دور افتادہ علاقوں پر  اس مشکل حالات میں خصوصی توجہ دیں گے تاکہ پہلے ہی حالات سے پریشان عوام اور کوئی بڑا حادثہ نہ دیکھیں. اللّٰہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments