راجہ گوہر آمان کی بگروٹ اور حراموش کے عوام سے دشمنی تھی؟‌

تحریر: امیر حید ر (ایم ایس لسانیات)
اسلام اباد

کچھ روز قبل سوات کوہستان سے تعلق رکھنے والے ایک دوست جو نہایت کتاب دوست ،  سیکھنے اور سمجھنے میں بہت زیادہ متجسس ہے نے اچانک فیس بک پر مسیج کیا اور ایک سوال پوچھا۔ اس کا سوال نہایت اہم تھا۔ گو کہ ہم نے اس سوال کے جواب کے بارے میں بہت زبانی قصے کہانیاں سنی  ہیں۔ اور تاریخ کے کچھ گمنام گوشوں میں  ان  کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ لیکن اس پر باقاعدہ تحقیقی طور پر کوئی  مواد  موجود نہیں تھا۔

وہ سوال گزشتہ کافی  دنوں سے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔ اس سوال ڈھونڈنے کی کوشش میں ایک مہینے تک مواد اکٹھا کیا۔ چونکہ ہماری تاریخ بدقسمتی سے اب تک تحریری شکل  میں نہیں ہے  اور جو کچھ تحریر میں ہے وہ انتہائی متعصب ہے۔ اس تحریر میں کچھ تاریخی حقائق کا ذکر چند کتب کی روشنی میں کیا گیا ہے جبکہ بہت سارا مواد    زبانی تاریخ (یعنی اورل ہسٹری) سے لیا گیا ہے۔ سو بجا  طور ہر کہا جاسکتا ہے کہ کمی یا کو تاہی کی گنجائش کو رد   از امکان نہیں کیا جاسکتا ہے۔

میرے دوست کا  سوال تھا، خوش وخت  خاندان کے حکمران راجہ گوہر امان کی بگروٹ اور حراموش کے عوام سے کیا دشمنی تھی؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی سعی کرنے سے پہلے ایک واقعہ قابل غور ہے۔

پچھلے دنوں بگروٹ سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس جوان کی کسی وی ائی پی پرٹوکول میں یاسین ڈیوٹی لگی۔ وہاں کسی طرح سے اس نے راجہ گوہر امان کی قبر کے ساتھ تصویر لے کر فیس بک پر   کیپشن کے ساتھ اپلوڈ کیا۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر کافی حد تک  واویلا رہا ۔ سننے میں آ رہا تھا کی اس جوان  کی  متعلقہ ڈیپارٹمنٹ  میں انکوائری بھی ہو گئی تھی۔

ہمارے معاشرے میں برادشت صبر اور بردباری ختم ہو گئی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی شخص کسی بھی بات کو اپنی مرضی  کی تشریح کے ذریعے کسی بھی طرف موڑ سکتا ہے۔ اس تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری  نہیں ہےبلکہ گلگت بلتستان کی تاریخ کے ایک باب کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے۔

لسانی بشریات کے طالب علم کی حیثیت میں کہتا چلوں کہ کسی ایک گروہ، قبیلے، قوم یا ملک کا ہیرو دوسرے قبیلےیا قوم کا ولن ہوسکتا ہے۔ ہمیں اگر یہ نکتہ سمجھ آ جائے تو ہمارا   معاشرہ ایک متوازن معاشرہ ہو سکتا ہے۔

جب بچپن اور لڑکپن میں کالج اور یونیورسٹی  میں ہوتے تھے  ہمیں چڑانے کے لیے احباب ہمیں گوہر امان کے  کیپسول کہاکرتے تھے تب یہ بات سمجھ نہیں پا  رہے تھے اور نہ ہی اس کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ گررتے وقت کے ساتھ اب یہ سارے معاملات سمجھ آ رہے ہیں ۔

خیر اب آئیں سوال کی طرف۔ آ خر گوہر امان کی بگروٹ اور حراموش والوں کے ساتھ کیا دشمنی تھی؟ کیوں اس نے جارحانہ بگروٹ اور حراموش پر حملے کیےَ کیوں گوہر امان کے پیٹ کا درد ایک بگروٹ والے کو چوغے میں استعارتاً باندھ کر  گہری کھائی میں گرانے سے ٹھیک ہوتا تھا؟

اگر گلگت کی تاریخ  اور جغرافیہ کا  مطالعہ کیا جائے گا تو اس ضمن میں کچھ نکات سامنے آسکتے ہین۔

میرے مطالعے کے مطابق اس عداوت کی بنیادی طور پر چار  سے پانچ وجوہات تھیں۔ میں کوشش کرونگا کہ اس سلسلے میں تاریخ کا حوالہ بھی دے دوں۔

1۔ چونکہ علاقہ بگروٹ اور حراموش تخت گلگت کے وفادار تھے۔

2۔ گوہر امان کے تخت گلگت پر حملے کے دوران تخت گلگت کا وارث راجہ بگروٹ کے طرف فرار ہوا اور وہاں سے مقامی لوگوں کی مدد ہوتا ہوا حراموش پہنچا اور حراموش سے تازہ دم جوانوں کے ہمراہ سکردو اور وہاں سے کشمیر پہنچا تھا۔

3۔ مزہبی انتہا پسندی اور گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کا ابتدائی دو رتھا۔

4۔ لسانی بنیاد پر۔

5۔ مالی بنیادوں پر!

نیچے ہم مندرجہ بالا تمام پوائنٹس کو ایک ایک کرکےبیان  کرتے ہیں:

1۔ بگروٹ  تخت گلگت کا وفادار!

اگر اپ گلگت بلتستان کا تاریخ کا مطالعہ کریں  تو اپ کو اندازہ ہو گا تخت گلگت اپنی جغرافیہ کی وجہ سے ماضی سے ہی سازشوں کا شکار رہا ہے۔ گلگت کو شمالی پاکستان میں جو مقام حاصل ہے وہ اس کی جغرافیہ کی وجہ سے ہے اگر اپ گلگت کے نقشے کو اٹھا کر دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ گلگت اس مرکز میں قائم ہے جہاں سے ایک درہ چین، دوسر درہ روس تیسرا درہ ہندوستان اور چوتھا درہ پاکستان کی طرف کھل جاتا ہے۔ یہی جغرافیائی تقسیم کی وجہ سے گلگت بلتستان میں تمام تر سازشوں کا مرکز رہتا اور ائے روز منسلق  ریاستوں کی افواج تخت گلگت  پر قبضے کے لیے حملے کرتے رہتے۔ بگروٹ گلگت سے 25 کلومیٹر فاصلے پر واقع مادنیات کی دولت سے لدا ہوا۔ زرخیز زمین کا ایک خطہ ہے ۔ یہ لوگ اپنے مادنی وسائل کی وجہ کسی حکومت کے زیر اثر نہیں رہے ہیں۔ یہ تخت گلگت کو سالانہ سونے کی شکل میں ٹیکس دیتے تھے۔ اور یوں بالواسطہ ریاست کے انڈر نہیں رہے۔ تاہم گلگت کے راجوں کے بگروٹ سے ساتھ اچھے مراسم کی وجہ سے بگروٹ انا جانا لگا رہتا تھا۔ میں نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے اُس شورش کے زمانے میں لوگ اپنی جائداد زمین پر یا کہی پہاڈ پر دشمن کی نظروں سے بچانے کے دفن کرتے تھے جس کو مقامی زبان میں ًبرکیشً  کہتے ہیں میں بزرگوں سے سنا ہے کہ گلگت کے راجوں کے اپنے خزانے  ابھی تک بگروٹ میں مختلف جگہوں پر مدفون ہیں۔ گوہر امان کی پہلی بگروٹ سے دشمنی وجہ یہی تھی۔

2۔ گوہر امان کے تخت گلگت پر حملے کے دوران تخت گلگت کا وارث راجہ بگروٹ کے طرف فرار ہونا!

راجہ گوہر امان کی دوسری بگروٹ سے بنیادی وجہ راجا گلگت کا بگروٹ سے ہراموش اور وہاں سے سکردو کی طرف کی طرف فرار ہونا ہے۔ یہ کہانی کچھ اس طرح سے بتاتے ہیں۔ راجہ گوہر امان نے تخت گلگت پر بہت سارے حملے کیے  لیکن اس کو پسپائی ہوئی۔ بلاخر اس نے ایک حربہ سوچا  جس کو راجہ شاہ رئیس خان نے اپنی کتا ب میں لکھا بھی ہے۔ گوہر امان نے ایک سازش کے تحت اپنی بیٹی کا  شادی  راجہ گلگت کے بیٹے سے کروایا۔  اور اسی سال موقعہ پا کر اندرونی لوگوں کے ساتھ ملکر گلگت پر حملہ کیا۔ اور قلعہ فردوسیہ پر قابض ہو گیا۔  تو راجہ گلگت جو گوہر امان کا داماد بھی تھا جان بچا کر بگروٹ کی طرف فرار ہوا۔ بگروٹ میں لوگوں نے راجہ کو ویلکم کیا اور پناہ دی۔ جب راجہ گوہر امان کو پتا چلا  تو  وہ اپنے سپاہ کے پیچھا کرتا ہوا بگروٹ پہنچا۔ گوہر امان کے بگروٹ پہنچنے سے پہلے ہی بگروٹ کے جوانوں نے راجہ گلگت کو  فرار کرواتے ہوئےً رکھن  گالی ً  سے ہراموش پہنچایا اور ہراموش سے مقامی لوگوں نے مل کر سکردو کی طرف فرار  کروایا۔  دوئم راجہ شاہ رئیس خان نے اپنی کتاب میں زکر کیا فرفوح بگروٹ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان جن کا نام صمتی اور عصمتی تھا  انہوں نے  گوہر امان کے  چچا کو  شیر قلعہ کے قلعہ میں قتل کیا تھا۔ گوہر امان اس انتقام کے اگ میں بھی جل رہا تھا  ۔ یوں گوہر امان بگروٹ کے لوگوں کا دشمن بن گیا تھا۔

3۔ مزہبی انتہا پسندی اور گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کا ابتدائی دو ر!

جی ۔ ڈبلیو ۔ لیٹنر اپنی کتاب دردستان جو 1866-86 کے درمیان لکھا ہے۔ وہ  لکھتا ہے چلاس ، استور  اور نگر میں لوگوں کو بیچنے کا کاروبار اس دوران عروج پر تھا ۔ فقی  بنیادوں پر  لوگوں کو پکڑ کر بدخشاں لے جا کر بیچا جاتا تھا ۔ یہی گلگت بلتستان میں مذہبی تقسیم کا ابتدائی دور تھا۔  گلگت بلتستان کی تاریک میں مزہبی انتہا پسندی کا جو پیچ بویا گیا ہے وہ اٹھارویں  صدی ہے۔  یہ فرقہ پرستی کا ابتدائی دور تھا۔  جو لوگ گلگت بلتستان کو جانتے ہیں ان کو اندازہ ہے گلگت میں بگروٹ اور ہراموش دو   واحد جگہیں ہیں جہاں سو فیصد ابادی  کا تعلق اہل تشیعہ ہے۔ یہی ایک بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر ہرتنگ داس حالیہ جلا ل اباد ، حراموش   1988 میں زیر عتاب رہے تھے۔    اس دور  میں بھی یہی وجہ تھی گوہر امان  بگروٹ اور ہراموش پر پے درپے حملے کرتا تھا گوہر امان کا تعلق اہل سنت فقہ سے تھا اور بہت زیادہ مذہبی متعصب بھی تھا۔اس کا اندزہ اس بات سے لگا لیں   جب میں یہ کالم لکھ رہا  تھا۔  مجھ پتا چلا کہ چترال  کا میرا  ایک دوست ہے  جو گوہر امان کی ہی  فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔  اس سے اپنے کالم کے بارے میں بات کرتے ہوئے جب میں زکر کیا تو اس نے  اس کی تصدیق  یوں کی۔ وہ کہتا ہے کہ   گوہر امان بہت زیادہ متعصب تھا جب اس کے  دربار میں کوئی اسماعیلی شخص جاتا تھا اور اگر اس کو کسی گلاس میں پانی پیش کیا گیا ہے اور مہمان نے  گلاس میں منہ لگا کر پانی پیا ہے  تو مہمان کے واپس جانے کے بعد گوہر امان اس گلاس کو جس میں  اسمٰاعیلی    مسلمان نے منہ لگا کر پانی پیا ہے اس جگہ کو لوہے سے چھیدواتا تھا۔  یوں  موجودہ فرقہ پرستی کی ابتدائی  کڑیاں وہاں سے ملتی ہیں۔

4۔ لسانی  اور مالی بنیادوں پر!

جب کہی کسی بھی دشمنی کا زکر ہوتا ہے  اور اگر ہم  مختلف پرتیں اتار  کر دیکھ لیں تو سمجھ آ جا تا ہے کہ   ہر فساد کی بنیاد  مالی بنیادوں پر ہوتی ہے جس کو مختلف نام دیے جاتے ہیں۔  تا ہم  اس صورت حال میں ہم لسانی تعصب کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں ۔اگر گوہر امان کی بگروٹ  اور ہراموش سے دشمنی کی وجوہات ڈھونڈ لی جائے تو  ایک لسانی تعصب بھی تھی جس کا میں  کچھ وجوہات کی بنا پر زکر نہیں کر رہا  تاہم  بگروٹ اور ہراموش ضلع گلگت  کے دو واحد بڑے گاوں ہیں جہاں کی سو فیصد ابادی   لسانی طور پر شینا بولنے والے لوگ ہیں۔  تا ہم اس دشمنی کی بنیادی وجہ مالی مفادات  اور مالی بنیاد بھی تھے۔ بگروٹ  کے لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرو تو  بخوبی اندازہ ہو گا کہ  بگروٹ سے لوگ بنیادی طور ہر دریا سے سونے نکالنے کا کام کرتے تھے۔ اور ہر گھر میں کثیر تعداد میں سونا موجود ہوتا  تھا۔ دوئم بگروٹ کی زمین نہایت  زرخیز  تھی اور اب بھی ہے۔ زرخیزی کے لحاظ سے بگروٹ سے  میں پیدا ہونے والی گندم  اور اگنے والے پھل دار درخت اب بھی گلگت میں کافی مقبول ہیں۔  اور اس زمانے میں مقامی لوگ ان تمام نعمات کی دولت سے خود مختار تھے۔  اس طرح فوجیں مقامی لوگوں کو لوٹ کر اپنے خزانے بھرتے تھے۔  پس یہی  بنیادی وجوہات تھیں جن کی بدولت  گوہر امان بگروٹ اور ہیراموش والوں کا دشمن تھا۔

نوٹ: ۔ راقم بلا رنگ، نسل،قوم،مذہب، فقہ تمام اقوام عالم کی  اقدار اور عقائد کا احترام کرتا ہے۔ اس تحریر کو تاریخ گلگت کے حوالے سے دیکھا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments