کالمز

کیا گلگت بلتستان ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ ہے؟

تحریر:  اشفاق احمد
ایڈوکیٹ چیف کورٹ، گلگت

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے تاریخی  فیصلے مورخہ 8 مارچ ١٩٩٣ کے خلاف وفاق پاکستان اور حکومت آزاد جموں و کشمیر نے آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کیا چونکہ گلگت بلتستان کے علاقے دیامر سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ملک محمد مسکین اور دیگر نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں اس بنا پر پٹیشن دائر کیا تھا کہ شمالی علاقہ جات جو کہ تقسیم ہند سے پہلے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے  جبکہ  تقسیم ہند کی وجہ سے پاکستان اور انڈیا دو آزاد ریاستیں وجود میں آئے اور اسی دوران ریاست جموں و کشمیر کے لوگوں نے آزادی کی تحریک چلائی نتیجتاً ریاست کے کچھ علاقوں کو ہندو مہاراجہ کے قبضے  سے آزاد کروایا گیا اور ایک آزاد ریاست جوکہ آزاد کروائے گئے علاقے جو کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے نام سے جانے جاتے ہیں وجود میں آئے ، لیکن ناردرن ایریاز  یعنی گلگت بلتستان کی ایڈمنیسٹریشن کو 28 اپریل 1949 کو  حکومت آزاد کشمیر  اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کے حوالے کردیا گیاجو کہ خلاف قانون ہے.

 ملک محمد مسکین کی اس تاریخی رٹ پٹیشن نمبر  61/1990 میں یہ قانونی نقطہ اٹھایا گیا کہ   آزاد جموں و کشمیر گورنمنٹ ایکٹ 1970 اور آزاد جموں و کشمیر عبوری  آئین ایکٹ 1974 کے  نفاذ کے بعد 28 اپریل 1949کا معاہدہ کراچی ختم ہوگیا ہے اس لیے شمالی علاقہ جات کا انتظامی کنٹرول  ریاست آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو واپس دینا چاہیے تھا مگر آئینی ایکٹ 1974 کے شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا گیا اور شمالی علاقہ جات کو بدستور  پاکستانی حکومت کے انتظامی کنٹرول میں رکھا گیا جو کہ عبوری آئین 1974 کے شقوں کی خلاف ورزی ہے  اس رٹ پٹیشن میں مزید یہ موقف بھی اختیار کیا گیا  کہ ناردرن ایریاز  ریاست آزاد جموں و کشمیر کا حصہ ہے. اس لئے رٹ پٹیشن دائر کرکے عدالت سے استدعا کی گئی  1: یہ کہ حکومت پاکستان کو حکم دیا جائے کہ وہ عدالت کو بتلائے کہ کس حیثیت کے تحت وہ  جموں اینڈ کشمیر کے علاقے ناردرن ایریاز  اپنے پاس رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے ؟ اور کس اتھارٹی آف لآ کے تحت ان علاقوں کو ایڈمنسٹر کرتا ہے ؟

2: یہ کہ آزاد کشمیر حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ شمالی علاقہ جات کی ایڈمنسٹریشن کو ٹیک آور کرے اور وہاں انتظامی و عدالتی مشینری قائم کرے. 3: یہ کہ ازاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل میں ناردرن ایریاز کے لوگوں کی نمائندگی کو یقینی بنائیں.

 4:  یہ کہ سپریم کورٹ اف آزاد کشمیر اور ہائی کورٹ کا بنچ ناردرن ایریاز میں  قائم کرئے۔

 .5:  یہ  کہ تمام ضروری  اقدامات کرے جو اس مقصد کے لئے لازمی ہے تاکہ ناردرن ایریاز کے لوگ اپنے حقوق سے مستفید ہوسکیں .

 6 .کوئی اور ریلیف جو معزز عدالت درست اور لازمی سمجھے عطا کیا  جائے.

 آزاد کشمیر ہائی کورٹ نے اس تاریخی رٹ پٹیشن کو قبول کرتے ہوئے 8/3/1993 میں حکم صادر کیا کہ  آزاد حکومت فورأ شمالی علاقہ جات کی انتظامی کنٹرول سنبھال لیں, اور اس سے آزاد کشمیر کی ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ضم کرے،اور حکومت پاکستان اس مقصد کے حصول  کیلئے آزاد کشمیر حکومت کو حسب ضرورت  مدد فراہم کرے.  نیز شمالی علاقہ جات کے  باشندگاں ریاست  ایکٹ 1974 میں  دیے گئے تمام بنیادی حقوق سے لطف اندوز ہوں گے اور قانون کے تحت ان کو آزاد کشمیر حکومت, کشمیر قانون ساز اسمبلی, کشمیرکونسل, اور ریاست کشمیر کے سول سروسز اور دیگر قومی اداروں میں نمائندگی دی جائے اور عبوری آئین ایکٹ 1974 کے  دائرہ کار میں رہتے ہوئے آزاد حکومت شمالی علاقہ جات میں انتظامی, عدالتی نظام قائم کرنے کے لئے تمام لازمی اقدامات اٹھائے گی.

اس فیصلے کو حکومت ریاست  آزاد کشمیر اور وفاق پاکستان نے دو مختلف اپیلوں کے تحت سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں چلنچ کیا.

اور وفاق پاکستان نے آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے اختیار سماعت کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کی جورسدکشن آزاد کشمیر تک محدود ہے اور ان کو شمالی علاقہ جات تک اختیار سماعت  حاصل نہ ہےنہ ہی ازاد کشمير ہائی کورٹ حکومت پاکستان کے خلاف Writ ایشو کرسکتاہے.

ملک محمد مسکین اور دیگر کی رٹ پٹیشن کے پیرگراف نمبر  9 میں کہا گیا تھا کہ ناردرن ایریاز کو معاہدہ کراچی کے تحت پاکستان کے حوالہ کیا گیا تھا اور یہ معاہدہ ایکٹ 1974 کے نفاز کے بعد ختم ہوا ہے ۔

 جبکہ وفاق پاکستان کے جواب دعوی کے پیراگراف نمبر ٩ میں بیان کیا گیا تھا کہ  یہ علاقے شمالی علاقہ جات دستور پاکستان کا حصہ نہیں ہے مگر یہ بھی  Imply  نہیں کیا گیا ہے کہ یہ علاقہ جات  آزاد جموں و کشمیر میں شامل ہیں  جیسا کہ آزاد کشمیر کے عبوری آیین ایکٹ  1974 کے سیکشن ٢ میں بیان کیا گیا ہے جس کے مطابق گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے نہ کہ ازاد کشمیر کا حصہ ہے اسلیے گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کو حوالہ کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے اور ازاد کشمیر ہائی کورٹ کے پاس حکومت پاکستان کے  خلاف  ایسا حکم دینے کا اختیار بھی نہیں ہے ۔

چونکہ اس معاملے میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے نہ ہی پیٹثنرز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے یہ اپیل کریں کہ  وہ  فیڈریشن اف پاکستاں سے  گلگت بلتستان کا انتظامی کنٹرول اٹھا کر آزاد کشمیر حکومت کے حوالے کریں ۔

چونکہ اس بابت کوئی قانونی جواز موجود نہیں ہے جس کے تحت یہ کہا گیا ہو کہ نادرن ایریاز کی ایڈمنسٹزیشن ازاد کشمیر حکومت کرے گی لہذا معاہدہ کراچی کے تحت ایک کنٹریکچول زمہداری کو عدالتی رٹ جورسڈکشن کے زریعے اطلاق نہیں کروایا جاسکتا ہے۔

نہ ہی اس معاہدے کے زریعے پیٹیشنرز نے کوئی دادرسی مانگی ہے۔

 وفاق پاکستان نے عبوری آئین ایکٹ 74 کے سیکشن44 کے تحت ازاد کشمیر ہائی کورٹ کو حاصل جورسڑکشن کو چیلنچ کرتے ہوہے موقف اختیار کیا کہ چونکہ آزاد جموں و کشمیر کی تعریف میں ناردرن ایریاز ازاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ  کے سیکشن ٢ کے تحت  fall نہیں  کرتا اور وفاقی حکومت پاکستان آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جورسڈکشن سے باہر واقع ہے اس لئے Aj&k  interim Act 1974 کے سیکشن 44 کے تحت writ نہیں بنتی ہے چونکہ اس ایکٹ کے تحت آئینی طور پر ناردرن ایریاز ان علاقوں میں شامل نہیں ہے جن پر آزاد کشمیر کی حکومت ایڑمنسٹریشن چلاتی ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ یہ دلیل بھی دی گئی کہ ناردرن ایریاز چونکہ 14 اگست 1947 سے قبل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے ساتھ ہی ا انھوں نے دلیل دیا کہ آئین پاکستان 1973 کے ارٹیکل 1 اور ارٹیکل 246 کے تحت ناردرن ایریاز پاکستان کے جغرافیائی حدور میں شامل نہیں ہیں نہ ہی آئین پاکستان میں شامل کیا گیا ہے۔

آزاد جموں و کشمیر حکومت ایکٹ 1970 کے نفاز کے وقت ناردرن ایریاز کو اس ایکٹ میں شامل نہیں کیا گیا نہ آزاد جموں کشمیر کے عبوری آئینی ایکٹ 1974 کے نفاز کے وقت شمالی علاقہ جات کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی نہ ہی آزاد جموں و کشمیر کونسل میں کوئی نمایندگی دی گئی نہ ہی اس حوالے سے  کوئی عملی اقدامات حکومت پاکستان یا آزاد کشمیر اسمبلی نے کیا۔

اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ آزاد جموں کشمیر کے عبوری آئینی ایکٹ 1974 کے دائرہ کار میں ناردرن ایریا شامل ہے۔

دوسری طرف آزاد کشمیر حکومت کے وکیل غلام معطفی مغل اور اشفاق کیانی نے دلیل دی کہ شمالی علاقہ جات اگرچہ تاریخی طور پر ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھے  لیکن 28 اپریل 1949 کے معاہدے کراچی کے تحت آزاد کشمیر حکومت نے ناردرن ایریاز کو حکومت پاکستان کے حوالہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ناردرن ایریاز کا انتظامی کنٹرول آزاد کشمیر حکومت کو دیا جائے مگر یہ کام رٹ پٹیشن کی بجائے حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت مذاکرات کے تحت کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ رٹ، جیسا کہ ازاد کشمیر ہائی کورٹ نے جاری کیا ہے ایسا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ان کے دلائل کا لب لباب یہ تھا کہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ فیڈریشن آف پاکستان کے خلاف رٹ بازی کرنے کی اہل competent نہیں ہے چونکہ وفاق پاکستان آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جورسڑکشن سے باہر ہے۔

آزاد جموں کشمیر عبوری ایکٹ 1974 کے سیکشن 44 اور آزاد جموں اینڈ کشمیر اینڈ لا کوڈ1949 کے تحت شمالی علاقہ جات ازادکشمیر ہائی کورٹ کے آختیارسماعت سے باہر واقع ہے۔

  آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے پیچھے Legal sanction  حاصل نہیں ہے.

لہذا اس تمام قانونی بحث کے نتجتے میں آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ ناردرن ایریاز ریاست جموں اینڈ کشمیر کا حصہ ہے نہ کہ ازاد جموں اینڈ کشمیر کا حصہ ہے۔

 جیسا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 میں بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر نے نتیجہ اخذ کیا کہ آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے پاس حکومت پاکستان کے خلاف writ جاری کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔

اس لئے ازاد کشمر ہائی کورٹ کے فیصلے جس کے تحت انہوں نے ناردرن ایریاز یعنی موجودہ گلگت بلتستان کے انتظامی کنٹرول کو آزاد کشمیر حکومت کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا اس فیصلے کو سپریم کورٹ اف ازاد کشمیر نے کالعدم قرار دیتے ہوئےمعاہدہ کراچی کے رو سے شمالی علاقہ جات کا انتظامی کنٹرول کو وفاق پاکستان کے پاس بدستور جاری رکھنے کو درست قرار دیا۔”

واضح رہے کہ گزستہ سال 17 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ نے گلگت بلتستان کے آیئنی حثیت کے بارے میں سول ایویئشن اتھارٹی بنام سپریم اپیلیٹ کورٹ اف گلگت بلتستان نامی کیس میں بھی معاہدے کراچی کے بابت زکر کرتے ہوئے واضع طور پر لکھا ہے کہ یہ معاہدہ آزادکشمیر حکومت ، مسلم کانفرنس کے نمایندوں اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پایا تھا ،  بادی النظر میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ اس معاہدے میں موجود نہیں تھا”۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button