کالمز

امن اور سلامتی معاشرے کے لیے نہایت ضروری

تحریر: محبوب حسین

معاشرے میں امن اور سلامتی برقرار رکھنا ہر شہری سمیت تمام اداروں کا بنیادی حق ہیں۔ چاہے وہ ادارے سرکاری ہو یا نجی ادراے ہو انکی بنیادی زمہ داریوں میں شامل ہے کہ وہ معاشرے میں امن، محبت،اتحاد و اتفاق بھائی چارہ،اور سلامتی کی فضا قائم و دائم رکھیں۔جب معاشرے میں امن قائم ہوگا تو شہریوں کا آپس میں اتحاد و اتفاق بڑھ جائے گا، مہر و محبت اور ایک دوسرے کے لیے خلوص پروان چڑھے گی۔

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے بھی نہیں اسی نعرے کو ہمیں اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے چپقلشوں کو اپس میں مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے کیونکہ یہ زندہ دل قوموں کی نشانیوں میں شامل ہے۔جب معمولی سی جھگڑوں کی وجہ سے اپس میں الجھتے رہنگے تو معاشرے میں قتل و غارت اور معاشرے کا امن و امان تباہ و برباد ہوگا۔

معاشرے میں زات پات، رنگ نسل فرقہ واریت کو ترک کر کے ایک انسان بن کے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، اندرونی اور بیرونی سازشوں سے خود کو بچانا ہوگا۔

بحثیت انسان ہمیں اس درخت کی طرح سوچنا پڑے گا کہ اس درخت کا تعلق کسی بھی مذہب سے نہیں ہے، وہ تمام اشرف المخلوقات کو برابری کی بنیاد پر سایہ، آگسیجن، لگڑی وغیرہ مہیا کرتی ہے۔لکین ہم عقل و فہیم اور شعور رکھنے کے باوجود بھی اپس میں تضاد کیوں؟ ہمیں اس بےجان موم بتی کی طرح بھی بننا چایئے جو خود جھل کے راگ ہوجاتی ہے لکین دوسروں کو روشنی مہیا کرتی ہے۔

بقول مشہور سماجی کارکن (مرحوم) عبدلستار ایدھی نے کیا خوب کہا تھا کہ میرا مزہب انسانیت کی خدمت ہے۔ بحثیت بنی نوع انسان ہمیں سوچنا ہوگا کہ معاشرے میں سب سے پہلے ایک انسان بنے کے سوچنا ہوگا جب انسانیت ہمارے اندر سما جاتی ہے باقی تمام اچھے عادات و خصائل خودبخود ہمارا پیچھا کر ریے ہوتے ہیں۔

معاشرے میں انتشار پھلانے سے پہلے لاکھ بار سوچنا پڑے گا کہ میرے انتشار کی وجہ سے علاقے کی سالمیت پہ کتنا انچ پڑسکتا ہے۔ ہمیں ہر کام صبر و تحمیل سے سر انجام دینا چاہے، جلدی بازی کا کام شیطان کی میراث ہے۔ سوچ، سمجھ کے فیصلہ کرنی چاہے، زاتی مفادات کو ترک کر کے اجتماعی مفادات کو فروغ دینا چاہے، اگر ہم معاشرتی ترقی کو صف اول رکھ کر معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں تو علاقے میں اتحاد و اتفاق کے ساتھ ساتھ امن و امان کی بہتری بھی ممکن ہے اور معاشرہ دن چکنی رات دگنی ترقی کریں گی۔فرقہ واریت کو ہوا دینے سے بہتر ہے معاشرے میں بھائی چارہ گی کو ففوغ دیں۔

ریاست کی اہم زمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر انصاف فراہم کریں چاہے اس شہری کا تعلق کسی بھی صوبے سے ہو انکو بروقت انصاف اور حقوق دینا وفاقی حکومت سمیت تمام صوبائی حکومت کی اولین زمہ  داریوں میں شامل ہے۔

پاکستان نے اپنے تمام صوبوں کے لیے بارڈرز کا تعین کیا ہے اور ان تمام صوبوں اور بلخصوص گلگت بلتستان اور کشمیر ان تمام علاقوں کی اپنی اپنی حدود برقرار ہے۔ کوئی بھی شہری چاہے وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے سے اسکا تعلق ہو وہ بلا وجہ بغیر گواہ اور ثبوت کسی بھی دوسرے علاقے پہ بے زور قوت اور ہتھیار قبضہ نہیں کر سکتا اگر ایسا  جرم وہ سرز کرتا ہے تو وہ تشدد  اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا تمام شہریوں کی زمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ وہ اپنے اپنے حدود کی حفاظت اور رکھوالی کرنا اور حکومت سمیت سیکورٹی اداروں کی بھی زمہ درای میں شامل ہے کہ وہ ان حدود کی حفاظت کریں کیونکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ان حدود کی وجہ سے پیش نہ آئے۔

ہمیں فرقہ واریت، مذہب پرستی، مادیت پرستی اور اپنی مفاد پرستی کو اجاگر کرنے سے پہلے انسانیت کی رہنمائی کو ترجیع دینا چاہے۔ زاتی ناچاقیوں کو اجتماعی سطح پر اجاگر نہیں کرنی چاہے۔ علاقیت، نسل پرست کو ترک کر کے ایک قوم بن کے سوچنا پڑے گا۔ چاہے ہمارا تعلق کسی بھی قبلے سے ہو پہلے ہم انسان ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے حدود تنازعہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور کوہستان کے مابین ہے یہ تنازعہ کسی فرد واحد کا کسی دوسرے فرد کے ساتھ نہیں نہ کسی ایک فرقے کا دوسرے فرقے کے ساتھ ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی مسلہ ہے۔ لیکن کوہستان سے تعلق رکھنے والے ملک آفرین کی بے زور قوت گلگت بلتستان کے چار  افراد کو ہتھیار کے نوک پہ گرفتاری کیا تھا اس مسلے کو فرقہ واریت سے جوڑنے والے دراصل گلگت بلتستان کے اصلی دشمن ہے کیونکہ انہیں عدالت میں چار افراد کا اغواء ثابت ہونے پر پولیس نے گرفتار کیا ہے. اور یہ ملک افرین نامی شخص اپنی سیاست چمکانے کے لیے اور خود کو مشہور کرنے کے لیے ایسے حربے کرتا رھتا ہے۔اور اس بندے کی رہائی کے لیے دوسرے ہمارے معزز بھائی لوگ شعیہ امامی اسماعیلی کمیونیٹی کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ جب ہم ایسے مسائل کو اتار چھڑا کے پیش کرینگے تو علاقے میں بدنظامی پھیلے گی، انتشار کو پھلانے سے بہتر ہے مصالحت کے زریعے ان تمام مسائل کا حال تلاش کرنا چاہے۔گلگت بلتستان حکومت اور سکیورٹی ادراوں کو نشانہ بنابے والوں کو عبرت ناک سزا ملنی چاہے تاکہ آئندہ کوئی ایسی غلطی کرنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔

المیہ یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان میں فورتھ شیڈول اور انسداد دہشتگردی ایکٹ ہول سیل پر ہونے کے باوجود گزشتہ چار روز سے سوشل میڈیا پر کھل کر دھمکیاں دی جارہی ہے لیکن کوئی نوٹس لینے والا نہیں. کیا یہ سارے قوانین فقط گلگت بلتستان میں بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنے والے مظلوم اور محکوم قوم کی قسمت کے لیے لکھا ہے.؟ اور ان معزز ہمارے بھائیوں کی دھمکی آمیز پیغامات کی وجہ سے ہمارے بہت سارے احباب سفر کرنے سے کترا رہے ہیں، انسان جلدی بازی میں اور بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

اگر خدانخواستہ کوہستان میں پھر سے دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا ہے تو اس دہشت گردی کا ذمہ دار وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور ملک آفرین کے چاہنے والے براہ راست ذمہ دار ہونگے. لہذا ہمیں مل بیٹھ کر اسکا حل ملک اور علاقے کی سالمیت کو مد نظر رکھ کر ملک کی  فائدے کے لیے  مثبت فیصلہ کرنی چایے، جب معاشرے میں برے جرائم جنم لیتے ہیں تو ملک اور علاقے کی خوشگوار ماحول انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور معاشرے  امن تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔لہذا ہمیں چاہے کہ ملک اور علاقے میں امن، اتحاد ، محبت اور اتفاق  کی فضا برقرار رہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: