کالمز

گلگت بلتستان میں تعلیم نسواں کا آغاز اور اسکی اہمیت

تحریر: محبوب حسین

گلگت بلتستان کے طول و عرض میں بسنے والے افراد صدیوں سے ان فطری ماحولیات کے تابع زندگی گزار چکے ہیں، جس میں معاشی، معاشرتی، اقتصادی، سیاسی،سماجی حالات ہو یا سخت موسم ہو، بھوک ہو یا پیاس ان تمام حلات کے اندر مردوخواتین برابر اپنا کردار ادا کرتے ریے ہیں لیکن رفتار زمانہ نے ایک ایسی کروٹ بدلی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس پاسماندہ خطہ کی قسمت کھلنے لگی۔وہ بیٹی جو کسی وقت والدین کے لیے بوجھ سمجھی جاتی تھی اور ریورڑ چرانے یا کانٹا چننے میں لگایا جاتا، کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کسی وقت وہی بیٹی ایک ڈاکٹر، ایک انجینئر، قوم کی معلمہ اور اعلی ترین علمی ڈگری لے کر سامنے آسکتی ہے اور یورپ و امریکہ کے علمی اداروں میں داخلہ لے سکتی ہے! کچھ زیادہ عرصے کی بات نہیں کہ سن 70ء کی دہائی ہی سے ان کی قسمت بدلنا شروع ہوئی تھی اور غالبا پچھلے 40،30 برسوں کے اندر خواتین کو آزادی سے حصول علم کے مواقع میسر ہونا شروع ہوئے اور یہ دائرہ بڑھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے دیہات کی لڑکیوں کو کھل کر علمی میدان میں کودنے کا موقع ملنے لگا۔ بہر حال یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے ۔

غالبا سن 50ء، 60ء کے عشرے میں گلگت شہر کے چند خاندانوں کے ہاں لڑکیوں کی تعلیم کا آغاز ہوچکا تھا جس کی زکر روشنی کا سفر مصنف عالیجا عبدالللہ جان ہنزائی نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ اس وقت کے میر آف ہنزہ میر محمد جمال خان نے اپنی شہزادیوں کی تعلیم کی خاطر ایک یورپین خاتون  Miss Hensen کو باقاعدہ تمام مراعات کے ساتھ کریم آباد ہنزہ  اپنے محل کے قریب رکھا ہوا تھا اور میر مرحوم کی پانچویں بیٹیوں نے اس طرح گھریلو تربیت کے زریعے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی۔ جہاں تک باقی علاقہ جات میں لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں زکر کیا جاتا ہے تو اس سلسلے میں ہنزہ کے دیہاتوں سے اس کا آغاز ہوچکا تھا اور خصوصا اس سلسلے میں ہمارے بزرگ ان کی تعلیم میں بطور اعزازی خدمت بھی پیش کرکے گاوں کی لڑکیوں کی تعلیم کی طرف توجہ دی۔ انکی تعلیم کی طرف ترغیب دینے میں سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں کا کردار قابل تحسین ہے اور خصوصا اس وقت کے قائم شدہ ڈی جے اسکول اور ان تعلیمی اداروں میں خدمات سرانجام دینے والے ہمارے بزرگ، توالدشاہ، استاد حشمت الللہ بیگ، ترنگفہ سنگی خان وغیرہ انہوں نے اپنی خدمات کو بجا لاتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کی طرف رغبت دلائی تھی جس کی وجہ سے بعد میں چند لڑکیوں نے یہاں پر پرائمری سطح تک تعلیم حاصل کی تھی اور غالبا یہ سال 1960ء کا تھا جب چند لڑکیوں کی تعلیم کا آغاز ہو چکا تھا۔

اس سلسلے میں جب گلگت بلتستان کی بات کریں تمام علاقوں میں ایک جیسے حالات و واقعات تھے اکثر دیہاتوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے یہ لڑکیاں یکسر محروم تھیں اور اس طرف دینی تعلیم کے واسطے حرف شناسی ضروری تھا اس لیے ان حالات میں مزہبی تعلیم جس میں قرانی تعلیم کے علاوہ تاریخ و احادیث وغیرہ جو اس وقت کے نصاب میں شامل تھا وہ متاثر ہو رہا تھا۔ ان پسماندہ اور دور افتادہ وادیوں کی بیٹیاں کن مصائب و حالات کے نیچے زندگی گزارتی رہی ہیں اور عقل انسانی کو جلا بخشنے والا علم اور اسکی روشنی سے کیونکر محروم رہی ہیں۔ یہی وہ معروضی حالات تھے جن کو عمومی طور پر اس خطے کے تمام باشندوں کی زندگیوں پر لاگو کیا جاسکتا ہے لکین قدرت کا خرشمہ ملا حظہ کیجئے کہ وہ بیٹی جو عرصئہ دراز سے علم کی روشنی کے حصول کے لیے ترس رہی تھی اور وہ فطری طور پر آرزو مند بھی تھی بلاشبہ اکیسویں صدی ہی ہماری ان بیٹئوں کے لیے نیک شگون ثابت ہوئی اس لیے کہ جونہی ان پرکشش وادیوں کی ماحولیات اور رسل ورسائل کے زرائع اور مادی و اقتصادی حالات میں وقت کی رفتار کے ساتھ تبدیل آنا شروع ہوئی تو دیکھتے ہی دیکھتے قیدوبند میں محبوس ہماری ان بیٹوں کے عقل و شعور میں بھی ایک انقلابی تبدیلی آنا شروع ہوئی۔

آج سے 30ء، 40ء قبل ہمارے والدین یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایک دن ان کی یہ بیٹی پاکستان کے اعلی ترین تعلیمی اداروں سے نکل کر یورپ و امریکہ کے اعلی ترین علمی اداروں میں داخلہ لے سکتی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بشانہ آگے نکل جائے گی اور آج گلگت بلتستان کے بیشتر والدین اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ آج انکی یہی بیٹی جو کسی وقت والدین پر بوجھ سمجھی جاسکتی تھی آج وی معاشرے کی عزت مند خاتون کی حیثیت سے زندگی گزارنے لگی ہے۔

 آج کے مقابلے کی دنیا میں خصوصا تعلیمی اداروں کے سالانہ امتحانات میں پوزیشنیں لینے والی یہی بیٹیاں نمایاں نظر آنے لگی ہیں آج اس حقیقت کو کیوں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

آج ہماری یہی بیٹیاں زندگی کے ہر شعبہ مثلا انجینئرنگ، آرکیٹیکٹ، طب، عسکری اور انتظامی وغیرہ ہوں یا درس و تدرس کا پیشہ ہو حتی کہ حیران اور قابل یقین طور لر آج ہماری یہی نیشنل اور انٹرنیشنل کھیلوں کے میدان میں بھی مقام حاصل کرچکی ہیں حتی کہ کوہ پیمانئی میں مردوں کے شانہ بشانہ سبقت لے چکی ہیں۔ نیز ہوا پیمانئی میں پرواز کرنے لگی ہیں غرضیکہ آج کے اس برق رفتار سے تبدیل ہونے والے حالات اور ہیئت کو دیکھتے ہوئے تعلیم کے اہمیت اور اسکی قدر میں اضافہ ہونا انسانی شعور کو جگانے میں کافی ہے اور اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت ہی مستقبل کی روشن دنیا کی ضمانت ہے، اس میں غفلت برتنا غالبا مستقبل کی نسل کے لیے نقصاندہ ہو سکتا ہے۔ لہزا تفکر و تدبر کر زریعے ہمیں اپنی دنیا کو آباد کرنا ہے اور یہی اسلام کی حقیقی تعلیم ہے، اس سے روگردانی جہالت کی طرف ہے اس لیے کہ علم روشنی ہے اور اس سے غفلت جہالت ہے اور جہاں جہالت ہوگی وہاں معاشرے میں فساد برپا ہوگا،دہشت گردی عام ہوگی اور امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا اور اس تمام گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر خاتون خانہ تعلیم یافتہ ہوگی، اولاد بھی سعادت مند ہوگی پس بہترین اولاد پیدا کرنے کے لیے ماں کا کردار اور اسکی بہترین تعلیم مستقبل نسل کےلیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ آنحضرت محمد صلی الللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس حدیث کے حوالے سے کہ ” بیٹی آنکھوں کی ٹھنڑک، بیٹی کی عصمت اور عزت وقار کی گارنٹی مل سکتی ہے۔ پس آج کی اعلی تعلیم یافتہ بیٹی جس کی تربیت اعلی اسلامی اقدار کے مطابق ہوچکی ہو، لاریپ! وہ مستقبل کی قوم کی ایک اعلی ترین نسل کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے لہزا ضرورت اس امر کی ہے کی آج کی اس آزاد فضا میں زندگی گزارنے والی بیٹیاں اپنے اپنے علاقے کی ثقافت اور اسلام کے بتائے ہوئے اقدار کو اپناتے ہوئے اگر زندگی گزارنے کا تہیہ کر لیں تو صنف نازک کی جو وقار و عزت و ناموس کی بات کی جاتی ہے وہ ہر حالت میں برقرار رہ سکتی ہے اس لحاظ سے بھی تعلیم نسواں لازمی قرار دی جاسکتی ہے پس ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی اعلی ترین اقدار کا لحاظ رکھتے ہوئے اس تیز رفتار اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہماری ان بیٹیوں کو پھونک کر قدم اٹھانا ہوگا تاکہ آزادی کی خاطر اس دور کی بیٹیاں مادرپدر آزاد غیر اسلامی اقدار و حرکات سے بدنامی کا باعث نہ بن سکیں جیسا کہ آج کل یہ ہوا چلنے لگی ہے، ان ہواوں سے بچ نکلنے کی اشد ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: