کالمز

کن فیکون

تحریر: ثروت صبا‏

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باســــی
اپنے سجدوں سے گئے ، رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

انسان جب غفلت کے اندھیروں میں چلا جاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے جدید ٹیکنالوجی سے وہ دنیا میں فاتح بن چکا ۔انسان غرور کرتا اور متکبر ہوتا بجائے رب کی دی ہوئی عقل سلیم سے دنیاوی تحقیقات کے ساتھ ساتھ رب کا شکّر گزار بننے کے۔رب کائنات جب ناراض ہوتا۔آسمانی آفتیں تب اتی جب انسان اپنے رب سے غافل ہوتا اور دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہوتا اور اللہ تعالی تب انسان کی رسی کو ڈھیلی رکھتا جب بنی نوح انسان اپنی حد سے آگے بڑھ جاتا ہے تو اللہ رب العزت رسی کو کھینچتا اور انسان منہ کے بل گرتا۔چند ماہ میں ہمیں اندازہ ہوا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک رب کائنات کے سامنے بے بس دکھائی دیئے ۔تمام زمینی حقائق کو استعمال کرنے کے باوجود اس موزی وبا سے چھٹکارہ پا نہ سکے اور آخر کار رب کائنات سے رجوع کیا اور ھتیار ڈال دیا کہ رب کی ربانیات کے سامنے دنیا کی ٹیکنالوجی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔تاریخ گواہ ہے اج سے پہلے جن جن قوموں نے رب کی نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے اللہ رب العالمین نے ایسے ہی عذاب سے دوچار کیا ۔اُمت مسلمہ کے لئے کڑا امتحان ہے جا گ جائیں اور لوٹ آئیں رب کی طرف ۔ ڈانسنگ نائٹ کلب کو آباد کرنے کے بجائے مسجدوں کو آباد کریں میرا جسم میری مرضی کے نعروں کے بجائے رب کا دیا ہوا جسم رب کی مرضی کا نعرہ لگائیں ۔رب کی قربت حاصل کریں رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں یہ اُمت مسلمہ کے لئے ایک جھٹکا ہے اب بھی وقت ہے ۔کرونا کا خوف سے ہی سہی رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنی چاہئے میرا آپ کا رب رحمن اور رحیم ہے وہ پیشیمان لوٹ کر آنے والوں کو معاف کرتا

اس میں کوئی شک نہی‍ں کہ اس وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ماھرین طب اور محکمۂ صحت کی ھدایات پر عمل کرنا اشد ضروری ھے. ھمارے دین نے بھی یہی تعلیم دی ھے کہ وبائی صورتحال میں لوگ باھم میل ملاپ کم کریں. وبا کے علاقے سے باھر سفر نہ کریں. اور باھر سے وبا والے علاقے میں نہ جائیں. موجودہ وبا اسی شرعی حکم کو توڑنے کی وجہ سے پھیل گیا ھے. چین سے پاکستانی طلبہ کو نہ لاکر دانشمندی کا ثبوت دیا گیا. اس سے ان طلبہ کی جانیں بھی محفوظ ھوئی اور وائرس کا پھیلاؤ بھی رکا رھا. مگر ایران سے آنے والے زائرین کے معاملے میں غیر محتاط رویہ اختیار کیا گیا جس کی وجہ سے پورے ملک بالخصوص گلگت بلتستان کو اس وبا نے اپنی لپیٹ میں لیا. ضرورت اس امر کی ھے کہ حکومت بلا امتیاز وبا کی روک تھام کے لئے اقدامات کرے. عوام بالخصوص زائرین حضرات کا فرض ھے کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دیں. طبی ھدایات پر عمل کریں. اور وقت مقرر تک خود کو قرنطینہ میں مقید کریں.. ھم سب کو احساس ذمہ داری کے ساتھ اس مشکل سے نمٹنا چاھیے.

ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال کرنا ہے جو روزآنہ کی بنیاد پر دیہاڑی لگاتے جن کے چو لھے آج کل ٹھنڈے پڑے ہیں رب العالمین کی دی ہوئی نعمتوں سے کچھ حصہ اُن کے لئے بھی نکالنا ہے صدق دل سے صرف رب کی رضا کی خاطر اس میں نمود و نمائش کا شائبہ تک نہ ہو جو ان حالات کی بدولت بھوکے مر رہے ۔

ہمیں فخر ہے ہم اس دین کے پیرو کار ہیں چودہ سو پچاس سال پہلے میرے نبی نے جو ٹیکنالوجی لوگوں کے سامنے رکھی تھی آج پوری دنیا اسی پر عمل کر رہی اور وہ جدید مغربی ٹیکنالوجی کے دعوے دار سائیس دان اجّ رب کی طرف رجوع کر رہے اور محمد مصطفیٰ صلی االلہ علیہ وسلم کی دی ہوی ٹیکنالوجی کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے میں کن الفاظ سے رب کائنات دو عالم کا شکّر ادا کروں جس نے ایک جھٹکے سے بڑے بڑے ٹیکنالوجی اور طاقت کے دعوے داروں اور منکر اسلام کو اپنے سامنے جھکا دیا اجّ پورا عالم رب کے سامنے اپنی کوتاہیوں کو لے کر رحم کی بھیک مانگ رہا بحثیت مسلمان مجھے اُمید ہے اور پکا میرا عقیدہ ہے میرا آپ کا رب اپنے دروازے سے خالی نہیں لوٹائے گا ۔جہاں دنیا میں لوگ معمولی گناہ کی عمر بھر کی سزا کاٹ لیتے ہیں میرا آپ کا رب عمر بھر کے گناہوں کو ایک ندامت کے سجدے اورانسوں کی خاطر معاف کرے گا انشاءاللہ۔اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اس کی سزا سب کے لئے یکساں ہے امیر غریب عربی عجمی گورا کالا سب کے لئے یکساں ۔ایک جھٹکے نے پوری دنیا کو وحدانیت کی طرف موڑ دیا اور اجّ غیر مسلم بھی رب سے مدد کے طالب ہو گئے الحمدللہ۔۔۔۔۔ایک ذمدار شہری اور محب وطن پاکستانی کی ہم پر یہ ذمداری عائد ہوتی کہ ہم احتیاطی تدابیر اختیار کریں خود کو گھروں تک محدود رکھیں اور رضاکارانہ طور پر بیمار ہونے کی صورت میں خود چیک آپ کرائیں لوگوں سے میل ملاپ ختم کریں اپنے ارد گرد نظر رکھیں کوئی بھوکھا نہ رہے حسب توفیق غریبوں کی مدد کریں انشاءاللہ میرا رب جلد اس آزمائش سے ہمیں نکالے گا ایک ذرا کن کی دیر ہے بس ہم سب کو پیارے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرنی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: