کالمز

کون ہوتی ہے کرنل کی بیوی؟

گزشتہ دنوں ہزارہ موٹر وے پر پیش آنے والے واقعے پر ایک کالم پہلے تحریر کرچکا ہوں جس میں بطور قوم ہمارے اجتماعی مزاج کے حوالے سے بات ہوئی تھی کہ ہمیں جب بھی کوئی اختیار ملتا ہے ہم قانون، اصول اور معاشرتی رکھ رکھاو سے خود کو الگ کرنا شروع کرتے ہیں اسلئے اپنے ساتھ منفرد سلوک کی توقع بھی رکھتے ہیں پھر عام شہری کی طرح قطار میں کھڑے رہنا یا چلتے راہ چند لمحوں کا انتظار خود کیلئے اذیت تصور کرتے ہیں، اس کا ذمہ دار نہ تو کوئی ایک فرد ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ بلکہ یہ ہمارا مجموعی معاشرتی رویے کا عکس ہے جسے ہم سب ملکر ہی ٹھیک کرسکتے ہیں ورنہ محال ہے۔

سوشل میڈیا کی بے ہنگم ٹریفک ” کرنل کی بیوی” کو ٹاپ ٹرینڈ بنا چکی ہے جس کی آڑ میں ان ماوں بہنوں کے جذبات مجروح کئے جا رہے ہیں جنہوں نے اپنے جگر گوشوں اور مجازی خداوں کو مٹی پر مٹتے دیکھا ہے، جو سیاچن و کرگل، سیالکوٹ و واہگہ بارڈر اور اندرونی دشمنوں کے خلاف سینے پر گولیاں کھا کر مٹی کا قرض اتارنے کا فریضہ انجام دے چکے ہیں، جن کے مقدس قدموں نے دشمن کی ہر ناپاک چاپ کو ناکام بنا کر آگے بڑھنے نہیں دیا ہے، جن کے خون کے قطرے وفا اور محبت کی داستان لکھ چکے ہیں۔ جنہوں نے کراچی کے ساحل سے خنجراب تک دھرتی کی ایک ایک اینٹ کے دفاع کو فرض سمجھ کر ادا کیا ہے، وہ صحراؤں سے لیکر پہاڑوں تک، دریاوں سے لیکر خشکی تک تمام رستوں کے خاموش سپاہی ہیں۔ جن کی زبانیں کاٹ بھی دی جائے تو راز نہیں اگلوائے جا سکتے، جو سر قلم تو کروا سکتے ہیں مگر جھکتے سروں کے ساتھ واپس آنے سے موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جن کے حوصلے بلند اور جذبے جوان ہوتے ہیں.

ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بستر پر لیٹے فیس بکی دانشور کیا جانیں! سیاچن کی منفی 50 ڈگری کی سردی کی شدت؟ انہیں کیا معلوم سینہ گولیوں سے چھلنی کیسے کیا جاتا ہے ؟ یہ فیس بکی کیا جانیں! جان کی بازی کیسے لگائی جاتی ہے اور ان لوگوں کو کیا معلوم کڑیل و خوبرو بیٹوں کی میتیں گھر پہنچے پر ماءوں کے شکرانے کے نوافل کیونکر ادا ہوتے ہیں ؟ یہ فیس بکی دانشور تو ایک موبائل فون کھو جانے پر شکر تو چھوڑیں، رو پڑتے ہیں۔۔ ایک ڈراونا خواب ان کی نیندیں اڑا لے جاتا ہے۔۔۔

یہ لوگ ” کرنل کی بیوی کے نام سے واقف ہیں جانتے نہیں، آئے میں بتاتا ہوں ” کون ہوتی ہے کرنل کی بیوی”؟

کرنل کی بیوی وہ جو اپنے جگر گوشوں کو مٹی پر قربان کر کے زندگی بھر اس کی تصویر کے سہارے سے اپنی سانسوں کی گنتی کرتی ہے ۔ کرنل کی بیوی اپنے مجازی خدا کو وطن پر قربان ہوتے ہوئے دیکھ کر شکرانے کے نوافل پڑھتی ہے۔ ذرا جا کر پوچھیں! کرنل تنویر شہید کی بیوی سے کہ اس کا شوہر سیاچن کیوں گئے تھے؟ کیا یہ کرنل اپنی شوگر مل، کپڑے کی صنعت یا اپنے کاروبار کے دفاع کیلئے وہاں پر مامور تھے؟ ارے کم بختو! کرنل تنویر کی لاش بھی تو 4 مہینے بعد برف سے ملی تھی۔۔۔ کرنل کی بیوی وہ تھی جس نے صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور ایک بہادر شوہر کی بیوی ہونے پر فخر کیا۔۔ پوچھیں کرنل مجیب الرحمن شہید کی بیوی سے کہ ان کا شوہر ٹانک میں کیا کر رہے تھے؟ کیا وہاں اس کی جاگیریں تھیں ؟ کیا وہاں وہ قومی اسمبلی کے ممبر بننے گیا تھا؟ جب ایک بہادر شوہر کی میت کرنل کی بیوی نے وصول کی تو اس بیوی پر کیا گزری ہوگی؟ ان کے یتیم بچوں نے باپ کی جرات کو سلام پیش کیا تھا اور بیوی نے صبر پر قناعت کیا۔ جا کر پوچھیں کرنل سہیل عباسی شہید، کرنل مشتاق شہید، کرنل شاہد شہید، کرنل راشد کریم شہید اور کرنل سید راشد حسن شہید کی بیوءاوں سے کہ ان کی کل زندگی، مجازی خدا، ان کے کل کائنات دھرتی کی مختلف محاذوں پر کیا کرنے گئے تھے؟

کرنل کی بیوی ایک انمٹ وجود کا نام ہے جو ایک یا دو گندے کیڑوں سے خراب نہیں ہو سکتا، خدارا! فیس بک پر ” کرنل کی بیوی” کے نام سے ٹرینڈ چلانے سے پہلے ان ہزاروں ماءوں اور بہنوں کے جذبات کا بھی خیال رکھیں جو اپنے لخت جگر اور مجازی خدا آپکی جان مال کے تحفظ اور اس ملک کی آبرو و وقار کیلئے گنوا چکی ہیں۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: