کالمز

مشکل، مگر عام سی بات

بہت دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک موضوع کو لیکر کافی بحث چل پڑی ہے۔ایک عورت، ایک پولیس والا،ایک قوم اور ایک لاحاصل بحث!

اس بات پر حیرت ہے کہ اس بحث میں ہر بندہ عقل کل بنا ہوا ہے اور جس کی زبان پر دماغ سے کوئ لفظ نکل پڑتا ہے، وہ بغیر سوچے اور سمجھے اسے زیب قرطاس کر دیتا ہے اور پھر فیس بک اور ٹویٹر پر آویزاں کر دیتا ہے۔ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتا کہ ان الفاظ کا نئ نسل اور انسانی رشتوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔پھر بہت سے لوگ بغیر پڑھے اور سمجھے ایسی ٹویٹس اور فیس بک کی دیواروں پر آویزاں ان آوارہ خیالات کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر ہر کوئی نہ چاہتے ہوئے بھی اس لاحاصل بحث کا حصہ بن جاتا ہے۔

 قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور اس بات کا ادراک ہر عام شہری اور فرض شناس آفیسر کو ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہر بالغ انسان اپنی کہی ہوئی بات اور عمل کا خود ذمہ دار ہوتا ہے اور ایسے انفرادی فعل کا اجتماعیت سے کوئ تعلق نہیں ہوتا۔ اگرچہ ایسے روئیے جو معاشرے میں بدنظمی اور انتشار پیدا کرنے کے مرتکب ہو،  تو ایسے روئیے کسی صورت قابل برداشت اور قابل ستائش  نہیں ہوتے۔ایک عورت جو کسی کی بیوی ہو وہ اسلام کی روح سے اس کی رعیت میں ہوتی ہے اور بحیثیت مرد اس کا شوہر اس کے روئیوں اور اس کے کسی ایسے فعل کا ، جو معاشرتی انتشار اور بدنظمی کا موجب بنتے ہو ، کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ہمارا معاشرہ اسی اصول پر زندہ ہے۔اور ایک اسلامی معاشرہ اس اصول کے تابع انسانی رشتوں میں مضبوطی کا باعث بنتا ہے، اور ایسے معاشرے میں بیوی اور شوہر دونوں ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں ۔

"کرنل کی بیوی” ہمارے معاشرے کے اندر ایک ایسا استعارہ بن چکا ہے جس نے ہمارے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اور ایک ایسی دراڑ پیدا کی ہے کہ مجھ جیسے عام لوگ (جو دیار غیر میں ایک پرسکون مگر محنت طلب زندگی گزار رہے تھے) بھی قلم اٹھانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

میں لکھنا چاھتا ہوں اور اپنے جذبات کو ایک عام قاری تک ایک عام فہم الفاظ میں پہنچانا چاھتا ہوں۔ میں کسی ایسے "استعارے” کو اپنے معاشرے میں سراعیت کرنے کا حامی نہیں جو انسانی اور معاشرتی رشتوں میں دراڈ پیدا کرے اور ہم سب کو ایک دوسرے سے دور کرے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ "عورت” صرف "عورت” ہوتی ہے اور "مرد” صرف "مرد” ہوتا ہے بلکل اسی طرح "بیوی” بھی  "بیوی” ہوتی ہے چاہے وہ کسی امیر کی ہو یا غریب کی۔چاہے کسی آرمی آفیسر کی ہو یا پھر کسی سویلئین بیوروکریٹ کی۔چاہے کسی ڈاکٹر کی ہو یا کسی پروفیشنل کی یا پھر کسی کالے کوٹ میں انصاف دلانے والے وکیل یا انصاف سنانے والے جج کی یا پھر کسی سیاستدان کی یا پھر کسی صحافی کی۔میں اس بحث میں جانا ہی نہیں چاہتا کہ غلطی کس کی ہے۔اس عورت کی ، جو اپنا رشتہ کسی ادارے کے آفیسر کے ساتھ جوڑ رہی تھی  یا پھر اس پولیس آفیسر کی جس نے ایسی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی۔کیا غلطی اس آرمی آفیسر کی ہے جسکا قصور صرف اتنا ہے کہ اس نے ایک ایسی عورت سے شادی کی ہے جو قانون کو اپنی گرفت میں لینے کی قصوروار ٹہیری ہے۔کیا غلطی اس معاشرتی ناانصافی کی ہے جس میں یہ پولیس والے ہمیشہ ایسے آفیسرز کی بیویوں اور "فیملیز” کو الگ اور وی آئ پی روٹز سے گزرنے دیتے ہیں۔ ہمارے فرسودہ اور بانجھ نظام نے ایسے معاشرتی رویوں کو جنم دیا ہے اور ہم اس نظام کا حصہ ہیں، ہم قصوروار ہیں ۔

آپ خود اپنی نجی زندگیوں میں نظر دوڑائے تو آپ کو اس بات کا ادراک ہوگا کہ شادی بیاہ کی تقریب ہو یا پھر کوئ اور فیملی تقریب ، ہم ایسے لوگوں کو خود ہی ایکسٹرا پروٹوکول دے کر ان کے ذہن کو پراگندہ کردیتے ہیں۔ ہم ہی ان کو افضل ترین ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ ہم کسی بڑی عمر کے اور  سمجھدار شخص کو عزت نہیں دیتے مگر دولت دار اور مرتبے والے کو عزت دیتے ہیں اور ہم ان کی بیویوں اور اولادوں کو بھی الگ طرح سے ٹریٹ کرتے ہیں۔ ہم خود غلاموں کی طرح ان کے آگے پیچھے دوڑتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ وہ سب کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ہم بے حس لاچاروں کی طرح انکے ہر گناہ پر پردہ اور ہر ظلم کو برداشت کرتے ہیں۔ہم ایسے قوانین بناتے ہیں کہ جس میں تمام آفیسران (سویلئن اور آرمی) کی فیملیز کو امتیازی سلوک کا درجہ لینا انکا حق اور ہمارا فرض بن جاتا ہے۔ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہم ایسے قوانین بنانے والوں کو اپنے ووٹوں کے ذریعے چنتے ہیں اور ان لوگوں کو ایسے ناجائز اختیارات دینے والوں کو اپنا لیڈر اور مسیحا مانتے ہیں۔ اور ہم ہی ہوتے ہیں جو پھر گلا پھاڑ پھاڑ کر اس ناانصانی کے خلاف ایک عجیب طرح کا احتجاج کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں جی رہے ہیں جو بقول مولانا آزاد یہ سمجھتا ہے کہ "غصہ اور قانون دونوں بڑے سمجھدار ہیں، کمزور کو دبا دیتے ہیں، اور طاقتور سے دب جاتے ہیں”۔

اس بحث میں کبھی کسی ادارے کو گھسیٹنا کوئ اچھی روایت نہیں اور نہ ہی ایسے روئیوں کی دفاع میں کسی ادارے کی طرف سے دئے جانے والی بے تحاشا قربانیوں کا ذکر کرنا کوئ اچھی منطق ہے۔

سیب اور مالٹا دو الگ قسم کے فروٹس ہیں اور انکا موازنہ کرنا کسی لحاظ سے بھی درست نہیں۔ رشتوں کے تقدس اور ان کی حساسیت کا احساس کرکے ہمیں اپنے جذبات میں سے کرنل،وکیل،ڈاکٹر،جج،سیاستدان اور صحافی وغیرہ کو ہٹا کر "اچھے” اور "برے” جیسی مثالیں دینی چاہیے۔ہم انسان کے روئیوں اور ان کے کردار سے انکو اچھے اور برے میں تقسیم کریں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ کوئ اگر قانون توڑے تو اسے قانون شکن کہنا چاہئے نہ کہ فلاں ابن فلاں کی بیوی۔ کوئ قانون توڑے تو اسے اس کا ذاتی فعل جان کر اسکا میڈیا ٹرائل کرنے کی بجائے اسے قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔کوئی انفرادی شخص قانون توڑے تو اسے اداروں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔کیوں کہ ایسا کرکے ہم نہ صرف اس ادارے کی توہین کرتے ہیں بلکہ ایسے قانون شکن لوگوں کو انکی بڑائ کا احساس دلانے لگتے ہیں۔ ملک کے کسی حصے میں پیش ہونے والی زیادتیوں کو ایک ایسے واقعہ سے جوڑ کر نت نئے مثالیں پیش کرنا ایک مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتا۔آج ایک دوست کی فیس بک وال پر ایک اچھی بات پڑھنے کو ملی جو ہم سب کے لئیے مشعل راہ بن سکتی ہے”خطرناک ہے وہ انسان جو پہلے سنتا ہے، سمجھتا ہے اور پھر بولتا ہے”۔

بقول واصف علی واصف "دل کے کنجوس کے لیے کائنات بھی کنجوس ہے اور دل کے سخی کے لیے کائنات بھی سخی ہے۔ جب زندگی کے معاملات اڑ جائیں، سمجھ جاو تم نے دوسروں کے معاملات اڑادئے ہوے ہیں۔ آسانیاں دو، آسانیاں ملینگی”۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی چیک کریں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: