کالمز

ھوپر سوپر۔۔۔۔(دوسرا حصہ )

احمد سلیم سلیمی
ساری دنیا کا نظام،کافر کرونا سے بری طرح بے لگام ہوگیا تھا۔۔۔حکومتوں سے لے کر عوام تک ،شکستگی اور افراتفری مچی ہوئی تھی۔۔۔ایسا اب بھی ہے مگر اس کی شدت بہت کم ہوئی ہے۔۔۔زندگی کے تمام ہی سلسلے ،اب سنبھل گئے ہیں۔۔۔
   وبائی صورتحال کے باوجود اس انسان نے زندگی کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے۔۔۔
   سیاحت کے شعبے پر بھی کرونا نے ڈرون حملہ کیا ہوا تھا۔۔۔ساری دنیا کی ٹورزم انڈسٹری کریش کر گئی تھی۔۔۔اب کہیں جا کر بہت سے ممالک نے شرائط اور پابندیوں کے ساتھ۔۔۔سیاحت میں کچھ کچھ نرمی کی ہے۔۔۔
  گلگت بلتستان پر بھی اس کا اثر اتنی ہی شدت سے ہوا تھا۔۔۔ہوٹلنگ سے وابستہ ان گنت افراد ڈپریشن کا شکار ہوگئے تھے۔۔۔
  اب کچھ اچھی ہوائیں چلنے لگی ہیں۔۔۔اللہ کے فضل سے حالات بہتر ہورہے ہیں۔۔کرونا کا خوف بھی،اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی کم ہوگیا ہے۔۔۔
 اگرچہ اس کے اثرات اب بھی ہیں۔۔اب بھی لوگ اس کا شکار ہوکر جاں بحق ہورہےہیں۔۔۔
  لیکن اب زندگی بھی حرکت میں آگئی ہے۔۔۔
  ایسے میں سیرو سیاحت کے شوقین ساری زنجیریں توڑ کے ،حسن فطرت سی ہم آغوش ہو تے ہیں۔۔
  ہم بھی اسی جنونٍ حسنِ فطرت میں مبتلا ۔۔۔ھوپر نگر کی سیر کو گئے تھے۔۔۔وہاں پنجاب،کے پی کے اور دیگر علاقوں سے آئے بے شمار عشاقان جمال فطرت بھی ایسے ہی جذبات کے کر آئے تھے ۔۔۔ان کا آنا ،سر آنکھوں پر۔۔۔لیکن اس وبائی صورت حال میں ان کی آمد، تمام احتیاطی تدابیر کی حامل ہونی چاہیے۔۔۔
وہاں ھوپر میں بھی،راستے میں راکاپوشی سے لے کر ہنزہ تک۔۔۔اکثر جگہ بے احتیاطی اور وبائی ہدایات سے بے نیازی ہمارے مشاہدے میں آئی۔۔۔راستے میں احباب اس صورت حال پر بھی تبادلہ خیالات کرتے رہے۔۔سب کی یہی رائے تھی۔۔سیاحت کی اجازت ہونی چاہیے لیکن ہوٹل مالکان سے لے کر سیاحوں تک۔۔۔۔وبائی ہدایات پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔۔۔۔

  قارئین کرام۔۔۔۔!اس تمہیدی گفتگو کے بعد اب ھوپر سفر کی باقی روداد ملاحظہ کر لیں۔۔۔

سیاحتی مقام ہوپر میں تعمیرات کا ایک منظر
  ہم ھوپر گلیشئیر کے پاس پہنچے تو شام ڈھلنے لگی تھی۔۔۔ڈوبتے سورج کی روپہلی کرنیں ھوپر گلیشئیر سے ٹکرا کر جیسے گُلال رنگ چھڑک رہی تھیں۔۔۔گلیشئر کی برفیں۔۔۔بلندی پہ سفید تھیں۔۔۔نشیب کی طرف اس پہ مٹی اور وقت کی دھول نے اتنی گرد جمائی تھی کہ اس کا رنگ سیاہ ہوگیا تھا۔۔۔گلیشئر اوپر سے ٹوٹ کر ایک بڑے نالے کی شکل نیچے آبادی کے جنوب مشرق کی طرف پھیل گیا تھا۔۔۔۔یہ آبادی کے اتنے قریب تھا کہ شام ہوتے ہی خنک ہوائیں بدن سے الجھنے لگتی تھیں۔۔۔وہاں کسی نے بتایا کہ رات کے وقت ایسی ٹھنڈ ہوتی ہے کہ کوٹ ،جیکٹ پہن لیے جاتے ہیں۔۔۔
  ہمارا اگلا مقامٍ سیر،راجہ کا محل تھا۔۔۔نیچے ھوپر بازار میں نسیم صاحب کے دوست قربان صاحب ہمارے منتظر تھے۔۔۔آتے ہوئے ان سے ملاقات ہوئی تھی۔۔وہ شہتوت اور "گولی” کے ساتھ ہماری ضیافت کے لیے تیار تھے۔۔۔
  ہم نے واپسی میں ھوپر بازار سے ان کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔۔ان کے ساتھ بڑے بڑے تھال کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے۔۔۔جن میں یقیناً ہماری خصوصی ڈیمانڈ پر شہتوت موجود تھی۔۔۔
  ھوپر بازار سے ایک کچا راستہ جنوب مشرق کی طرف جاتا تھا۔۔۔قربان صاحب کی رہنمائی میں ہم اس راستے پہ مڑ گئے۔۔ہماری دونوں گاڑیاں آگے پیچھے راجہ سکندر کے محل کی طرف دوڑنے لگیں۔۔راستہ کچا تھا۔۔۔۔آبادی کے اندر سے درختوں ،کھیتوں اور ٹیلوں سے گزرتے محل کے پاس پہنچ گئے۔۔۔
  محل کے مرکزی دروازے کے باہر تقریباً سو گز لمبی،شاہراہ ریشم سے دگنی چوڑی ایک جگہ تھی۔۔۔اس کے دونوں جانب پاپلر کے درخت جیسے محل کی نگہ داری کر رہے تھے۔۔۔مرکزی دروازے کے پاس ہی دائیں جانب بڑی سی جدید مسجد بنی تھی۔۔۔
 مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوئے تو سب سے پہلا احساس ہریالی کا تھا۔۔۔بہت وسیع و عریض قطعہ زمین تھا۔۔۔ایک خوش گوار ہمواری کے ساتھ۔۔۔۔مخملیں گھاس کی گھناوٹ کے ساتھ۔۔۔۔کہیں کہیں خوبانی اور سیب کے درختوں کی تراوت کے ساتھ۔۔۔۔
  اس بے خود کر دینے والے سبزہ زار نے دن بھر کے سفر کی تکان جیسے لمحے میں بھلا دی تھی۔۔۔
  مگر ٹھہریئے۔۔۔!ابھی اس سبزہ زار پہ لوٹ پوٹ ہونے اور بے خودی میں دھمال کر نے کی بات اک ذرا رہنے دیجیے۔۔۔

      فی الحال اس تاریخی ورثے کی بات کرتے ہیں۔۔۔جس کا ایک سرا جمشید دکھی صاحب کے بزرگوں سے ملتا ہے۔۔۔

معروف شاعر جمشید خان دُکھی کی تاریخی عمارت کے ساتھ ایک تصویر
 دکھی صاحب کے بقول ان کا دادا 20ویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے خصوصی دعوت پر ادھر آیا تھا۔۔۔اس دور کے میر آف نگر راجہ سکندر نے اپنے محل کی تعمیر کے لیے کشمیر سے عبد القدوس نام کے ترکھان کو ںلایا تھا۔۔جو کودو کے نام سے بھی مشہور تھا۔۔۔۔بعد میں کودو گلگت آیا۔۔پھر دکھی صاحب کی دادی سے ان کی شادی ہوئی۔۔۔۔پھر یہ سلسلہ جاری رہا۔۔
  مرکزی دروازے کے بائیں جانب ایک شکستہ سی،زمانے کی کہنگی کے تھپیڑے سہتی ہوئی یہ چوبی عمارت ایک احاطے کے اندرموجود تھی۔۔۔اس کی دیواریں،ستون اور کھڑکیاں لکڑی کی تھیں۔۔۔جبکہ چھت پکی تھی۔۔۔اس پہ بہت نفیس کاشی کاری کا کام ہوا تھا۔۔۔جو اب اکثر اکھڑ چکا تھا۔۔۔
 دکھی صاحب بہت جذباتی ہورہے تھے۔۔۔اس کے ستونوں اور دیواروں سے لپٹ لپٹ کر آہیں بھر رہے تھے۔۔۔ساتھیوں سے بار بار موبائل پر ان لمحوں کو قید کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔۔وہاں بڑی فوٹوگرافی ہوئی۔۔۔
  پھر باہر نکل گئے۔۔۔کچھ آگے وسیع سبزہ زار ہہ سفید کرسیوں ہہ چند افراد بیٹھے نظر آئے۔۔۔ان کے پاس ایک خاتون بھی کھڑی تھیں۔۔پھر وہ خاتون ہماری طرف آئیں۔۔۔وہ مرحوم راجہ سکندر کی بہو تھیں۔۔۔عمر رسیدہ تھیں۔۔۔ان کا تعلق پنجاب سے تھا۔۔۔ان کا شوہر بھی اب اس دنیا میں نہیں۔۔
  حلقہ ارباب ذوق کے وفد کا سن کر وہ ہماری طرف آئی تھیں۔۔۔ تاج صاحب اور دکھی صاحب نے آگے بڑھ کر ان کی تعظیم کی۔۔احباب کا تعارف کرایا۔۔۔ان خاتون نے خوش دلی سے ہمارا خیر مقدم کیا۔۔۔کچھ رسمی اور موسمی باتوں کے تبادلے کے بعد انہوں نے اپنے خاد موں سے ہمارے گروپ کی اچھی مہمان داری کی تلقین کی ۔۔۔پھر اجازت لے کر زنان خانے کی طرف چلی گئیں۔۔۔
  دور کرسیوں پہ بیٹھے لوگ اٹھ کر تیز تیز ہماری طرف آئے۔۔وہ علاقے کے کچھ جوان تھے۔۔۔کوئی سیاست سے کوئی سیاحت سے متعلق تھا۔۔۔ہمارے گروپ کے تاج صاحب،دکھی صاحب اور نسیم صاحب سے سب واقف ہیں۔۔۔
    قریب آکر انہوں نے بہت محبت اور احترام سے سلام دعا کی۔۔۔پھر ا س بہشت زار کی نرم نرم گھاس پہ سب بکھر گئے۔۔۔ہنسی مذاق،شعر و نغمہ،شہتوت،”گولی”  اور نمکین چائے نے جیسے باہر کی دنیا سے ہمارا ناتا توڑ دیا۔۔۔ہم اس ماحول میں اس طرح کھو گئے تھے کہ دن ڈھلنے کا کم ہی احساس ہوا۔۔۔۔جب شام نے سیاہ چادر پھیلا دی۔۔۔اندھیرا ھوپر کے پہاڑوں سے نیچے اتر آیا تب احساس ہوا کہ ہم نے بہت دور گلگت بھی جانا ہے۔۔۔۔تقریبا120 کلو میٹر اور ڈھائی تین گھنٹے کا سفر کرنا ہے۔۔۔
 بادل ناخواستہ ہم اس جگہ سے اٹھ آئے۔۔۔روح تک سرشار کر دینے والے جوش اور مسرت کی سوغات لے کر مرکزی دروازے سے باہر نکل آئے۔۔۔وہاں کھڑی گاڑیوں پر بیٹھ گئے۔۔۔پھر وہی ہم سفر۔۔۔وہی گنش پل تک شکستہ اور وہاں سے گلگت تک ایک آرام دہ اور خوش گوار سفر ۔۔۔اور وہی اہل دل کی سنگت کی بہجت۔۔۔جس کے آگے ہفت اقلیم بھی بے حیثیت۔۔۔۔
  واپسی میں بھی ہماری گاڑی میں نسیم صاحب،یاد صاحب،سدوزئی صاحب اور یہ ناچیز۔۔۔۔
  دوسری گاڑی میں تاج صاحب،دکھی صاحب،یونس سروش صاحب اور پھر تاج صاحب کا ڈرائیور۔۔۔۔
  واپسی کا یہ سفر ایک ناقابل فراموش تاثر کے ساتھ۔۔رات گیارہ بجے گلگت پہنچ کر ختم ہوا۔۔۔۔
یار زندہ صحبت باقی
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: