کالمز

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی! 

تحریر: صاحب مدد

یہ دوستوں کی اصرار سے بھی زیادہ میری خواہش تھی کہ کہی پہاڈوں میں گم ہو جائے، اٹر جھیل سے براستہ درکوت یاسین  نکل جائے،  ایمت سے قرمبر جھیل تک کا سفر کیا جائے، ہنزہ نگر کے  خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے  چائنہ بارڈر پر نکل جائے، چیلاس ، داریل اور تانگر میں کچھ دن گزار کر  دیوسائی کی  دیدار کرنے استور کا رخت سفر باندھ لیا جائے اور بلتستان کی منفرد ، زبان، روایات، رسم و رواج خوبصورت لوگ دیکھنے سکردو، شگر، کھرمنگ اور روندو کا رخ کیا جائے۔

  مگر انسان کے بس میں کیا ہے  صرف خواہشات دل میں تھام کر پھرتا رہتا  ہے، عملاً وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے، انسان کی اوقات اتنی ہے کہ   رات کو سو کر صبح صحیح سلامت بستر سے اٹھنے کی گارنٹی بھی نہیں دیتا ہے۔
ہوا کچھ یو کہ کرونا وائرس نے ہمیں بھی دھمکی دی  کہ جب تک میں اپنی آپ و تاب سے دنیا پر حکمرانی کر رہا ہوں تب تک آپ نے گھر سے باہر نکلنے کی  ہرگز کوشش مت کرنا ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہم ڈرے سہمے اور پسے لوگوں میں اتنی کہاں مجال کہ کرونا وائرس جیسے جان لیوا مرض  کو چیلنج کر سکے۔ ہم نے وبا کے  شروع شروع کے دنوں میں خود کو  گھر میں  قرائطینہ کردیا، سماجی دوری کو اپنایا، عوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کیا، اور بھرپور انداز میں حکومتی احکاماتِ کی پیروی کی کہی ہماری معمولی سی غفلت سے کسی کو نقصان اٹھانا نہ پڑے۔
سوشل میڈیا سے وابستگی کا فائدہ یہ ہوا کہ ہم وبا کے دنوں میں  ہر خبر پر نظر رکھتے تھے۔ کبھی کرونا سے اموات کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا تھا کبھی حالات تھوڈے نامل ہوتے تھے۔  پاکستانی حکومت کو کرونا سے بھی زیادہ اس بات کا دکھ تھا کہ کہی لوگ بھوک سے نہ مرجائے اس لیے حکومت نے  سمارٹ لاک ڈونڈ کی SOPs جاری کرنے کے بعد مختلف شعبوں کو کھلونے کا اعلان کر دیا اس میں سیاحت کا شعبہ نمایا تھا۔
گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ کھولنے کی خبر سن کر ہم نے ادارہ کر لیا کہ اب کوشش کر کے گلگت بلتستان کے سیاحی مقامات کا وزٹ کیا جانا چائیں ۔ اس سلسلے میں  دوستوں سے رابطے کرنا شروع کیا تو سب نے آپنی آپنی رائے دی اور دن بھی طے ہوا کہ ہم فلاں دن کو فلاں جگہ چلے جائے گے۔
مگر اسی دن ہوا کچھ یوں کہ راقم سیڑھیاں اترتے ہوئے معمولی سی پھسلن سے دائیاں پاؤں پر شدید چوٹ آئی  دس منٹ بعد اتنا درد ہوا کہ بستر سے اٹھ نہیں سکتا۔ دوسرے دن ایکس رے کروا کر ڈاکٹر نے چیک اب کر کے بتایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ہڈی میں کسی قسم کا فریکچر نہیں ہے معمولی سا زخم ہے ٹھیک ہو جائے گا ، کچا پلستر کر کے کہا کہ ایک ہفتے تک آرام کرو اور ادوایات کا استعمال وقت پر کرنا۔۔
ہم نے ڈاکٹر صاحب کے احکامات پر سنجیدگی سے عمل کیا ایک ہفتے تک بلکل آرام کیا اور ادوایات کا استعمال بھی وقت پر کیا۔ ایک ہفتے بعد کچا پلستر خود اٹھایا اور بیساکھی کی مدد سے چلنے کی کوشش کی مگر  صحیح سلامت چلنا ممکن نہیں ہوا تھوڈا سا چلنے کی کوشش کی پاؤں سوجھنے لگا اور درد کی شدت بھی پڑھ گئی۔ پھر سے ہم نے فیصلہ کیا کہ شاید جسم کا وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے پاؤں پر وزن پڑتا ہے اس لیے مزید آرام کیا جائے تاکہ جلد از جلد پاؤں کا زخم  ٹھیک ہو جائے گا۔
ایک ہفتہ مکمل آرام کے بعد چلنے کی کوشش کی تو درد کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور سوجن بھی پڑھ گئی ۔ اس عالم سے ہم پریشان تھے کہ زخم بڑھتا گیا جوں جوں دوا کہ اب کیا کیا جائے؟ بیگم صاحبہ بھی ہماری حالت دیکھ کر پریشان تھی ، گھر والے اور احباب نے مشورہ دیا کہ کسی پرائیویٹ ہسپتال سے ایکسرے اور کسی اچھے ڈاکٹر سے چیک اب کرایا جائے۔  دوسرے دن ہم نے پرائیوٹ ہسپتال سے ایکسرے کروایا اور ڈاکٹر نے وہی ادوایات اور مشورے دیئے جو سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر نے کہا تھا۔ ایک ہفتے مکمل آرام کرنے کے بعد  چلنے کی کوشش کی وہی پاؤں میں شدید درد اور سوجن پڑھتا گیا ۔ سمجھ نہیں آتا ہے اصل ماجرہ کیا ہے؟  یہ تقریبا دوسرا مہینہ چل رہا ہے جب بھی چلنے کی کوشش کرتا ہوں درد کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
پرسوں کچھ دوستوں نے ہندس جانے کا پروگرام بنا کر مجھے مجبور کیا کہ ان کے ساتھ ہندس کا وزٹ کیا جائے۔ ہندس اشکومن پراپر سے گاڈی یا موٹر سائیکل پر ایک گھنٹہ کی مسافت پر واقع ہے۔ جو بہت خوبصورت اور پر سکون سیاحتی مقام ہے۔ حال ہی میں ایفاد کی جانب سے ہندس کے لیے شاندار  روڈ  بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی اور غیر مقامی سیاحوں نے ہندس کا زخ کیا ہے جو کہ خوش آئیند بات  ہے۔ اس نئے روڈ کی وجہ سے علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور لوگ معاشی لحاظ سے مضبوط ہوں گے۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندس روڈ کی وجہ سے گلگت بلتستان کا مشہور جھیل ‘اٹر جھیل’  ہندس سے  کچھ  کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، ہندس روڈ بننے کے بعد اٹر جھیل  کا راستہ تقریباً آدھا رہ گیا ہے۔ پہلے اشکومن پراپر سے اٹر جھیل پہنچنے تک پیدل اٹھ سے دس گھنٹے لگتے تھے مگر اب اشکومن پراپر سے ہندس تک موٹر سائیکل یا گاڈی میں ایک گھنٹہ میں پہنچنے کے بعد صرف چار یا پانچ گھنٹوں میں آسانی  سے پیدل پ ہندس سے  اٹر جھیل پہنچا جاسکتا ہے۔
میں دوستوں کو منع بھی نہیں کرسکتا تھا اور مسلسل بستر پر لیٹ لیٹ کے اکتا گیا تھا سوچا کہ بائیک پر چلا جاؤ۔ ہم چار دوست تقریبآ دوپہر دو بجے ہندس پہنچے، ہندس کی خوبصورت نظاروں کی فوٹو گرافی کی، باربی کیو بنایا، خوب کھایا ، چشمہ کا ٹھنڈا ٹھنڈا پانی پیا اور خوب گھپ شپ، موج مستیاں کئے اور تقریبآ شام چھے بجے  اشکومن کی طرف واپس لوٹ گے۔ ایک گھنہ بعد تقریباً سات بجے مومن آباد گھر پہنچ گے۔ یہ بات تو  انڑرسٹوڈ ہے آپ اگر دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں تو اپ کو کوئی پریشانی یا تکلیف کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا ہندس میں کافی گھوما پھرا  مگر پاؤں کے درد کا احساس نہیں ہوا جب گھر پہنچ کر گرم پٹی اتارا تو پاؤں سوجھ گیا ہے اور ہلکا ہلکا درد بھی محسوس ہونے لگا۔ اب کیفیت یہ ہے کہ زخم بڑھتا جاتا ہے جوں جوں دوا کی۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: