سیاحتکالمز

بلامیک سکردو میں‌واقع، آنکھوں سے اوجھل، بوجل فورٹ

جاوید ملک بوجل

گلگت سے سکردو جاتے ہوئے ڈمبوداس سے چار،پانچ کلو میٹر پہلے شوت پل واقع ہے۔ اس پل سے گزرنے کے بعد بعد شاہراہ قراقرم سے چند کلو میٹر دور پہاڑوں کے درمیان ایک گمشدہ وادی ہے جس کے بارے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس وادی میں موجود قلعے کے بارے میں اپنے مشاہدات اور خیالات کو نوک قلم کے ذریعے آپ تک پہنچانے کی کوشش کر رہا ھوں، اس امید سے کہ آپ لطف اندوز ھونگے۔

تاریخی ورثہ اور تاریخی نقوش کسی بھی قوم کی تاریخ کا پتہ دیتی ہیں اور آنے والی نسلیں اپنے ماضی رفتہ کو سامنے رکھ کر مستقبل میں نقب ڈالتی ہیں۔ زندہ و باشعور قومیں ہمیشہ اپنے ماضی کی تاریخ،تاریخی ورثہ اور اسلاف کی داستانوں کو محفوظ کر کے مستقبل سے شناسا ہوتی ہیں۔ دنیا کے باشعور ممالک اور معاشروں میں تاریخی ورثے کی سب سے زیادہ حفاظت کی جاتی ہے،اور دنیا کی توجہ ان نقوش کی جانب مبذول کروا کر نہ صرف اپنی تاریخ کو روشن رکھا جاتا ہے بلکہ اسی کو زریعہ معاش بھی بناتے ہیں اور اس کو مزید بہتر طریقے سے دنیا کے سامنے اجا گر کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں بھی جابجا تاریخی عمارات اور دیگر قدیم ورثے بکھرے ہوے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کسمپرسی کی حالت میں موجود ہیں۔ بلتستان کے علاقے بلامیک میں واقع بوجل قلعے کی مثال لیجئے، جسے بلامیک سے ہی تعلق رکھنے والے مرزا بوجل نامی بزرگ نے تعمیر کروایا۔

کہا جاتا ہے کہ مرزا بوجل بلامک سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابلِ فخر شخصیت کے مالک تھے ۔مقامی سطح پر انہیں ‘پہلوان’ کے نام سے دیا کیا جاتا تھا کیونکہ وہ انتہائی مضبوط جسم کے مالک تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے تلو بروق نامی جگہے سے "زومو” اپنے کاندھے پر اُٹھا کر بلامیک تک پہنچایا، اور بوجل قلعے کی تعمیر کے لئے استعمال ہونے والا ستون وہ بھی اکیلے جنگل سےاپنے کاندھوں پر اُٹھا کر لائے تھے۔ ان کی شخصیت کے دیگر مظاہر کے بارے مشہور ہے کہ وہ وقت کے پابند، مخلص، انسان دوست اور انتہائی محنتی تھے۔

قعلے کی تعمیر کے لئے مرزا بوجل نے روندو کے مشہور مستری اور بڑهئی کی خدمات حاصل کیں، جنہوں نے کمال مہارت سے لکڑی کے ستونوں کو باندھ کر دیواروں کو مضبوط بنایا۔فورٹ میں علاقے کے سرکردگان دربار لگاتے تھے اور علاقے کے حالات پر گفتگو کرتے تھے۔آج بھی یہ اپنی اصلی شکل میں موجود ہے۔

بلامک گلگت بلتستان کا ایک ایسا مقام ہے جہاں ٹیلوں سے سجا صحرا، جنگلات، چشمے اور قدرت کے دیگر مظاہر ہر جا موجود ہیں۔

اس وادی میں گرمی کے مہینوں میں کاٹن کے ہلکے ملبوسات ہمیشہ بہترین انتخاب ثابت ہوتے ہیں۔جولائی اور اگست جنگلی پھولوں کو کھلتے دیکھنے اور ٹراﺅٹ مچھلی کے شکار کا بہترین وقت ہوتا ہے وادی بلامک میں کوہ پیماﺅں کے لیے ٹریکنگ سے لطف اندوز ہونے کے لئے بہترین پہاڑ اور روٹس موجود ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوٸی بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ٹریکنگ ناممکن ہو رہا ہے۔ جون، جولائی اور اگست گرم ترین مہینے ہوتے ہیں اور ٹریکنگ و کیمپنگ کیلئے مناسب مہینے ہیں۔

یہ گلگت بلتستان کا یہ خوبصورت ترین جگہ ہوسکتا ہے اگر انتظامیہ اور وزیر سیاحت اس کے اوپر کام کرے۔

اس وادی کی سیر ضرور کیجئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: