کالمز

بیسویں صدی شخصی اور موروثی نظام سیاست و حکومت کے خاتمے کی صدی

از قلم: ڈاکٹر نیک عالم راشدؔ

یوں توانسان کی سماجی اور سیاسی تاریخ بہت طویل ہے اور بلاشبہ، یہ ہزاریوں پر محیط ہے۔کیونکہ انسان نے جب ہوش سنبھالا اور تہذیب و تمدّن کے عہد میں قدم رکھا تو اس نے ایک مہذب معاشرے کی تشکیل و تعمیرپر اپنی توجہ مبذول کی اور اپنی سوچ اور اپروچ کے مطابق اپنی سماجی زندگی کے طور طریقے وضع کرنا شروع کیے۔ کبھی قبائلی زندگی کے اصول مرتب کئے، کبھی اشتراکی نظام سیاست کی طرح ڈالی، کبھی بادشاہت، کبھی جمہوریت اور کبھی مذہبی سیادت و قیادت کی صورت گری کی۔ لیکن انسانی تاریخ میں موروثی خاندانی نظامِ حکومت، جس میں بادشاہت، سلطنت اور راجگی وغیرہ آتی ہیں،کو زیادہ پذیرائی ملی اور صدیوں بلکہ ہزاریوں تک یہ نظامِ حکومت و سیاست رائج رہا۔تاہم، یورپ میں صنعتی انقلاب برپا ہونے کے بعد اس شخصی موروثی نظامِ حکوم کے خلاف پُر زور تحریکیں چلیں۔ چنانچہ، اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخرمیں انقلابِ فرانس کے نتیجے میں اس نظامِ سیاست و حکومت کے خاتمے کی داغ بیل پڑی اور جمہوریت، عوام دوست اور بشر مرکز نظام سیاست ہے، تیزی سے پرواں چڑھنے لگی۔ لیکن حقیقی معنوں میں بادشاہت، سلطنت اور چھوٹی بڑی موروثی خاندانی ریاستوں،بادشاہتوں، راجگیوں اور نوابیوں کا خاتمہ بیسویں صدی عیسوی میں ہوااور انہیں بیخ و بن سے اکھاڑ کر کر پھینکاگیا اور ان کی جگہ آزاد جمہوری ریاستوں اور حکومتوں کا قیام عمل میں آیا۔
بیسویں صدی میں اس روایتی شخصی و موروثی نظام کے خاتمے کے ضمن میں اوّلیت کا تاج روس کے سر سجتا ہے۔کیونکہ ۷۱۹۱ء میں روس میں کمیونزم کی پُر زور تحریک نے زار شاہی خاندانی سلطنت، جو کم و بیش ۰۰۴ سال تک روس پر حکومت کرتی رہی،کا دھڑن تختہ کر کے جدید یونین آف سویٹ سوشلسٹ ریپبلکس یعنی USSR کی بنیاد ڈال دی جسے عام طور پر سویت یونین کہا جاتا ہے اور اس کمیونسٹ رجیم نے کم و بیش ستّر (۰۷) سال حکومت کی۔ جبکہ ۱۹۹۱ء میں سویٹ یونین ٹوٹ گیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں اور آذر بائجان سمیت بالٹک ریاستیں آزاد ہوئیں۔جبکہ روس رشین فیڈریشن تک محدود ہوا۔
روس کے بعد تُرکی کا نمبر آتا ہے۔ ترکی میں مصطفی کمال اتا ترک (۱۸۸۱ ء – ۸۳۹۱ء) کی سربراہی میں ترک قومی تحریک کی کوششوں سے نئی پارلیمنٹ یعنی مجلسِ ملّی کبیر (Great Natoinal Assebly)وجود میں آگئی جس نے ۹۲ /اکتوبر۳۲۹۱ء کو ایک فیصلے کی رو سے ترکیہ میں خلافتِ عثمانیہ کو ختم کر کے جمہوریہئ ترکیہ کے قیام کا اعلان کردیا۔ ۳ مارچ ۴۲۹۱ء میں آخری عثمانی خلیفہ عبد المجید ثانی خلافت سے دست بردار ہوا اورجلا وطنی اختیار کی۔ اس طرح بیسویں صدی عیسوی کے ربع اوّل کے اختتامی سالوں میں براہِ راست عثمانی خلافت اور بالواسطہ مسلم خلافت طویل عرصے تک قائم رہنے کے بعد اپنے انجام کو پہنچی۔اس طرں اپنی نوعیت کاموروثی دینی وسیاسی نظام کا باب بند ہوا۔ترکی کو آزادی ملی اور ترک حکومت اور عوام نے مغربی طرز کی سیاست و حکومت اور تہذیب و ثقافت کو اختیار کیا۔یوں ترک ریاست ایک سیکولر ریاست کے طور پر منظرِ عام پر آئی۔
تاریخی ترتیب کے مطابق تیسرے نمبر پر پرِّ صغیر پاک و ہند کا نام آتا ہے جس نے جمہوریت کی طرف قدم بڑھایا۔ اگرچہ یہاں کی شخصی موروثی خاندانی ریاست جومغلیہ سلطنت کہلاتی تھی انگریزوں کے ہاتھوں انیسویں صدی کے وسط کے فوراً بعد]۷۵۸۱ء میں [ ختم ہوئی تھی اور پور ا برّصغیر ہند برطانوی حکومت کے زیر نگین ہوا تھا۔ اگرچہ، انگریزوں کے تسلّط کے باعث اہلِ ہند کو بہت سے نقصانا ت بھی ہوئے، تاہم، اس کا مثبت اثر اس طرح مرتّب ہوا کہ اہالیانِ ہند، بالوسطہ اور براہ راست، انگریزوں کے توسّط سے مغربی جمہوریت اور برطانوی پارلیمانی نظام ِ حکومت سے روشناس ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان میں براہ راست پارلیمانی نظامِ حکومت تشکیل پاگیا اور تا حال یہ نظام پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں جاری ہے، لیکن ۷۴۹۱ء میں تقسیم ہند کے نتیجے میں ان مذکورہ دونوں ممالک کے قیام کے بعد کُل ہند میں موجود سینکڑوں چھوٹی بڑی ریاستوں کی اپنی قدیم موروثی خاندانی حیثیت معرض خطر میں پڑ گئی۔ چنانچہ حیدر آباد، جوناگڑھ اور کشمیر کی ریاستوں سمیت اکثر ریاستیں پاکستان یا بھارت میں ضم ہوگئیں اور ان کی سابقہ موروثی حیثیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی اور ان کی نئی سیاسی و انتظامی حیثیت صوبوں، ضلعوں اور سب ڈویژنوں کی ہوئی۔ازاں بعد ۰۷۹۱ء کے عشرے میں بہاولپور، قلات، سوات، دیر، چترال اور ہنزہ سمیت گلگت۔ بلتستان کی تمام موروثی خاندانی ریاستیں اور راجگیاں اپنے انجام کو پہنچیں اور ان کا خاتمہ باالخیر ہوا۔ان کی حیثیت محض سب ڈویژنوں اور تحصیلوں کی رہ گئی۔
اسی طرح ہما رے ہمسایہ ملک چین بھی، جو ایک طویل تاریخ اور غنی تہذیبی و ثقافتی ورثے کا حامل ہے، ایک بڑے انقلاب کے عمل سے گزرا۔ اگرچہ چین میں بادشاہت کا خاتمہ ۲۱۹۱ء میں ہوا۔ وہ اس طرح کہ مانچو خاندان،جس کی بادشاہت کا آغاز ۴۴۶۱ء میں ہوا تھا، ۲۲ فروری ۲۱۹۱ء کوسنہائی انقلاب کے بعد اس کا خاتمہ ہوا اور جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔ لیکن چین کو حقیقی آزادی اور ترقی و خوشحالی اُس وقت نصیب ہوئی جب۹۴۹۱ء میں معروف چینی انقلابی لیڈر ماؤ زے تُنگ (1893 – 1976 AD) کی قیادت میں چین میں اشتراکی انقلاب برپا ہوا اور ان کی جپدِ پیہم کے نتیجے میں ”عوامی جمہوریہئ چین“کا قیام عمل میں آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایشیا کے اس مردِ بیمار نے وہ صحت و طاقت حاصل کی کہ آج دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔
اپنی نوعیت کا ایک اورانقلاب بیسویں صدی کے ساتھویں عشرے کے اواخر میں ایران میں برپا ہوا۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی کی موروثی خاندانی شہنشایت قائم تھی،شاہِ ایران اپنے آپ کو ایران کے قدیم بادشاہوں کا وارث قرار دیتا تھا اور خود کو آمر مطلق سمجھتا تھا۔یہاں مذہبی علماء اور دینی طبقے سے تعلّق رکھنے والے بے شمار افراد نے اس موروثی شہنشایت و آمریت اور اس کے ظلم و ستم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ اس نے بڑی جد و جہد کے بعد ممتاز دینی عالم اور ایرانی سیاسی رہنما جناب آیت اللہ خمینی (۲۰۹۱ء -۹۸۹۱ء)کے زیر قیادت انقلابی تحریک چلا کر شاہِ ایران کو حکومت سے بے دخل کیا، شاہ جلاوطن ہو کر یورپ چلا گیا اور ایران میں اسلامی دینی حکومت (Theocracy) ، جسے انقلابِ ایرا ن یا انقلابِ اسلامی کا نام دیا جاتا ہے، ۹۷۹۱ء میں قائم ہوئی۔ یوں اس دینی- سیاسی انقلاب نے ایران سے موروثی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔
مختصراً یہ کہ موروثی خاندانی حکومت و ریاست، جس کی تاریخ ہزاریوں پر مشتمل ہے، کو مسترد کر کے جس عوامی جمہوری حکومت قائم کرنے کی طرح اٹھارہویں صدی عیسوی کے اواخر میں مغربی یورپ میں ڈالی گئی تھی اسے بیسویں صدی عیسوی میں پایہئ تکمیل تک پہنچایا گیا۔اب اگر بادشاہت اور نوابیت نام کی کوئی شئے دنیا کے کسی کونے میں موجود ہے توان میں سے معدودے چند کے علاوہ سب مکمّل طور پر غیر فعّال اور محض نمائشی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب اکیسویں صدی عیسوی میں کرنے کا کام یہ ہے کہ جس طرح بیسویں صدی میں نقائص سے بھرے ہوئے شخصی و موروثی نظام کو لپیٹ کر جمہوریت کا انسان دوست نظام متعارف ہوا،اسی طرح جمہوری نظام میں موجود نقائص کو دُور کر کے ایک زیادہ صحت مند، انسان دوست اوربہتر نظام متعارف کرایا جائے۔ جدید صنعتی انقلاب کا دَور تھا اور اس بنا پر صنعت و حرفت کی اپنی ضروریات اور اپنے تقاضوں کے مطابق معاشرے کی تشکیل ہوئی تھی، چنانچہ جمہوریت صنعتی معاشرے میں سیاسی نظام کے طور پر رواج پذیر ہوئی اور اسے بجا طور پر قبولیت و پذیرائی ملی۔ لیکن جدید ترین دَور میں، جسے مغربی دنیا عام طور پر پسِ صنعتی معاشرہ (post- industrial society) کہتی ہے، مولانا حاضر امام شاہ کریم الحسینی آغاخان چہارم ”علمی معاشرہ“ (knowledge society) کا نام دیتے ہیں جس کا موازنہ ماضی قریب کے صنعتی معاشروں یا ماضی بعید کے زرعی معاشروں سے کرتے ہیں۔ اس معاشرے کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں کہ: ”اس نئے عہد ]یعنی علمی معاشرے[ میں اثر و رسوخ کی بالادستی کا ذریعہ مادّی طاقت اور فطری ذرائع کے بجائے معلومات، ذہانت اور حکمت و بصیرت سے رہنمائی حاصل کرے گا۔“ (آغاخان یونیورسٹی کے ۶۰۰۲ء کے جلسہئ تقسیم اسناد سے مولانا حاضر امامِ کا خطاب)
الغرض، پس جدید دَور میں ایسے نظام کی تشکیل و تعمیرکی ضرورت ہے جس میں تمام سماجی، سیاسی، معاشی اور انتظامی فیصلے علمی، عقلی اورسائنسی صلاحیتوں اور سرگرمیوں کی بنیاد پرہوں تاکہ علم پر مبنی معاشرے (Knowledge Society)کا قیام عمل میں آسکے۔ نیز اس میں فرد اور جماعت کو سماجی و معاشی انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پس ایسا علمی معاشرہ ماضی کی خود ساختہ،عوام دشمن اور علم بیزاراصول و قوانین اور قببیح حعزائم کی راہ روک سکتا ہے اور بنی نوع انسان کویقینی کامیابیوں کی روشن راہوں پر گامزن کر سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: