عوامی مسائل

قراقرم یونیورسٹی کو معاشی مسائل سے بچانے کے لیے نئے سب کیمپسز کے قیام پر پابندی لگانے کی سفارش

ہنزہ(پ ر)قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ کے زیر صدارت یونیورسٹی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ڈائریکٹر ریٹ آف پبلک ریلیشنز کے مطابق اجلاس میں وائس چانسلر کے ہمراہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی ڈی جی ثمینہ درنی،ملٹری اکاؤنٹ کے نمائندے سمیت یونیورسٹی کے سینئرانتظامی وتدریسی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کمیٹی کے سامنے گزشتہ سال کا بجٹ اور آئندہ سال کا بجٹ پیش کیاگیا۔بجٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یونیورسٹی اخراجات میں انتہائی سادگی کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کی تاکید کیاگیا۔اجلاس میں یونیورسٹی کے گزشتہ سال کے ایک ارب روپے کا بجٹ اور آئندہ سال کے ایک ارب 38کروڑ رپے کے بجٹ کو منظور کرتے ہوئے بجٹ میں ہر ممکن کفایت شعاری اور سادگی اختیار کرنے کو لازمی قرار دیاگیا۔اجلاس میں ہائیرایجو کیشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ڈی جی فنانس ثمینہ دررانی نے پورے پاکستان میں یونیورسٹی کو درپیش چیلنجز سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی اپنے ملازمین کی تنخواہوں،پنشن اور دیگر مراعات کے لیے ابھی سے ہی مناسب منصوبہ بندی کرے کیونکہ ملک کے بیشتر جامعات معاشی مشکلا ت کے شکار ہیں۔اس ضمن میں یہ طے پایاگیاکہ یونیورسٹی میں پروموشن اور نئے تقرریوں پرمکمل کنٹرول کرتے ہوئے صرف ضروری قسم اور فیکلٹی سے متعلق تقرریاں کی جائیں گی۔تاکہ یونیورسٹی کسی قسم کی معاشی بحران کاشکار نہ ہو۔اجلاس میں فنانس کمیٹی نے وائس چانسلر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ کی وژن اور فنانشل مینجمنٹ کو سراہتے ہوئے کہاکہ ان کی بھرپور کوششوں کی وجہ سے اس وقت یونیورسٹی کسی قسم کی بھی معاشی بحران سے دوچار نہیں ہے۔اور اسی حکمت عملی کو جاری رکھتے ہوئے تمام غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیاکہ یونیورسٹی میں تعلیم وتحقیق کی معیار کو بڑھانے کے لیے فیکلٹی کی تعداد کو ممکن حد تک بڑھایا جائے تاکہ فیکلٹی اور طلبا کی تناسب بہتر رہ سکے۔اجلاس میں ہنزہ،غذر اور چلاس کیمپسزکے لیے تاکید کی گئی کہ کیمپسز کو خود کفیل بنانے کے بہترین منصوبہ بندی بنائیں۔اجلاس میں معاشی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے سب کیمپسز کے قیام پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی تاکہ یونیورسٹی کسی قسم کی مزید معاشی مسائل سے دوچار نہ ہوسکے۔اجلاس میں کمیٹی ممبران نے صوبائی حکومت سے اپیل کیاکہ یونیورسٹی میں طلبا کی تعدا د میں اضافہ ہوا ہے۔لہذا طلبا کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے یونیورسٹی کو تعاون فراہم کرتے ہوئے یونیورسٹی کو خصوصی قسم کے گرانٹ منظور کرے۔تاکہ یونیورسٹی میں انفراسٹریکچر کو بہتربنانے میں مدد مل سکے۔اجلاس میں وائس چانسلر نے کمیٹی اراکین کا شکریہ ادا رکرتے ہوئے کہاکہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ہر ممکن کوشش کرینگے کہ یونیورسٹی کے وسائل کو بڑھایا جائے اور اخراجات کو کم از کم اس حد تک لایا جائے تاکہ یونیورسٹی کسی معاشی مشکلات سے دوچار نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ چار سال میں اسی کوشش کے ساتھ یونیورسٹی چلائی گئی کہ یونیورسٹی کسی قسم کی معاشی مشکل کا شکار نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: