کالمز

وہی عورت ہوں میں

تحریر ۔۔۔ شہناز علی

ان دلکش موسموں میں جھومنا چاہتی ہوں۔ ان سرسبز پھولوں کے ساتھ مچلنا چاہتی ہوں۔ ان برفیلے پہاڑوں کی سیر کرنا چاہتی ہوں اور ان خوبصورت اور حسین وادیوں میں ایک پرندے کی طرح اڑنا چاہتی ہوں۔ فقط انسان ہوں!!

سنا ہے دنیا بہت دلفریب اور خوبصورت ہے مگر ناآشنا ہوں خود سے اور دوسروں سے خفا ہوں۔ قدرت کی تخلیقات میں سے برگزیدہ ہوں ، پر اپنے آپ میں مگن اور اپنے آپ میں اندر کسی کی نہیں ہوں!

ایسی ہوں میں ویسی ہوں!

عورت ہوں!

اپنے لیے نہیں دوسروں کے لئے جیتی ہوں اور مرتی بھی دوسروں کے لئے ہوں۔
میری و حسین و جمیل آنکھیں جو امیدوں سے بھری اور آنسوؤں سے بھری ہیں اور وہ ہاتھ جو مسلسل مصروف اور مگن رہتے ہیں، جو تھکنا نہیں جانتے بس اپنے اولاد کی خاطر جو دنیا میں سب سے انمول ہوتی ہیں۔

ایک مخلوق کو اچھا انسان بناتی ہوں اپنی اولاد کو سینے سے لگا کر پیار کرتی ہوں۔میرا دل تو موم کی طرح نرم ہے دنیا کے لاکھ اختلافات اور دکھ کے باوجود میں آنسو پوچھ کر مسکراتی ہوں ۔

بچپن میں اپنے والد کی سر کی تاج بنتی ہوں اور اپنے شوہر کی عزت و وقار بنتی ہوں ۔کبھی کبھار شوہر کے دیئے ہوئے تکلیفات کو نظر انداز کر کے دل کو کھلا رکھتی ہوں!

میں وہی عورت ہوں!

خود سے جڑے ہر ایک کا خیال رکھتی ہوں دل میرا موم کی طرح پگھل جاتا ہے اپنے بھائی کے آنسو اور باپ کی بے بسی پر فقط بے بس جن کے لئے میں کبھی کبھی ایک عجیب مخلوق ہوں۔

وہی عورت ہوں میں۔

جب میں ماں بنتی ہوں تو میرے احسانات بے حساب ہوتےہیں! ،میں وہی عورت ہوں جو بے مثال قربانیاں دیتی ہے، اپنوں کے لئے۔ پر میں کسی کی اپنی نہیں ہوتی۔

بچپن میں والدین کہتے ہیں کسی اور گھر کی ہے اور سسرال والے کہتے ہیں کسی اور گھر کی ہے۔ مجھے خود نہیں پتہ کس کی ہوں!

وہی عورت ہوں۔

میری زندگی مختصر اور بہت پیچیدہ ہے۔ خود سے حیران ہوں میں ایسی کیوں ہوں! فقط عورت ہوں۔

ایک مخلوق کو خود سے شکل دیتی ہوں اپنے حصے میں سے اسے پہچان د یتی ہوں اور کبھی تکلیف نہیں ہونے دیتی ۔

دنیا کے لوگ کہتے ہیں عورت بہت بڑی عذاب ہے پر دیکھا جائے تو عورت وہ ہے جس کے لیے دنیا بنی۔ بیٹی ہر گھر میں نہیں ہوتی ایسے جیسے پھول ہر ایک کے آنگن میں نہیں کھلا کرتے۔ میں نفرت بھی اتنی کرتی ہوں جتنی محبت اور میں وہی عورت ہوں

۔میرے ظلم و ستم کی انتہا ہوتی ہے پر دل میں کسی کے لیے بھی بغض نہیں رکھتی ہوں! بس دل میں ہی رکھتی ہوں اور مسکراتی ہوں۔

مجھے باپ قتل کرتا ہے بھائی گولی مار دیتا ہے اور باپ کو میں بچپن میں ہاتھوں سے کھانا کھلایا کرتی اس کے بڑھاپے میں اس کا سہارا بنتی ہوں اور وہ بھائی جس سے میں دل و جان سے چاہتی ہوں وہی میرے لئے وبال جان بنتا ہے۔

افسوس کرتی ہوں معاشرہ کے لوگوں پر جو عزت غیرت سب مجھ سے جوڑ کے بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کی خبر نہیں انہیں۔تو وہ معصوم ہنستی ہو جو ہر تکلیف میں مبتلا چیز کو نجات دلاتی ہوں وہی عورت ہوں میں!

اس رنگ برنگی دنیا میں آزاد بھی اور قید بھی ہوں۔سوچتی ہوں کہ میں اس زمانے کے قابل نہیں ہوں یا زمانہ میرے قابل نہیں ہے ؟

میری بہت سے شکلیں ہیں اچھے بھی اور برے بھی، پر ہر شکل میں موجود ہو وں۔ سہارے کی محتاج وہ جو قدرت نے مجھے مکمل بنایا ہے یا نامکمل قدرت صحیح جانتا ہے!

میں وہی بے بس عورت ہوں۔

کمزور نہیں صرف، بہادر بھی ہو ں میرے کندھوں پر بوڑھے والدین کا سہارا بھی ہے اور میں شوہر کی ہمت بھی ہو ں۔عورت ہوں میں!

آزاد ہوں میں ایک ایسے پرندے کی مانند ہوں جس کو قید میں رکھ کر آزادی کے دلاسے دیے جاتے ہیں جو آزادی کی ہزار خواہشات رکھتی ہے اور آخر میں کسی پنجرے میں اس کی موت ہو جاتی ہے!

میں وہ عورت ہوں۔

میں اپنے ماں اور باپ کی سانسوں میں بسی احساس ہوں اور ماں کی محبت کا انداز ہوں۔ بیٹی بھی ہوں۔ ماں بھی ہوں۔ عورت ہوں

۔ان مردوں کی شان ہوں جو عورت دل سے عزت کرتے ہیں۔دین اسلام سے جوڈی ایک حسین شخصایت ہوں اور اسلام کی تابعدار ہوں!

الحمدللہ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button