کالمز

سماجی علوم اور سماجی شعبے، راستہ کھٹن، منزل دشوار

سماجی علوم یا سوشل سائنسز  کے شعبوں میں نوکری ڈھونڈنا قدرے مشکل اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا اس سے بھی زیادہ دشوار مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہی سمجھ آتی ہے، کہ سماجی مسائل عموماً زیادہ گھمبیر اور کثیر جہتی نوعیت کے ہوتے ہیں لہٰذا ان مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل اور بہتر نتایج کے لیے طویل مدتی بنیاد پر پرکھا اور سوچا جاتا ہے، اور پھر اس کے لیے طویل مدتی بنیاد پر مالیاتی وسائل (فنڈز) درکار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سرکاری محکمے سماجی شعبوں کے بجائے انتظامی شعبوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہے، اور سماجی شعبوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ سرکاری محکموں کی ترجیحات اور سرکاری انتظامی ڈھانچے کی اس حکمت عملی کی وجہ سے غیر سرکاری ادارے یعنی این جی اوز وجود میں آتے ہیں، جو زیادہ تر سماجی مسائل، وجوہات اور ان کے حل پر کام کرتے ہیں ۔ یہ غیر سرکاری ادارے زیادہ تربین الاقوامی اداروں کی مالی معاونت سے چلتے ہیں، لہٰذا ان اداروں کا بنیادی ڈھانچہ غیر مستقل اور نوکری کی ساخت قلیل مدتی بنیادوں پر رکھی جاتی ہے، کام مکمل ہوتے ہی ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیا جاتا ہے، اس کے علاوہ چونکہ ملازمت عارضی نوعیت کی ہوتی ہے، اس لئے عموماً اضافی مراعات مثلاً میڈیکل، چھوٹیاں، رہایش، ٹرانسپورٹیشن وغیرہ بھی نہیں ملتے ۔ یہی سے شروع ہوتی ہے سماجی شعبوں اور اس سے وابسطہ سماجی طالب علموں کے مسائل ۔ ۔ ۔

وہ لوگ جو کسی طرح سی ایس ایس یا فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کسی سرکاری محکمے میں نوکری ڈھونڈنے میں کامیاب ہوتے ہیں، وہ خوش قسممتی سے اس سارے مسئلوں سے بچ جاتے ہیں، اور ایک خوشگوار زندگی بسر کر لیتے ہیں، لیکن باقی تمام جو غیر سرکاری محکموں میں کام کر تے ہیں، ان کے لیے یہ ایک جہد مسلسل کی طرح زندگی بھر کا ذہنی تناؤ بن جاتا ہے، اگر کو ئی چیز زندگی میں کام آتی ہے یا ان کے پریشانی کو دور کرسکتی ہے ، وہ ہے ان کی ڈگریاں، تجربہ یا وہ لوگ یا ذاتی تعلقات، جن کے ساتھ انہوں نے کام کیا ہوتا ہے، جو انہیں ان کے کام کے حوالے سے جانتے ہیں، پہچانتے ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں این جی اوز چلانے والے افراد خود سماجی علوم یا سوشل سائنسز کی اہمیت یا اس کے دائرہ کار سے نا آشنا ہوتے ہیں، اور عموماً سوشل سائنسزکی جگہ دوسرے لوگوں کو ترجیح دیتے ہیں، جن کا تعلق عموماً ایڈمنسٹریٹو سائنسز سے ہوتا ہے، جو کہ سرا سر نا انصافی ہے۔ فرسودہ نظام اور اقرباء پروری کے اس ماحول میں رایٹ مین فار دی رایٹ جاب (Right man  for  the  right  job)کا نظریہ عموماً ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے۔

ایک سماجی طالب علم اور غیر سرکاری محکمے سے وابسطہ ہونے کی وجہ سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سماجی علوم سے وابسطہ افراد غیر سماجی علوم کی نسبت زیادہ محنت، اور اپنے نوکری کو مستقل بنیادوں پر چلانے کے لیے انہیں زیادہ مہارت درکار ہوتی ہے۔ اور اس کے علاوہ بدلتے حالات اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ڈھالنے کے لیے نئے مہارت اور نئے طور طریقوں کو بھی اپنانا پڑتا ہے، ورنہ ترقی کی گاڑی رک جاتی ہے یا پھر ایک مخصوص شعبے کی حد تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں، اور زیادہ تر مواقعوں پہ اپنے نوکری سےبھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔

عمومی طور پر کمیو نیکیشن سکلز (Communication skills) ، نیگو سیشن اسکلز (Negotiation Skills) ، پریزنٹیشن اسکلز (Presentation Skills)، ڈسیشن میکنگ(Decision Making) اور پرابلم سولونگ اسکلز (Problem Solving Skills) کوہی پیشہ وارانہ زندگی میں ترقی اور کامیابی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن سماجی علوم سے وابسطہ افراد کو اس کے علاوہ بھی مختلف مہارتوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو مختلف شعبوں کے حساب اور مناسبت سے اپنائے جاتے ہیں۔

سب سے پہلی چیز جو میرے نظر میں ضروری ہے، وہ یہ کہ جہاں تک ہو سکے سماجی علوم سے وابسطہ افراد ایم فل (M Phil)اور پی ایچ ڈی(PhD) کرے اور اس کے بعد پیشہ ورانہ زندگی میں قدم رکھیں، ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ لوگوں کو نوکری ڈھونڈنا نسبتاً  آسان اور اسے مستقل طور پر جاری رکھنا بھی قدرے آسان ہوتا ہے، لیکن اکثر مالی مشکلات اور کیریر گائڈنس کی کمی کی وجہ سے اس کا رجحان بہت کم دیکھنے میں آتا ہے اور بہت سے ذہین طلباءہمیشہ کے لیے اس سے محروم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پیشہ ورانہ زندگی میں پیچھے اور مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔

دوسری چیز یہ کہ جو افراد درس و تدریس سے وابسطہ رہنا چاہتے ہوں، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ فوراً وقت ضایع کیے بغیر بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کریں، اور اپنے لیے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرے، اگر اس کے ساتھ ایم فل یا پی ایچ ڈی ہو تو آپ کی ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

وہ افراد جو صحت کے شعبے سے وابسطہ رہنا چاہتے ہوں، ان کے لیے ضروری ہے کہ ایم پی ایچ(MPH)،

ہیلتھ پالیسی منیجمنٹ (Health policy & management)یا ایپی ڈیمیالوجی اوربائیواسٹیٹسٹکس(Epidemiology & biostatistics) کی اضافی ڈگریاں حاصل کریں اوراس کے بعد کامیابی یقیناً آپ کی قدم چومے گی ۔

ریسرچ یعنی تحقیق کے شعبے سے وابسطہ افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ڈیٹا سائنس یا ڈیٹا منیجمنٹ (Data management)کےاضافی کورسز مکمل کرے، اور اپنے انیلےٹکل اسکلز (Analytical Skills) کوبڑھایے، اس کے علاوہ انگریزی زبان پر بھر پور عبور حاصل کرے تاکہ رپورٹ رایٹنگ(Report writing)، پروپوزل رایٹنگ(Proposal writing) اور مینو اسکرپٹ رایٹنگ (Manuscript writing) جیسے کام جو ریسرچ کے ضروری ہے، بغیر کسی مشکل اور مدد کےکر سکے۔ جہاں تک ڈیٹامینجمنٹ کا تعلق ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ کچھ کمپیوٹر پروگرامز مثلاً ایس پی ایس ایس(SPSS)، سیس(SAS)، سٹیٹا(Stata) ، ای پی آیی ڈیٹا(Epiinfo/EpiData/EpiData Manager) ، این وی وو(NviVo) ، اوپن کوڈ(Open code) ، آرپراگرامنگ(R programing)، پا ئتھن (Python)، ریڈکیپ(RedCap)، این نوٹ (EndNote) جیسے پروگرامز میں مہارت حاصل کریں، تاکہ ان مہارتوں کے ساتھ نا صرف ریسرچ بلکہ فری لانسنگ(Free Lancing) اور کنسلٹینسی (Consultancy)کے ذریعے بھی کام کر سکے ۔

ریسرچ منیجمنٹ اور اس کے علاوہ مختلف پروگرامز کی مانیٹرنگ (Monitoring & evaluation) کے لیے پروجیکٹ منیجمنٹ اور ریسورس منیجمنٹ کا کورس کریں، سوشل آڈٹ کے مختلف ٹولزاور پی آراے ٹولز اور ساتھ ساتھ کمیو نیکیشن سکلز، نیگو سیشن اسکلز، پریزنٹیشن اسکلز، ڈسیشن میکنگ اور پرابلم سولونگ اسکلز جیسے مہارت جس کا تذکرہ اوپربھی کیا گیا، ان پر عبور حاصل کریں ۔

اس کے علاوہ سماجی علوم سے وابسطہ افراد چونکہ لوگوں کے بنیادی رویوں اور معاشرے کے اتار چڑھاؤ سے متعلق معلومات رکھتے ہیں، لہٰذا مارکیٹنگ اور کاروباری شعبوں میں بھی اپنا لوہا منوا سکتے ہیں، اور ساتھ ساتھ وکالت کی اضافی ڈگری کے ساتھ انصاف اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اورایجنسیوں میں بھی کام کرسکتے ہیں، اور صحافت کے شعبے سے بھی منسلک ہو سکتے ہیں ۔

وہ ادارے جو ہیومن رایٹس(Human rights)، جنڈرایشوز(Gender issues) ، اور بین الاقوامی تعلقات (International relations)جیسے موضوعات پرکام کرتے ہیں،ان اداروں میں بھی مندرجہ بالا مہارت کے ساتھ سماجی علوم سے وابسطہ افراد اپنا بھر پور لوہا منوا سکتے ہیں ۔

ایسے افراد جن کو بنیادی مالی مشکلات کا سامنا ہے، ان کے لیے ضروری ہے کہ وقتی طور پر چھوٹے چھوٹے بنیادی اور غیر متعلقہ شعبوں سے وابسطہ رہے، فارغ بیٹھ کر اپنا وقت ضایع مت کریں، بلکہ اپنے متعلقہ شعبے میں مہارت اور اسکلز پر مسلسل کام کرے ۔ انٹرن شپ (Internship) کریں، کسی ادارے میں والنٹیرشپ (Volunteer ship) کریں، اس طرح لوگوں کو آپ کے بارے میں زیادہ جاننے کا موقع ملے گا، آپ کے تعلقات بڑھیں گے، آپ کی خود اعتمادی بڑھے گی اور آپ پہلے سے بہتر انداز میں اپنے آپ کو پیش کر سکیں گے ۔ اس کے ساتھ مارکیٹ کے اتار چھڑاؤ اور سماجی اور معاشی صورتحال پر نظر رکھیں اور موقع ملتے ہی اپنے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
%d bloggers like this: