کالمز

گرم چشمہ ۔ کیا حقیقت, کیا فسانہ

گرم چشمہ ضلع غذر، تحصیل یاسین کے خوبصورت وادی درکوت میں واقع ہے۔ درکوت خاص سے گرم چشمے کا سفر  تقریباً 12 سے 14 کلو میٹر پر مشتمل ہے، یہ راستہ نسبتاً آسان ہے۔ راستے میں خوبصورت قدرتی مناظرکا نظارہ کرتے ہو ئے تھکن کا احساس نہیں ہوتا اور وقت کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ راستےمیں ایک جگہ روات بھی آپ کا استقبال کرے گا۔ یہ وہی جگہ ہے، جس کے بارے میں مستنصر حسین تارڑ نے اپنی کتاب "یاک سرائے” کے صفحہ نمبر 438-432 میں تفصیل سے تزکرہ کیا ہے۔ روات میں گزارے ہو ئے ایک دن کا ذکر وہ ایک شعر سے شروع کرتے ہیں۔

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
کسی کو   ہم نہ  ملے  اور  ہم کو تو نہ ملا

مستنصر حسین تارڑ خوبصورت جگہ روات کے بارے میں لکھتے لکھتے اپنے تحریر کا اختتام کچھ یوں کرتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ "مجھے اس شب بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ کہ یہ مجھ پر خیمے کا پردہ سایہ فگن ہے اور میں اپنے سلیپنگ بیگ میں ایک انجانی وادی کی گھاس پر لیٹا ہوں تو آج کی شب کے بعد زندگی ختم ہو جائے گی۔ کل ہم چناران گلگت کے راحت بھرے بیڈ رومز میں فوم کے گدوں اور سفید بیڈ شیٹس میں استراحت فرما ئیں گے۔ ۔ ۔ مجھے بہت قلق ہوا ۔ ۔ ۔ کم از کم ایک برس تک میرے آس پاس کبھی اتنے نیلے آسمان اور سفید گلیشر نہ ہوں گے۔ گرم چشمے نہ ہوں گے، آبشاریں نہ ہوں گے ۔ ۔ ۔ بہت قلق ہوا۔

لوگوں کا ماننا ہے کہ اس گرم چشمہ سے مختلف جسمانی تکالیف سے شفاء ملتی ہے، مگر اس کا فیصلہ میں قارئین پر چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن میں اس بات کا گواہ ہوں اور بچپن سے یہ دیکھتا آیا ہوں کہ اس کے عقیدت مند گلگت بلتستان کے تقریباً سارے جگہوں سے جوق در جوق گاڑیوں میں بھر بھر کر آجاتے تھے اور خوشی خوشی واپس چلے جاتے تھے، اور یہ سلسلہ اج تک جاری و ساری ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔گرم چشمہ جانے کا صحیح وقت موسم گرما کے شروع میں یعنی جون اور موسم گرما کے آواخر یعنی اگست سمجھا جا تا ہے، اس کی وجہ شا ئد اس کا بہت زیادہ گرم ہونا ہو سکتا ہے۔ اس کی درجہ حرارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انڈا دس سے پندرہ منٹ میں پک جاتا ہے۔ اس چشمے کے پانی میں گندھک کے اثرات نمایاں ہیں۔

گرم چشمے کے دو پہلو ہیں، ایک افسانوی اور دوسری حقیقی ۔۔ ۔

درکوت کے مشہور سماجی و مذہبی شخصیت اور ریٹا ئر ڈ مداریس اے کے ای ایس پی درکوت(1986-1960) محترم جناب ماسٹر نائب خان صاحب اکثر ہمیں کہانی کی صورت میں بتاتے تھے کہ ۔ ۔ ۔ "پرانی روایت ہے کہ اس چشمے کی دریافت ایک اجنبی بزرگ نے کی تھی، جسے کو ئی نہیں جانتا تھا۔ ایک دن دوپہر کے وقت ایک مقامی دیہاتی نے اس بزرگ اجنبی شخص کو ایک پتھر پر بیٹھا دیکھ کرسوال کیا کہ آپ کون ہے اور یہاں کیا کر رہے ہیں، جواباً اس بزرگ شخص نے کہا کہ میں گرم چشمہ گیا تھا، اور ساتھ ہی اس نے راستہ اور مقام کی نشاندہی بھی کی۔ دیہاتی حیران و پریشان ہوا کیونکہ مقامی ہونے کے باوجود اس نے کبھی ایسی کسی چشمے کے بارے میں نہیں سنا تھا اور نہ دیکھا تھا۔ لہذا جھوٹا اور جاسوس سمجھ کے دیہاتی نے اسے مارنے کا منصوبہ بنایا۔ تھوڑی دیر بعد جب دیہاتی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دوبارہ وہاں پہنچا تو وہ اجنبی بزرگ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ دیہاتیوں نے اس کی تلاش شروع کر دی، مگر وہ دوبارہ کہی نظر نہیں آیا، دیہاتی نے مختلف لوگوں سے پوچھا لیکن سوا ئے اس کے اور کسی نے بھی اس بوڑھے شخص کو نا آتے دیکھا تھا نا جاتے ہو ئے۔ یہ بات بڑی عجیب تھی کہ اتنے کم وقت میں یہ گیا کہاں؟ کیونکہ اس زمانے میں آمدورفت کے اتنے آسان ذرا ئع نہیں تھے۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں نے اس بوڑھے شخص کے بتائے ہو ئے نقشے کے مطابق گرم چشمہ کی تلاش شروع کی۔ پتہ چلا کہ بالکل اس جگہ اسی راستے وہ چشمہ موجود تھا، جس کے بارے میں اس بوڑھے شخص نے نشاندہی کی تھی، لیکن وہ شخص خود دوبارہ کہی نظر نہیں آیا۔ اس عجیب حیرت پر گاؤں کے لوگوں نے سوچا کہ یقیناً وہ شخص کو ئی فرشتہ ہی ہو گا جسے اس گرم چشمہ کے بارے میں معلوم تھا۔لہذا گاؤں کے لوگوں نے اسی جگہ جہاں یہ شخص بیٹھا تھا، ایک زیارت تعمیر کرنے کا ارادہ کر لیا۔ یہ زیارت آج بھی موجود ہے اور اس کی وجہ سے پورے علاقے کا نام بروشسکی زبان میں "زیارت یارے” رکھ دیا گیا۔

یہ تھا اس چشمے کا افسانوی پہلو ، لیکن حقیقی پہلو یہ ہے کہ یہ چشمہ آج بھی اپنے اصلی حالت میں موجود اور قائم ہے۔ اس چشمے کے ساتھ ہی عقیدت مندوں کے لئے فی سبیلل ﷲ ایک کمرہ تعمیر کیا گیا ہے، جہاں پر آرام کیا جا سکتا ہے اور کھانے پینے کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔آپ کو اس چشمے سے شفاء ملے یا نہ ملے، لیکن اس بات میں کو ئی شک نہیں کہ آپ کا سفر شاندار اور لمحات ہمیشہ کے لئے خوشگوار اور یادگار رہینگے۔

میری دعا ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے عقیدت مندوں کو اپنی رحمت سے شفاء نصیب فرما ئے! آمین ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button