جرائمخصوصی خبر

دو میگاواٹ بلے گوند پاور پروجیکٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دو الگ الگ تحقیقات جاری

گانچھے (محمد علی عالم) – 2 میگاواٹ بلے گوند ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں مبینہ بے ضابطگیوں پر دو الگ الگ تحقیقات جاری ہیں۔ اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (FIA) اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (CMIT) نے علیحدہ علیحدہ انکوائریاں شروع کر رکھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، FIA کمپوزٹ آفس سکردو نے اس منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے ایک سرکاری ٹھیکیدار، مسٹر غلام علی حیدری (سی ای او، M/S حاجی روزی اینڈ سنز) کی شکایت پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ ان کی شکایت میں منصوبے کی ناقص تعمیر اور تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

محکمہ برقیات گانچھے کے ایگزیکٹو انجینئر نے 17 فروری 2025 کو سپرنٹنڈنگ انجینئر سرکل آفس سکردو کو ایک خط (E.E-W&P-MISC-5(15)/2024-25/0121) لکھا، جس میں FIA کی جانب سے طلب کردہ ریکارڈ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس ریکارڈ میں منصوبے کا مکمل پی سی ون، خریداری کے دستاویزات، لاگت کا تخمینہ، فزیبلٹی کی منظوری دینے والے افسران کی تفصیلات، اور مرمت و دیکھ بھال کے اخراجات سمیت دیگر اہم دستاویزات شامل ہیں۔

اسی دوران، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی ہدایت پر ایک علیحدہ تحقیقاتی ٹیم (CMIT) بھی اس منصوبے کی چھان بین کر رہی ہے۔ یہ ٹیم غیر مجاز اخراجات، ناقص فزیبلٹی، غلط سائٹ سلیکشن، اور سرکاری فنڈز کے ممکنہ نقصان سے متعلق معاملات کی جانچ کر رہی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے پہلے ہی منصوبے کی سائٹ کا تفصیلی جائزہ لے کر تمام متعلقہ ریکارڈ اکٹھا کر لیا ہے، تاہم ان کی حتمی رپورٹ تاحال جاری نہیں کی گئی۔

محکمے کے مطابق، داخلی اور محکمانہ تحقیقات میں کسی مالی بے ضابطگی یا فنڈز کے غلط استعمال کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ تاہم، ایگزیکٹو انجینئر، محکمہ برقیات گانچھے کا کہنا ہے کہ FIA اور وزیر اعلیٰ کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے تقریباً یکساں نوعیت کی تحقیقات کیے جانے سے انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مزید برآں، کئی اہم ریکارڈز وزیر اعلیٰ کی ٹیم کی تحویل میں ہونے کے باعث FIA کی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال میں، متعلقہ حکام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور تحقیقاتی عمل کو مربوط بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کریں، تاکہ غیر ضروری تاخیر اور دہرائی سے بچا جا سکے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button