صدقہ یا تشہیری مہم؟؟

حدیث کا مفہوم ہے کہ "صدقہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔”
طلحہ محمود صاحب کی ایک ویڈیو گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں موصوف فون پر ضلع غذر میں سیلاب سے متاثرہ ایک بچی سے بات کر رہے ہیں، فون اسپیکر پر رکھا ہے اور ویڈیو ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ وہی لڑکی ہے جس کا پامیر ٹائمز کو دیا گیا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا تھا۔ ایک دن بعد دوسری ویڈیو منظرعام پر آئی جس میں وہی بچی اور اس کے والد "سنیٹر صاحب” کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ایک لڑکی جس کا گھر بار، کتابیں، سامان، کپڑے سب کچھ سیلاب کی نذر ہو چکا ہے، بسے بسائے گھر سے نکل کر خیمے میں زندگی گزار رہی ہے، ذہنی اور نفسیاتی طور پر وہ اس آفت کے اثرات سے باہر نہیں نکلی ہے۔۔۔ ایسی نازک صورتحال میں طلحہ محمود اس بے بس بچی کے چہرے کو بل بورڈ (Bill Board) بنا کر "شہرت” بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کام وہ خاموشی سے بھی کر سکتے تھے۔ کہتے ہیں کہ پہلے زمانے میں اللہ کے نیک بندے رات کے اندھیرے میں صدقہ دیا کرتے تھے تاکہ تاریکی کی وجہ سے فقیر پہچان نہ سکے، فقیر کی عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو اور ریا کاری کا شبہ بھی نہ ہو۔ یہاں یہ لوگ فقیر بھی نہیں ہیں۔
یہ کسی ایک بچی کی کہانی نہیں ہے، حالیہ سیلاب سے ہزاروں افراد صرف گلگت بلتستان میں بے گھر ہوچکے ہیں، 30 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ جو جسمانی طور زخمی نہیں ہوئے ان کی روح اور عزت نفس کو طلحہ محمود جیسے لوگ اور ادارے گھائل کرتے ہیں۔ ان کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں اور ان بے بس افراد کو بھکاری بنادیتے ہیں۔
موصوف اس سے قبل بھی اس نوعیت کی اوچھی حرکتیں اور ہتھکنڈے کرتے رہے ہیں، گزشہ چند سالوں سے چترال سے مسلسل ان کی ویڈیوز سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر آتی رہتی ہیں جس میں وہ سڑکوں کو نقد پیسے تقسیم کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ لوگوں کی مدد کرنا، صدقہ دینا اچھا کام ہے لیکن اس کا بھی ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، ان کے مطابق آپ بغیر رضامندی کے کسی کی ویڈیو یا تصویر نہیں اتار سکتے اور نہ ہی شائع اور نشر نہیں کر سکتے ہیں، یہ اخلاقیات کے بھی خلاف ہے اور قانونی طور پر بھی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں میں موصوف سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا طلحہ محمود یا اس کی ٹیم نے بچی کی کال ریکارڈنگ اس کی مرضی سے کی تھی؟ سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے سے قبل بچی یا اس کے والدین سے پوچھا تھا؟؟ آپ اپنی تشہیر کے لیے کسی بے بس و لاچار کا چہرہ کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟؟
جس طرح شاہراہ قراقرم پر ایبٹ آباد سے چلاس تک شاہراہ کے اطراف موجود چٹانوں اور پتھروں پر سینیٹر صاحب نے اپنے نام کی وال چاکنگ کرائی ہے وہی اب سوشل میڈیا کی دیوار پر بھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے طلحہ محمود کی نیت پر کوئی شک نہیں لیکن طریقہ کار پر شدید اعتراض ہے۔ اگر آپ صدقہ دینا چاہتے ہیں، لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں، ضرور کیجئے، لیکن لوگوں کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ مدد کرنے سے پہلے ہر وقت کیمرہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
گلگت بلتستان کے متاثرہ علاقوں میں اس وقت بہت سارے ادارے اور مخیر افراد سیلاب زدگان کی مدد اور خدمت کر رہے ہیں اور وہ احسن طریقے سے کر رہے ہیں جس میں AKAH، الخدمت فاونڈیشن اور دیگر شامل ہیں۔ اسی طرح کئی مخیر حضرات ہیں جو اپنا نام صیغہ راز میں رکھ کر متاثرین کی مدد کر رہے ہیں۔
ایسے کچھ لوگوں کو میں جانتا ہوں جو مستحق طلباء کے تعلیم کے سارے اخراجات اٹھاتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی نہ وہ خود کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں میں مختصرا ایک شخصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جسے میں گزشتہ پندرہ سالوں سے جانتا ہوں۔ چترال سے تعلق رکھنے والی سفیرہ سیف کا شمار بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے گلگت بلتستان اور چترال کے طلباء کے لیے MASS نام کا ادارہ بنایا ہے، جس کے تحت اب تک چترال اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد طلباء کو اسکالرشپ ملتا ہے۔ تالی داس سے تعلق رکھنے والی اس بچی کے سارے تعلیمی اخراجات کو پورے کرنے کا وعدہ بھی سب سے پہلے انہوں نے کیا تھا۔ بچی کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے اگلے روز ہی صفیرہ صاحبہ نے ان کے خاندان والوں سے بات تھی لیکن اس کی تشہیر نہیں کی۔
میں مخیر افراد اور اداروں سے گزارش کرتا ہوں کہ امدادی سامان بانٹتے وقت اور مدد کرتے وقت کیمرے بند رکھیں، ساتھ ہی متاثرہ لوگوں سے بھی اپیل ہے کہ "جعلی خدمتگاروں” اور اداروں کے لیے تشہیر کا سامان نہ بنیں کیونکہ بہت سارے افراد اور ادارے اپنے سیاسی مقاصد اور اپنی ذاتی تشہیری مہم کے لیے آتے ہیں خدمت کے لیے نہیں۔
آخری گزارش میری میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین اور خودساختہ صحافیوں بشمول کانٹنٹ کریئیٹرز (Content Creators) سے ہے کہ ہر خبر بریکنگ نیوز نہیں ہوتی اور بنا کانسنٹ (رضامندی کے بغیر) ویڈیو/تصویر بنانا اور اپلوڈ کرنا غیراخلاقی اور غیرقانونی عمل ہے۔ جس مجبور اور بے بس شخص کی آپ ویڈیو بناتے ہیں کبھی خود کو اس کی جگہ رکھ کر بھی سوچئے۔