کالمز

ایک تصویر، ایک عہد، اور روشنی کا سفر

تحریر: ایس این پیر زادہ

1987 کی یہ تصویر بظاہر ایک یادگار لمحے کو محفوظ کرتی ہے، مگر درحقیقت یہ چترال میں شعبہ صحت کی تاریخ کے ایک اہم باب کی بنیاد ہے۔ سن 1987 کا یہ منظر اس وقت کا ہے جب انچاسواں امامِ شاہ کریم الحسینیؒ نے چترال کے علاقے بونی کا دورہ کیا اور آغا خان بیسک ہیلتھ یونٹ میں موجود نرسنگ اسٹاف سے خصوصی ملاقات کی۔ اس تصویر کے پس منظر میں جو کہانی پوشیدہ ہے، وہ محض ایک ملاقات کی نہیں بلکہ قربانی، عزم اور مستقبل کی تعمیر کی داستان ہے۔
میرے والدِ محترم عالیجاہ سید نورالدین پیرزادہ، جو اس زمانے میں آغا خان لوکل ہیلتھ بورڈ کے چیئرمین تھے، اس ملاقات کے پس منظر کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ستر اور اسی کی دہائی میں چترال، بالخصوص اپر چترال، صحت کے شدید بحران سے دوچار تھا۔ خواتین میں غذائی قلت (میل نیوٹریشن)، مناسب خوراک کی عدم دستیابی اور زچگی کے دوران ماں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا تھا۔ ان حالات سے نمٹنے کے لیے آغا خان ہیلتھ سروس نے عملی بنیادوں پر کام کا آغاز کیا، مگر وسائل اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی سب سے بڑا چیلنج تھا۔
پورے اپر چترال میں اس وقت صرف دو تربیت یافتہ خواتین نرسیں موجود تھیں، جن پر چالیس سے پچاس ہزار کی آبادی کو آگاہی، علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری آن پڑی تھی۔ جیسے جیسے عوام میں علاج کی اہمیت کا شعور بڑھا، صحت کی سہولیات کی قلت نمایاں ہوتی چلی گئی۔ شکایات بڑھنے لگیں اور بعض اوقات ایسے دلخراش واقعات پیش آئے کہ مناسب سہولت نہ ملنے کے باعث ماں اور بچہ دونوں جان کی بازی ہار گئے۔ اس مسلسل دباؤ اور نامساعد حالات کے نتیجے میں بنیادی مرکزِ صحت کا نرسنگ اسٹاف مستعفی ہوگیا، جس سے بحران مزید گہرا ہوگیا۔
ایسے نازک وقت میں مقامی کمیونٹی اور ہیلتھ بورڈ نے مرکزی کونسل سے مدد کی اپیل کی۔ ادارے نے اس اپیل پر فوری لبیک کہا اور کراچی سے تربیت یافتہ نرسوں کو اپر چترال بھیجا۔ یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے ادارے کے حکم پر نہ صرف ایک دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے کا رخ کیا بلکہ وہاں پہنچ کر، جہاں بنیادی سہولیات کا تصور تک موجود نہ تھا، اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے اپنے بہترین خدمات سر انجام دیں۔
1987 میں امام شاہ کریم الحسینی کی جانب سے ان نرسنگ اسٹاف سے خصوصی ملاقات دراصل اسی عزم، قربانی اور خدمت کے اعتراف کا اظہار تھا۔ یہ تصویر محض ایک یادگار لمحہ نہیں، بلکہ روشنی کے ان دروازوں میں سے ایک ہے جن سے گزر کر آج چترال کی بچیاں نرسنگ کے شعبے میں بہترین تربیت اور ہنر کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ یہی بچیاں آج یورپ، عرب ممالک اور دنیا کے مختلف خطوں میں انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اور اپنے علاقے کی اس خاموش مگر عظیم جدوجہد کی امین ہیں۔
یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی انقلاب نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل محنت، ادارہ جاتی بصیرت اور انسان دوستی کے جذبے سے آتا ہے۔ بونی کی اس تصویر میں محفوظ لمحہ دراصل چترال میں صحت کے شعبے میں ایک روشن مستقبل کی بنیاد ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب چترال پوری دنیا بہترین تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف فراہم کرنے والا علاقہ قرار پائے گا۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button