گلگت کی بیٹی کی للکار اور لرزتا ہوا نظام
کالم : قطرہ قطرہ
گزشتہ روز گلگت کی فضا میں ایک عجیب سی تپش تھی۔ یہ موسم کی حدّت نہیں تھی، بلکہ ان دلوں کی گرمی تھی جو برسوں کی محرومی، اذیت اور ناانصافی کا بوجھ اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ پانی کی مسلسل بندش اور بیس بائیس گھنٹے طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جب خواتین اور بچے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے کھڑے تھے تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا شہر اپنے بنیادی حق کے لیے فریاد نہیں بلکہ فیصلہ کن اعلان کر رہا ہو۔
اسی ہجوم میں ایک مقامی خاتون کی آواز گونجی، جو صاف، بے باک اور لرزہ خیز تھی۔ وہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندہ نہیں تھیں، نہ ہی کسی تنظیم کی قائد تھیں، وہ ایک عام گھریلو خاتون تھیں، مگر اس دن وہ پورے شہر کی ترجمان بن چکی تھیں۔ ان کے الفاظ تیر کی طرح سیدھے دل میں اترتے تھے، ان کا کہنا تھا گلگت شہر کو حکمرانوں نے نامکمل منصوبوں کا قبرستان بنایا ہے، پانی کوئی سہولت نہیں، زندگی ہے۔ اگر زندگی کے لیے بھی سڑکوں پر آنا پڑے تو یہ نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ اس نظام کے رکھوالوں کو باضابطہ لعنت بھیجا جس سے اس غیرت مند خاتون کا درد، محرومی، کرب اور گٹھن صاف ظاہر ہوتا تھا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ گلگت کی ہر خاتون ایسے کرب سے گزرتی ہے۔ پانی، بجلی، سڑک اور آٹے کی عدم فراہمی سب سے زیادہ خواتین کو متاثر کرتی ہے کیونکہ یہی خواتین گھروں کا نظام چلاتی ہیں۔
اس سراپا احتجاج خاتون کی گفتگو میں غصہ بھی تھا، درد بھی اور دلیل بھی۔ انہوں نے حکومتی بے حسی کو للکارا، انتظامی نااہلی کو آئینہ دکھایا اور اس سوچ کو رد کیا جو عوامی احتجاج کو وقتی شور سمجھتی ہے۔ ان کے وائرل کلپس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا، مگر اصل تہلکہ ان ایوانوں میں برپا ہونا چاہیے تھا جہاں فیصلے ہوتے ہیں۔
آج گلگت کا منظر کسی ترقی پذیر شہر کا نہیں بلکہ ایک ایسی بستی کا ہے جسے ادھورے منصوبوں اور ناقص حکمت عملی نے کھنڈرات میں بدل دیا ہو۔ سیوریج کے نام پر کھودی گئی سڑکیں، ٹوٹی ہوئی گلیاں اور جگہ جگہ بکھری مٹی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ منصوبہ بندی سے زیادہ ترجیح شاید کمیشن اور مراعات کو دی گئی۔ مسافر ذلیل، مریض پریشان، طلبہ ذہنی اذیت میں اور تاجر کاروباری جمود کا شکار ہیں۔ ہفتوں پانی بند، بجلی غائب، آٹا ناقص اور اشیائے خوردونوش مضر صحت، یہ سب کسی ایک شعبے کی ناکامی نہیں بلکہ پورے انتظامی ڈھانچے کی کمزوری کا نوحہ ہے۔
یہ صورتحال صرف گلگت شہر تک محدود نہیں ہے ، پورا گلگت بلتستان انہی مسائل کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ایک طرف سیلاب اور قدرتی آفات کے متاثرین آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں، دوسری طرف شہری و دیہی علاقوں کے مکین بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی بساط بچھانے میں مصروف ہیں، بیوروکریسی پر عیاشی اور بے حسی کے الزامات گردش کر رہے ہیں، اور حکومت یوں غائب ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ متعلقہ محکمے عوامی خدمت کے مراکز کے بجائے چند مخصوص افراد کی آسائش گاہیں بن چکے ہیں۔
جب مردوں پر احتجاج کی پاداش میں ایف آئی آرز درج ہوئیں تو گھروں کی دہلیز سے خواتین اور بچے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی منظر نہیں تھا، یہ اس معاشرے کا آخری درجۂ اضطراب ہے جہاں خوف کی دیواریں گرنے لگتی ہیں۔ یہ شوقیہ احتجاج نہیں، یہ مجبوری کی انتہا ہے۔ عوام اب سوال نہیں کر رہے، جواب مانگ رہے ہیں۔ وہ یہ باور کرا رہے ہیں کہ ریاست اگر بنیادی ضرورتیں فراہم نہیں کر سکتی تو کم از کم ان کی آواز کو جرم نہ بنائے۔
کچھ حلقے شاید اب بھی یہ سمجھتے ہوں کہ وقتی نعروں اور وقتی بیانات سے معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا، یا فرقہ واریت کا پرانا کارڈ کھیل کر توجہ ہٹا دی جائے گی۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ پانی، بجلی، صحت اور تعلیم ایسے مسائل ہیں جو ہر فرقے، ہر خاندان اور ہر طبقے کو یکساں متاثر کرتے ہیں۔ عوام اب باشعور ہیں، وہ جان چکے ہیں کہ ان کی محرومی کسی مخصوص گروہ کی وجہ سے نہیں بلکہ مسلسل نااہلی اور بدعنوانی کا نتیجہ ہے۔
یہ احتجاج دراصل ایک تنبیہ ہے۔ یہ اس لاوے کی ابتدائی حرارت ہے جو اگر پھٹ پڑا تو محض بیانات سے قابو نہیں آئے گا۔ حکمرانوں، بیوروکریسی اور سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ عوامی صبر لامحدود نہیں ہوتا۔ اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے بحال کرنا آسان نہیں رہتا۔
وہ بہادر خاتون دراصل گلگت کی بیٹی ہے، اور اس کی للکار پورے نظام کے لیے پیغام ہے، وہ خاتون گلگت بلتستان کی ہر خاتون اور ہر باسی کی نمائندہ آواز ہے ، عوام اب خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ انہیں نہ سہولت چاہیے، نہ احسان نہیں بلکہ اپنا حق چاہیے۔ اور حق مانگنا جرم نہیں ہوتا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، بجلی کے بحران کا مستقل حل نکالا جائے، ادھورے منصوبے مکمل کیے جائیں اور کرپشن کے دروازے بند کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگاتی، اور جب تاریخ حرکت میں آتی ہے تو تخت بھی ہل جاتے ہیں۔
گلگت کی سڑکوں پر گونجتی وہ آواز محض ایک خاتون کی آواز نہیں تھی، وہ پورے معاشرے کی اجتماعی چیخ تھی۔ اگر اس چیخ کو نہ سنا گیا تو کل یہی صدا طوفان بن سکتی ہے اور طوفان جب اٹھتے ہیں تو صرف دیواریں نہیں، نظام بھی بہا لے جاتے ہیں۔




