ظلم کا ورثہ

کالم: قطرہ قطرہ

انسانی معاشروں کا ایک المیہ یہ ہے کہ ظلم کبھی اکیلا نہیں آتا، وہ اپنے ساتھ ایک تسلسل لے کر آتا ہے۔ جو انسان ظلم سہتا ہے، یا مسلسل ظلم اور تشدد کو دیکھتے ہوئے بڑا ہوتا ہے، وہ اکثر غیر محسوس طریقے سے انہی رویوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتا ہے۔ یوں مظلوم اور ظالم کے درمیان حد فاصل دھندلی ہونے لگتی ہے اور معاشرہ ایک ایسے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے جہاں ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر زخمی بھی ہوتا ہے اور زخمی کرنے والا بھی۔
نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کا رویہ پیدائشی نہیں بلکہ سیکھا ہوا ہوتا ہے۔ بچہ دنیا میں کسی تعصب، نفرت یا تشدد کے بغیر آتا ہے مگر ماحول اسے بتاتا ہے کہ اختلاف کیسے حل کرنا ہے، طاقت کیسے استعمال کرنی ہے اور عزت کس چیز کا نام ہے۔ اگر بچہ ایسے گھر میں پروان چڑھے جہاں بات چیت کی جگہ چیخ و پکار ہو، اختلاف کا جواب ہاتھ اٹھانا ہو، اور احترام کی جگہ خوف ہو، تو وہ یہی سمجھتا ہے کہ تعلقات کا بنیادی اصول طاقت ہے۔ بعد میں وہی بچہ جب کسی کمزور مقام پر موجود شخص سے ملتا ہے تو لاشعوری طور پر وہی طرزِ عمل دہراتا ہے جو اس نے سیکھا تھا۔
گھریلو تشدد اسی نفسیاتی وراثت کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ ایک انسان جو بچپن میں اپنے گھر کے کسی بڑے کو دوسرے فرد پر تشدد کرتے دیکھتا ہے، وہ اکثر یہ تصور لے کر بڑا ہوتا ہے کہ گھر کا نظم سختی اور غصے سے چلایا جاتا ہے۔ دوسری طرف ایک انسان جو بچپن سے خاموشی اور برداشت کو خوبی سمجھ کر بڑا ہوتا ہے، وہ ظلم کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔ یوں تشدد صرف ایک فرد کا عمل نہیں رہتا بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہونے والا رویہ بن جاتا ہے۔ یہ محض جسمانی تشدد نہیں ہوتا بلکہ تحقیر، خاموش سزا، جذباتی دباؤ اور اختیار چھین لینے کی صورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔
یہی نفسیاتی عمل گھروں سے نکل کر معاشرے میں فرقہ واریت اور اجتماعی تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب انسان بچپن سے یہ سنتا ہے کہ ایک مخصوص گروہ، فرقہ یا قوم دشمن ہے، تو اس کے ذہن میں خوف اور نفرت کا بیج بو دیا جاتا ہے۔ وہ اس گروہ کے افراد کو انسان نہیں بلکہ خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ نفسیات اسے “غیر انسانیت سازی” کا عمل کہتی ہے، جہاں دوسروں کو کم تر ثابت کرکے ان کے خلاف تشدد کو جائز محسوس کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ وارانہ معاشروں میں لوگ ذاتی طور پر نرم دل ہونے کے باوجود اجتماعی سطح پر سخت اور پرتشدد بن جاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے نفرت کو سچ کے طور پر سیکھا ہوتا ہے۔
تشدد پسند سیاسی اور سماجی رویے بھی اسی زخم کی توسیع ہیں۔ مسلسل محرومی، ناانصافی اور بے اختیار ہونے کا احساس انسان کے اندر دبا ہوا غصہ پیدا کرتا ہے۔ جب اس غصے کو مثبت اظہار کا راستہ نہیں ملتا تو وہ کسی کمزور ہدف کی تلاش کرتا ہے۔ کبھی یہ غصہ سڑکوں پر ہجوم کی شکل اختیار کرتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر شدت پسندی بن جاتا ہے اور کبھی سوشل میڈیا پر نفرت انگیز زبان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اکثر طاقت کی علامت نہیں بلکہ اندرونی عدم تحفظ کا اظہار ہوتا ہے۔
انسانی ذہن اپنے بچپن کے تجربات کو لاشعوری طور پر دہراتا ہے۔ جو شخص خود بے عزتی سہتا رہا ہو وہ اختیار ملنے پر دوسروں کو نیچا دکھا کر اپنی اہمیت محسوس کرتا ہے۔ جو معاشرہ مسلسل خوف میں جیتا ہو وہ اختلاف برداشت کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ استاد طالب علم پر سختی کرتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ یہی ہوا تھا، افسر ماتحت کو دباتا ہے کیونکہ وہ خود دبایا گیا تھا، اور سیاسی یا مذہبی گروہ طاقت کے اظہار کو حق سمجھنے لگتے ہیں کیونکہ انہوں نے طاقت کو ہی بقا کا ذریعہ سیکھا ہوتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنے رویوں کو ظلم نہیں سمجھتے بلکہ تربیت، غیرت، نظم یا عقیدے کا نام دے دیتے ہیں۔ یوں تشدد کو اخلاقی جواز مل جاتا ہے اور معاشرہ اجتماعی بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ جب ظلم معمول بن جائے تو حساسیت ختم ہونے لگتی ہے اور لوگ ناانصافی دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔
مگر نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اس دائرے کو توڑ سکتا ہے۔ شعور اس زنجیر کی پہلی کڑی توڑ دیتا ہے۔ جب ایک فرد یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اندر موجود غصہ، سختی یا نفرت دراصل ماضی کے تجربات کا عکس ہے، تو وہ نئے رویے اختیار کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ محبت، مکالمہ، احترام اور جذباتی تعلیم وہ راستے ہیں جو تشدد کے ورثے کو ختم کر سکتے ہیں۔
معاشروں کی حقیقی اصلاح قوانین سے پہلے رویوں کی اصلاح سے شروع ہوتی ہے۔ جب گھروں میں بچوں کو خوف کے بجائے اعتماد دیا جائے، جب اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور جب مذہب و شناخت کو نفرت کے بجائے انسانیت کے ساتھ جوڑا جائے، تب ہی ظلم کی یہ منتقل ہوتی ہوئی میراث ختم ہوسکتی ہے۔ ورنہ تاریخ ہمیں بار بار یہی دکھاتی ہے کہ کل کا مظلوم اگر اپنے زخموں کا علاج نہ کرے تو وہی کل کا نیا ظالم بن جاتا ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button