جنگ، جواز اور خوف کی سیاست
کالم :قطرہ قطرہ
بھیڑیا اور بکری کا قصہ قدیم حکایات میں یوں بیان ہوتا ہے کہ ایک بھیڑیا ندی کے اوپر والے کنارے پر کھڑا تھا اور نیچے بکری پانی پی رہی تھی۔ بھیڑیا بولا: تم میرا پانی گندا کر رہی ہو! بکری نے عاجزی سے جواب دیا: حضور! پانی تو اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے، میں آپ کا پانی کیسے گندا کر سکتی ہوں؟ بھیڑیا نے فوراً دوسرا الزام لگا دیا: پچھلے سال تم نے مجھے برا کہا تھا! بکری نے کہا: میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ آخرکار بھیڑیا غرایا: اگر تم نہیں تو تمہاری نسل نے کہا ہوگا! اور یہ کہہ کر اس نے بکری کو پھاڑ کھایا۔
سبق صاف تھا: جب طاقت فیصلہ کر لے تو دلیل محض بہانہ رہ جاتی ہے۔
اسی تمثیل کو ڈاکٹر مبشر حسن نے اپنی کتاب شاہراہِ انقلاب اور امریکہ کی پسپائی میں عالمی سیاست کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ جیسی بڑی طاقتیں پہلے بیانیہ تراشتی ہیں، پھر اقدام کرتی ہیں، اور بعد میں جواز تلاش کرتی ہیں۔
گزشتہ صدی پر نظر ڈالیں تو ریاستہائے متحدہ امریکہ تقریباً مسلسل جنگی کیفیت میں دکھائی دیتا ہے۔ بعض مبصرین تین سو سے زائد عسکری مداخلتوں اور جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ اس کے بعد ویتنام کی طویل جنگ، سرد جنگ کے دوران روس کے ساتھ عالمی کشمکش، پھر افغانستان میں بیس سالہ جنگ، عراق پر حملہ، اور اب ایران کے ساتھ کشیدگی یہ سب ایک تسلسل کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔
ان جنگوں کے اسباب عموماً سلامتی، جمہوریت یا دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر بیان کیے جاتے ہیں، مگر ناقدین کے مطابق پسِ پردہ وسائل تک رسائی، تیل و معدنیات پر اثر و رسوخ، اور اسلحہ کی فروخت جیسے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ اسلحہ سازی کی صنعت امریکی معیشت کا اہم شعبہ ہے؛ مسلسل خطرے کا ماحول دفاعی بجٹ میں اضافے کو جائز ٹھہراتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کے عملی تجربے کا میدان فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بیرونی خطرہ داخلی اتحاد کو مضبوط کرتا ہے۔ خوف کی فضا سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرتی ہے۔ امداد اور پابندی، بمباری اور تعمیرِ نو یہ متضاد اقدامات ایک ہی حکمتِ عملی کے دو رخ بن جاتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں عالمی طاقتوں کی مسابقت کا مرکز اب ایشیا بنتا جا رہا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی و عسکری اثر کو محدود کرنے کی حکمتِ عملی پر کھل کر گفتگو ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں افغانستان کی جغرافیائی اہمیت دوبارہ اجاگر ہوتی ہے، جہاں طالبان کے ساتھ تعلقات اور مذاکرات بھی عالمی مفادات کے دائرے میں دیکھے جاتے ہیں۔
یوں بھیڑیا اور بکری کی حکایت محض ایک اخلاقی کہانی نہیں رہتی بلکہ طاقت، جواز اور خوف کی سیاست کا استعارہ بن جاتی ہے۔ سوال آج بھی وہی ہے: کیا عالمی نظام میں دلیل کو واقعی وزن حاصل ہے، یا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے پنجے میں ہی رہتا ہے؟





