(قسط دوئم)گلگت بلتستان پر بیرونی جارحیت اور مقامی مزاحمت کی تاریخ میں راجہ گوہر امان کا کردار
گلگت بلتستان کی تاریخ کا عمیق مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ نوآبادتی دور میں گلگت بلتستان پر بیرونی غاصبانہ قبضے سے قبل یہاں خود مختار شاہی ریاستیں موجود تھیں۔ جب 1840 میں خالصہ اور ڈوگرہ افواج نے بلتستان اور استور پر جارحیت کا ارتکاب کیا، تو علاقے کے غیور عوام نے ان کے خلاف ایک تاریخی اور بے مثال مزاحمت کی۔ بیرونی جارحیت کے خلاف یہ دفاعی معرکہ دراصل مقامی آبادی کی "اجتماعی بقا” کی جنگ تھی، جس کا واحد مقصد اپنی خودمختاری، تشخص اور سرزمین کا تحفظ تھا۔ تاہم نوآبادیاتی دور کے مورخین نے اس تحریکِ آزادی کو "بغاوت” کا نام دیا، اور اس خطے پر سکھ، ڈوگرہ اور برطانونی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کو درست قراد دیا ہے جو سراسر ایک استعماری اور یکطرفہ نقطہ نظر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیرونی استبداد، قتل و غارت گری اور غاصبانہ قبضے کے خلاف مقامی مزاحمت صرف بلتستان تک محدود نہ تھی، بلکہ گلگت، ہنزہ، نگر، غذر اور دیامر کے عوام نے بھی اس حوالے سے شجاعت و دلیری کے لازوال کارنامے سرانجام دیئے۔ مگر افسوس کہ عام لوگ ان درخشاں تاریخی حقائق سے ناواقف ہیں۔ اس مضمون میں ہم بیرونی تسلط کے خلاف مقامی مزاحمت پر روشنی ڈالیں گے اور اس حریت پسندی کے سرخیل، ریاستِ یاسین کے حکمران راجہ گوہر اَمان کی جدوجہد کا بھی احاطہ کریں گے۔ بلاشبہ گوہر اَمان ہماری تاریخ کے ایک عظیم جنگجو حکمران تھے، جس نے ڈوگروں کے خلاف ایک طویل اور فیصلہ کن معرکہ آرائیاں کی۔
راجہ گوہر امان کی قیادت میں ڈوگرہ جارحیت کے خلاف مقامی افراد کی اس تاریخی جدوجہد کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے پہلے بلتستان میں خالصہ فوج کی جارحیت کے خلاف ہونے والی مزاحمت کا ادراک ناگزیر ہے، تاکہ گلگت کے مزاحمتی تاریخ کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ
بلتستان پر سکھ افواج کے حملے کے وقت مقامی عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ اس مزاحمت کا باقاعدہ آغاز اس وقت ہوا جب 12 دسمبر 1841ء کو تبت کے خلاف جنگ میں سکھ امپائر کے وزیر زور آور سنگھ کو عبرت ناک شکست ہوئی؛ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل بلتستان نے غاصبوں کے خلاف علمِ حریت بلند کیا۔ سکھوں کے خلاف مقامی مزاحمت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم تحریک تھی جس کا منبع بلتستان بنا۔
اس جدوجہد کے بانی سکردو کے سابق راجہ احمد شاہ تھے، جو اس وقت زور آور سنگھ کی قید میں تھے، مگر اس کی ہلاکت کے بعد وہ قید سے رہا ہوئے اور مقامی حکمرانوں کے ساتھ مل کر سکھ افواج کو علاقے سے بے دخل کرنے کا منصوبہ بنانے میں کامیاب رہے۔ مولوی حشمت اللہ خان اپنی تصنیف "مختصر تاریخ جموں و کشمیر” میں لکھتے ہیں کہ
”راجہ احمد شاہ نے خفیہ طور پر اپنے معتمدِ خاص یسترونگ کریم کو سکردو بھیجا، جس نے شگر کے حیدر خان اور سکردو کے کریم بیگ کی حمایت حاصل کر لی۔ رفتہ رفتہ وہ سکردو کے راجہ علی خان، خپلو کے راجہ دولت علی خان، کریس کے راجہ خرم خان اور دیگر بلتی اشرافیہ کے ساتھ ایک مضبوط اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس اتحاد کے نتیجے میں وہ سکردو کے ڈوگرہ تھانیدار بھگوان سنگھ کو قید کرنے اور قلعے میں موجود اسلحہ خانے و خزانے پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے۔ قیدیوں کو بمقام نیالی منتقل کر دیا گیا، جبکہ ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے اس تحریک کا ساتھ دینے سے گریز کیا تھا، جن میں شگر کے راجہ سلیمان خان اور سکردو کے راجہ محمد شاہ شامل تھے۔ ان حالات میں حیدر خان نے شگر اور سکردو دونوں کا نظم و نسق سنبھال لیا اور ڈوگرہ تسلط کے خاتمے کا اعلان کر کے خود کو حکمران قرار دے دیا۔”
بقول مولوی حشمت لکھنوی
"لاہور دربار کے سکھ حکمران نے اس مزاحمت کو کچلنے کے لیے اپنے جنرل گلاب سنگھ کو حکم دیا، جس نے کشتواڑ کے وزیر لکھپت کی سرکردگی میں تین ہزار مسلح سپاہیوں پر مشتمل ایک قوی لشکر بلتستان پر حملہ لیے روانہ کیا تاکہ مقامی مزاحمت کو کچل دیا جائے”۔ سکھ افوج کو ہر قدم پر مقامی لوگوں کی جرات مندانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر کارگل پہنچنے پر کرتخشہ (کھرمنگ) کے راجہ علی شیر خان کے مشورے پر ڈوگرہ فوج بلتستان کی جانب بڑھی۔ دریائے دراس عبور کرنے کے بعد وہ شنگو شگر پہنچے، جہاں بلتیوں نے دفاع کے لیے ایک مضبوط برج (ٹاور) تعمیر کر رکھا تھا۔ ایک مختصر جھڑپ کے بعد ڈوگرہ فوج سکردو کی جانب بڑھی اور کھرفوچو قلعے کا محاصرہ کر لیا، جہاں حیدر خان پناہ گزین تھے۔ جب قلعہ سر کرنے کی تمام عسکری تدابیر ناکام ہو گئیں، تو ڈوگرہ فوج رات کی تاریکی میں مکر و فریب کے ذریعے قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ حیدر خان وہاں سے سلترو کی جانب فرار ہوئے لیکن دولت علی خان نے انہیں گرفتار کر کے وزیر لکھپت کے حوالے کر دیا، جنہوں نے انہیں جموں لے جا کر قید کر دیا”۔
بعد ازاں خالصہ فوج نے کھرفوچو قلعے کو نذرِ آتش کر کے خاکستر کر دیا، جسے بعد میں اپنے دفاعی مقاصد کے تحت چیلاس قلعے کی طرز پر دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
اسی اثناء میں بھگوان سنگھ کو نیالی سے واپس لا کر نو تعمیر شدہ قلعے میں تین سو سپاہیوں کے ہمراہ دوبارہ تھانیدار متعین کر دیا گیا۔
سکھوں کے قبضے کے بعد خپلو میں دولت علی خان اور کریس میں خرم خان دوم کو باج گزار حکمران تسلیم کیا گیا، جبکہ راجہ سلیمان خان وفات پا چکے تھے۔ روندو کو ایک معرکے کے بعد فتح کیا گیا اور علی خان کو بطور حکمران برقرار رکھتے ہوئے اس کے بیٹے کو بطور یرغمالی ساتھ لے جایا گیا، جبکہ استک میں ایک فوجی دستہ تعینات کر دیا گیا۔ چونکہ مزاحمت کی یہ لہر استور تک پھیل چکی تھی، اس لیے وزیر لکھپت کو استور کا رخ کرنا پڑا اور اس قلعے کا محاصرہ کیا جہاں جبار خان مقیم تھے۔ قلعہ فتح ہونے کے بعد جبار خان نے ڈوگروں کی شرائط تسلیم کر لیں اور انہیں بطور راجہ برقرار رکھا گیا۔
بلتستان کی اس مزاحمت کو جبراً کچلنے کے بعد سیاسی قیدیوں کو کشمیر منتقل کر دیا گیا۔ وزیر لکھپت نے پشم کے راجہ حسین خان، ملبہ کے راجہ سلام خان، دمباس کے راجہ چغدور نامگیال اور ان کے بھائی کونگا نامگیال سمیت سوت کے وزیر قدوس بیگ کو بھی گرفتار کر لیا۔ انتقامی کارروائی کے طور پر بلتستان کے متعدد اکابرین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ عظیم عوامی اٹھان گلاب سنگھ کے لیے چشم کشا تھی، چنانچہ اس نے مختلف تزویراتی مقامات پر اپنی عسکری موجودگی کو مستحکم کر دیا، تاہم داخلی انتظامی امور ان مقامی راجوں کے سپرد ہی رہے جو ان کے مطیع تھے۔ بلتستان میں آخری مزاحمت 1846ء میں زنسکار میں ہوئی جس کے خلاف بستی رام نے تادیبی کارروائی کی۔ اگرچہ ڈوگرہ کمانڈر راجوں پر خراج عائد کرنے میں کامیاب رہے، لیکن ان کے علاقوں پر براہِ راست قبضہ نہ ہو سکا؛ جیسا کہ فریڈرک ڈریو اور ڈاکٹر لیٹنر نے صراحت کی ہے کہ استور کا علاقہ اس وقت تک ریاستِ کشمیر کے انتظامی کنٹرول سے باہر تھا۔
بلتستان کی مہم کے بعد سکردو میں ڈوگروں کی عسکری قوت میں اضافہ کیا گیا اور وفادار مقامی راجوں کو پہچان کر انہیں قابو میں لایا گیا۔ اس پس منظر میں ریاستِ یاسین کے راجہ گوہر امان کی سکھوں اور بعد ازاں ڈوگروں کے خلاف جدوجہد نہایت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، جنہوں نے دشمن پر حملوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ منظم کیا۔ ڈاکٹر لیٹنر کے مطابق، گوہر امان کو ڈوگرہ جارحیت کے خلاف چیلاس اور داریل کے حریت پسندوں سمیت گلگت بلتستان کے دیگر قبائلی علاقوں کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ انہیں نہ صرف مہترِ چترال بلکہ ہنزہ کے راجہ اور یہاں تک کہ نگر کے حکمران کا تعاون بھی میسر تھا۔
راجہ گوہر امان نے افواج سکھ اور بعد ازاں گلاب سنگھ کے نامور جرنیلوں کی عسکری مہارت کو شکست فاش دی۔ اس تاریخی مزاحمت کی تفصیلات یورپی مورخین نے مختلف پیرایوں میں بیان کی ہیں۔ اور گوہر امان کو ایک "فرقہ پرست اور جنونی” حکمران کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ سراسر لغو اور تعصب پر مبنی نقطہ نظر ہے۔ اگر گوہر امان فرقہ پرست ہوتے تو یاسین میں اسماعیلی مسلک کے ماننے والے اکثریت میں نہ ہوتے۔ حقیقت میں انہوں نے صرف ان حریف راجاوں اور ان کے حمایتی افراد کے خلاف سختی کی جنہوں نے ڈوگروں کو گلگت پر حملہ کی دعوت دی اور بیرونی قبضہ کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا تھا یہ بھی سچ ہے اس دوران بہت سارے مقامی افراد بھی اس کے ظلم و جبر کے شکار بنے لیکن سکھوں اور ڈوگروں کے خلاف ان کی جدوجہد سے انکار ممکن نہیں ہے۔
احمد حسن دانی اپنی تصنیف ہسٹری آف ناردرن ایریاز آف پاکستان کے صحفہ نمبر 245 میں لکھتے ہیں کہ” 1840 میں نگر کے حکمران طاہر شاہ کے بیٹے سکندر خان گلگت کے حمکران تھے اور اس کے چھوٹے بھائی کریم خان دیامیر کے علاقہ گور یعنی موجودہ گوہر آباد میں اپنی زوجہ کے ہمراہ رہایش پزیز تھے۔ نگر کے بادشاہ کے گلگت کے تخت پر قبضہ گوہر امان کی انکھوں کو کھٹکتا تھا، اس لئے انہوں نے حملہ کر کے گلگت پر قبضہ کیا”۔
بقول ڈاکٹر لٹنر سکندر خان یا کریم خان میں سے ایک نے کشمیر میں سکھ گورنر کے پاس سفارتی نمایندہ بھیج کر گوہر امان کے خلاف مدد طلب کی تو سکھ گورنر نے لاہور دربار کی اجازت سے کرنل نتھو شاہ کی کمانڈ میں ایک ہزار فوجی لشکر گلگت پر حملہ کے لیے روانہ کیا۔
گوہر امان کے خلاف نتھو شاہ کے حملے کی تفصیلات ڈاکٹر لٹینر نے اپنی کتاب میں بیان کی ہیں۔ جب سکندر خان کا گلگت میں قتل ہوا تو کریم خان گلگت کا حکمران بنا اور اس نے سکھ فوجیوں کی مدد سے 1841 تک گلگت پر حکومت کی۔ جب اس کا قتل ہوا تو اس کا بیٹا محمد خان دوئم اس کا جانشین بنا۔ اس کے دور میں بھی جنگ جاری رہی، بلا آخر جب گوہر امان نے اسے گلگت سے نکال باہر کیا تو اس نے بھی کشمیر میں پناہ لی، یہ وہ زمانہ تھا جب گلاب سنگھ کشمیر کا بادشاہ بن گیا تھا۔
پروفیسر احمد حسن دانی ڈاکٹر لٹنر کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”بلتستان پر قبضے کے ایک سال بعد سکھ جنرل متھرا داس 3000 گھڑ سواروں اور پیادہ فوج کے ساتھ استور روانہ ہوا اور غلہ کی تمام پیداوار کا ایک تہائی حصہ بطور خراج مقرر کیا۔ اس نے استور کے قریبی گاؤں "سوگار” اور بعد ازاں دریائے سندھ کے کنارے "بونجی” میں فوجی چوکیاں (تھانے) قائم کیں۔ یہاں اس کا سامنا گوہر امان کے بھتیجے "دورو” سے ہوا جو اس وقت گوہر امان کی طرف سے بونجی کا گورنر تعینات تھا۔ متھرا داس نے جگلوٹ سئی کے مقام سے دریائے سندھ عبور کیا اور جالکوٹ میں تھانہ بنانے کا منصوبہ بنایا، مگر سئی کا علاقہ گوہر امان کے زیرِ اثر تھا۔ جب گلگت میں مقیم راجہ گوہر امان کو کشمیر کی ان تجاوزات کی اطلاع ملی، تو انہوں نے داریل اور تانگیر کے قبائل کو پیغام بھیجا کہ وہ پہاڑی راستوں سے بونجی کے قریب پہنچ جائیں تو وہ خود سئی کے راستے حملہ آور ہوں گے ، اس طرح ڈوگروں کے خلاف ایک خونی جنگ شروع ہوئی”۔
ڈاکٹر لیٹنر کے مطابق، داریل اور تانگیر سے پانچ ہزار جری نوجوان گوہر امان کی معاونت کے لیے آئے اور دس دنوں میں بونجی پہنچ گئے، جبکہ گوہر امان خود یاسین اور پونیال کے 3,000 گھڑ سواروں اور 2,000 امدادی کارکنوں کے ہمراہ بونجی پہنچے اور سئی پر حملہ کیا۔ داریل کے سرداروں میں کلاشمیر، لالا خان، عزتی ، بیرا خان، محمد خان شاتنگ، جلدار وغیرہ تھے جبکہ تانگیر کے عمائدین میں خیر اللہ، منصور، رستمی، نایون وغیرہ شامل تھے۔ چونکہ گوہر امان خود علالت کے باعث گلگت میں رک گئے تھے، اس لیے لشکر کی سپہ سالاری ان کے صاحبزادے ملک امان نے کی۔
احمد حسن دانی اپنی کتاب کے ہسٹری آف ناردرن ایریاز اف پاکستان کے صحفہ 249 میں
لیٹنر کے حوالہ دیتے ہوئےمزید لکھتے ہیں کہ” اس معرکے میں نومل سے 200 افراد، بگروٹ سے 2000، سکوار سے 100 اور میناور سے 200 مقامی افراد نے بھی حصہ لیا، جو رسد اور گولہ بارود کے بوجھ سے لدے ہوئے تھے۔
جنگ کا آغاز "چکرکوٹ” کے مقام پر ہوا جہاں ایک کھیت تھا جس پر فصل کی کٹائی ہوئی تھی ۔ تپتی گرمی میں سکھ فوج قلعہ چکرکوٹ میں محصور ہو گئی، جسے مقامی غازیوں نے گھیر رکھا تھا۔ ملک امان نے اپنے سواروں کے ساتھ قلعے پر دھاوا بول دیا، جبکہ چکرکوٹ کے مکینوں نے اندر سے قلعے کے دروازے کھول کر مقامی جنگجووں کی راہ ہموار کی۔ دن رات جاری رہنے والی اس خونریز جنگ میں سکھ فوج کو سکشت ہوئی۔ ان کے بیشتر سپاہی مارے گئے اور کچھ نے جان بچانے کے لیے دیواروں سے چھلانگیں لگا دیں جہاں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔
اس جنگ میں سکھوں کی 8,000 کی فوج میں سے صرف 100 سکھ جان بچا کر دریائے سندھ پار بونجی بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ اس معرکے میں گوہر امان کے صرف 60 سوار اور 40 قبائلی ہلاک ہوئے، جن میں داریل کے سردار محمد خان بھی شامل تھے۔ اس فتح کے بعد ملک امان نے قبائلیوں کو دوبارہ تیاری کا حکم دے کر فارغ کر دیا اور خود گلگت واپس آ گئے۔
ڈاکٹر لیٹنر اپنی کتاب "دردستان” میں "گلگت کے ساتھ جنگیں” کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ اگلے سال موسم بہار میں جب کشمیر سے تقریباً بیس ہزار فوج استور آئی، تو گوہر امان سے ٹکرانے کے نتیجے میں ان کے دس ہزار سپاہی نیست و نابود ہو گئے اور صرف ایک سپاہی بونجی پہنچ کر اپنی باقی فوج کو تباہی کی خبر سنا سکا۔
بقول مولوی حشمت اللہ خان غالباً اسی ہزیمت کے بعد کرنل نتھو شاہ نے سفارتی ذرائع سے گوہر امان سے معاہدہ کیا۔اور رسمی طور پر گلگت کی حکومت راجہ کریم خان کا حوالہ کیا۔
ڈاکٹر لیٹنر کے بقول "1848 میں راجہ گوہر آمان نے پونیال کے راجہ عیسی بہادر پر حملہ کیا اور اس سے پونیال کا مرکز چھیر قلعہ سے نکال باہر کیا اور پونیال کو اپنے زیر کنٹرول لایا ۔ واضع رہے گوہر امان کے وفات کے بعد ڈوگرہ فوج نے نہ صرف گلگت بلکہ پونیال اور یاسین پر قبضہ کیا۔
جان بڈولف اپنی کتاب” ہندوکش کے قبائل” میں لکھتے ہیں کہ
"پونیال کا مرکزی مقام’چھیر’ (Cher) ہے، جسے ڈوگروں نے بگاڑ کر ‘شیر’ (Sher) کر دیا ہے۔” آج بھی یہ گاوں شیر قلعہ کہلاتا ہے۔ ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ نے اپنے وفادار کرنل نتھو شاہ کے ذریعے جب پونیال اور گلگت کے قلعوں پر قبضے کی کوشش کی تو گوہر آمان نے ہنزہ اور نگر کے راجوں کے ساتھ مل کر ایک متحدہ محاذ بنایا۔ اسی دوران گوہر امان نے اپنی فوجی برتری ثابت کی اور بارگو و شکئیوٹ کے قلعوں پر قبضہ کر لیا۔
حشمت اللہ خان کے مطابق، 1846ء کے معاہدہ امرتسر کے تحت جب ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس وقت
کرنل نتھو شاہ نے پنجاب دربار کو خیرباد کہہ کر گلگت اور استور میں موجود اپنے سپاہیوں کے ہمراہ اپنی خدمات نئی ریاست جموں و کشمیر کے ڈوگرہ حکمران کے سپرد کر دیا۔ نتھو شاہ کا سامنا گلگت بسین (Basin) کے مقام پر گوہر امان سے ہوا اور اسے شکست دی، جس کے بعد گوہر امان پنیال کی طرف پسپا ہو گیا اور کریم خان کو گلگت کا برائے نام راجہ بنایا گیا۔ لیکن اسی سال ایک اور ڈوگرہ کمانڈر متھرا داس، کرنل نتھو شاہ کی جگہ لینے گلگت پہنچا، مگر گوہر امان نے شروٹ اور گلاپور کے میدانِ جنگ میں اسے عبرتناک شکست دی۔ ڈاکٹر امر سنگھ چوہان اپنی کتاب "گلگت ایجنسی” میں لکھتے ہیں کہ "متھرا داس بدحواس ہو کر سیدھا کشمیر کی طرف بھاگا۔ تاہم کرنل نتھو شاہ نے ہمت نہ ہاری اور جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں طے پایا کہ گلگت پر سکھوں کا قبضہ رہے گا اور گلگت کے مغرب میں سرحد متعین کر دی گئی۔
اسی دوران کرنل نتھو شاہ نے دو انگریز ہنزہ روانہ کرنے کی کوشش کیا جو بقول ڈریو باونڈری طے کرنے آئے تھے ، ہنزہ کے راجہ غزن خان نے نا صرف ان سے ملنے سے انکار کیا بلکہ اشتعال میں آکر ہنزہ کے راجہ غزن خان نے گلگت پر حملہ کر دیا۔ وادی چھپروٹ میں ہونے والی اس جنگ میں ڈوگرہ فوج تباہ ہو گئی اور کرنل نتھو شاہ سمیت راجہ کریم خان بھی مارا گیا، جو گلگت کے رسمی راجہ تھے۔
بقول احمد حسن دانی "ہنزہ کی فوج نے ڈوگروں کو شکست دے کر چھپروٹ سے نکال باہر کیا، جو قرونِ وسطیٰ سے گلگت، ہنزہ اور نگر کے درمیان ایک روایتی سرحد تھی”۔
بعد ازاں ڈوگروں نے دوبارہ گلگت پر حملہ کر کے اسے گوہر امان سے چھین لیا اور کریم خان کے بیٹے محمد خان دوم کو گلگت کا راجہ اور امان علی شاہ کو تھانیدار مقرر کیا۔ امن کا یہ دور مختصر ثابت ہوا
لیکن اسی سال گوہر امان نے حملہ کرکے گلگت پر قبضہ کیا۔
اگلے برس جنگ کے شعلے چلاس، داریل، تانگیر اور ہربن تک پھیل گئے کیونکہ مہاراجہ کی فوج نے چیلاس پر حملہ کیا تھا۔ ڈاکٹر لیٹنر نے یہاں بھی نوآبادیاتی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس جنگ کو "شیعہ سنی تنازع” کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ استور اور دیامر کے عوام کے درمیان خلیج پیدا کی جا سکے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ یہ محض ایک استعماری حربہ تھا تاکہ مقامی اتحاد کو پارہ پارہ کیا جا سکے۔
بقول مولوی حشمت اللہ خان لکھنوی1851ء میں چیلاسیوں نے استور پر حملہ کیا اور لوٹ مار کیا تو بخشی ہری سنگھ اور دیوان ہری چند کی قیادت میں 10,000 ڈوگرہ سپاہیوں نے چلاس کے خلاف سخت کارروائی کی، وہاں کا قلعہ تباہ کر دیا اور ان قبائل کو منتشر کر دیا جنہوں نے چلاسیوں کی مدد کی تھی۔ اس کارروائی نے گلگت میں اشتعال پیدا کر دیا جہاں مقامی لوگوں نے دو ڈوگرہ افسران سانتو سنگھ اور رام دھن کو قتل کر دیا۔
بقول ڈاکٹر احمر سنگھ چوہان گوہر امان کی فوج نے گلگت فورٹ اور نوپور گیریژن میں تعینات گورکھا فوجیوں کو ان کے خاندانوں سمیت قتل کر دیا، صرف ایک خاتون دریائے سندھ عبور کر کے بونجی پہنچنے میں کامیاب ہوئی، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک گائے کی دم پکڑ کر تیرتی رہی اور جان بچا کر بونجی پہنچ گئی۔
اس اشتعال کے بعد گلگت کے عوام نے ایک بار پھر گوہر امان سے فوری مداخلت کی اپیل کی، جس کے نتیجے میں گلگت میں ڈوگروں کے خلاف 1852ء کی آخری عظیم جنگ وقوع پذیر ہوئی۔ اس معرکے کی تفصیلات شاہ رئیس خان نے بھی بیان کی ہیں۔ اس وقت گلگت کا تھانیدار سانت سنگھ تھا جو نوپورہ قلعے میں مقیم تھا، جہاں گورکھا پلاٹون بھی تعینات تھی۔ گوہر امان نے اچانک حملہ کر کے نوپورہ اور گلگت کے درمیان مواصلاتی رابطہ کاٹ دیا۔ قلعہ گلگت اور نوپور کو اس نے محصور کر لیا۔ ڈوگرہ کمانڈر بھوپ سنگھ 1200 ڈوگرہ سپاہیوں کے ہمراہ بونجی سے ان محصورین کی کمک کے لئے روانہ ہو ، مگر "شئی دار” یعنی سفید پڑی کے مقام پر ایک تنگ وادی میں پھنس گیا۔ گوہر امان کے جانبازوں نے پہاڑی چوٹیوں پر پوزیشنیں سنبھال کر گھیرے میں آئے ہوئے ڈوگرہ سپاہیوں پر گولیوں، تیروں اور پتھروں کی بارش کر دی۔ فرار کا راستہ مسدود تھا، چنانچہ بھوپ سنگھ اور اس کے تمام آدمی مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ وہ مقام آج بھی تاریخ میں "بھوپ سنگھ پری” کے نام سے مشہور ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ سکھوں اور ڈوگروں کی جارحیت دراصل مقامی لوگوں کے لیے "اجتماعی بقا” کی جنگ تھی اور انہوں نے اپنی آزادی کی جنگ بخوبی لڑی۔
اس واقعہ کے بارے میں مولوی حشمت اللہ خان اس طرح رقم طراز ہے کہ ” قلعہ گلگت و نوپور پر گوہر امان کے قبضے کا سن کر بھوپ سنگھ بونجی سے ایک بڑی تعداد افواج ڈوگرہ کے ساتھ محصورین ڈوگرہ فوج کو بچانے کے لئے گلگت روانہ ہوا تھا۔ بنگلہ پڑی اور مناور کے درمیان چھموگڑ کے بالمقابل لب دریائے گلگت ایک چھوٹے میدان میں جو تین اطرف سے دشوارگزار سینگلاخ تھا اور ایک طرف دریائے گلگت سے گھرا ہوا تھا، پھانس کر بھوپ سنگھ اور اس کی تمام فوج کاٹ ڈالا۔بیان کیا جاتا ہے صرف دو سپاہی جان بچا کر اس تباہی کی خبر سنانے کے لیے براہ دریا تیر کر واپس بونجی پہنچ گئے۔
اس تاریخی فتح کے بعد گوہر امان نے ڈوگروں سے بھرپور بدلہ لیا اور گلگت میں دوبارہ اپنی خود مختار حکومت قائم کی جو 1860ء میں ان کی وفات تک قائم رہی۔ فریڈرک ڈریو تسلیم کرتے ہیں کہ اس عبرت ناک شکست کے بعد ڈوگروں کو دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے مکمل طور پر نکال دیا گیا اور گلاب سنگھ نے دوبارہ اس طرف پیش قدمی کی جرات نہ کی۔
1852ء سے 1860ء تک کا دور گلگت کی تاریخ میں ایک آزاد اور پرامن دور کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم، گوہر امان کی وفات کے قریب دشمنوں نے دوبارہ سازشوں کا جال بننا شروع کیا، جن کا ذکر ڈاکٹر لیٹنر نے بڑی تفصیل سے کیا ہے کہ کس طرح وہ مقصد جو میدانِ جنگ میں حاصل نہ ہو سکا، اسے "دھوکہ و فریب” سے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور گوہر امان کی وفات کے بعد ڈوگرہ افواج نے جنرل دیوی سنگھ کی قیادت میں گلگت پر دوبارہ حملہ کرکے قبضہ کیا اور یاسین کے مڈوری قلعہ میں نہ صرف نہتے لوگوں کا قتل عام کیا بلکہ خواتین کو بھی قیدی بنا کر کشمیر کی بازاروں میں فروخت کیا جس کا ذکر اس مضمون کے قسط سوئم میں کیا جائے گا۔
جاری ہے…





