وادیٔ ہنزہ میں جشنِ نوروز: تہذیب، تاریخ اور روحانی بہار
تحریر وتحقیق: سُمیرہ مقبول
جب سردیوں کی طویل خاموشی کے بعد پہاڑوں کی برف نرم پڑنے لگتی ہے، خوبانی کے درختوں پر سرخ کونپلیں نمودار ہوتی ہیں اور فضا میں تازگی گھل جاتی ہے، تو وادیٔ ہنزہ میں صرف موسم نہیں بدلتا بلکہ ایک تہذیبی روایت، روحانی احساس اور تاریخی تسلسل نئے سرے سے جنم لیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب نوروز اپنی مکمل معنویت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
نوروز فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "نیا دن”۔ یہ قدیم فارسی تقویم کے آغاز سے وابستہ ہے اور ہر سال 21 مارچ، اعتدالِ ربیعی کے موقع پر منایا جاتا ہے۔ یہ محض تقویمی تبدیلی نہیں بلکہ کائناتی توازن، موسمی اعتدال اور فطری تجدید کا استعارہ ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق نوروز کی روایت تین ہزار برس سے زائد قدیم ہے اور اس کی جڑیں قدیم فارس میں پیوست ہیں۔ بعض مؤرخین اسے فارسی سلطنت سے بھی قبل کا تہوار قرار دیتے ہیں، جبکہ کئی محققین اسے زرتشتیت سے منسلک کرتے ہیں، جہاں روشنی، پاکیزگی اور تجدیدِ حیات بنیادی تصورات تھے۔ نوروز انہی افکار کا عملی مظہر سمجھا جاتا تھا۔
اسلامی فتوحات کے بعد جب خطے میں مذہبی و ثقافتی تبدیلیاں آئیں تو زرتشتی پیروکار مختلف علاقوں کی جانب ہجرت کر گئے۔ ان ہجرتوں کے ساتھ نوروز کی روایت ایران سے نکل کر وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں تک پھیل گئی۔ اسی تاریخی سفر نے اسے ایک علاقائی تہوار سے بڑھا کر بین الثقافتی ورثہ بنا دیا۔ ایک اساطیری روایت نوروز کو ایرانی بادشاہ جمشید سے منسوب کرتی ہے، جو اس تہوار کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت اساطیری رنگ رکھتی ہے، مگر اس سے ایرانی تہذیب میں نوروز کی گہری جڑیں واضح ہوتی ہیں۔
ثقافتی ہم آہنگی اور عالمی یکجہتی کے فروغ میں اس تہوار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یونیسکو نے 2009ء میں نوروز کو انسانیت کے غیر مادی ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کیا۔ آج یہ آذربائیجان، قازقستان، ایران، عراق، افغانستان، بھارت اور پاکستان سمیت متعدد ممالک میں منایا جاتا ہے، بالخصوص گلگت بلتستان میں، جہاں وادیٔ ہنزہ اس روایت کا روشن مرکز ہے۔
سابق ریاستِ ہنزہ میں نوروز محض موسمی جشن نہیں بلکہ ریاستی وقار کا دن تھا۔ 21 مارچ کو سرکاری سطح پر تقریبات منعقد ہوتیں اور میرِ ہنزہ کی سرپرستی اس کی اہمیت کو دوچند کر دیتی۔ بلتت پولو گراؤنڈ عوامی اجتماعات کا مرکز بنتا جہاں کھیل، رسمی تقریبات اور خلعتوں کی تقسیم ہوتی۔ یہ دن اجتماعی شناخت اور ریاستی ہم آہنگی کا مظہر تھا۔ زرعی اعتبار سے بھی نوروز اہمیت رکھتا تھا کیونکہ یہ سردیوں کے اختتام اور نئی کاشت کے آغاز کی علامت تھا۔ خوبانی کے درختوں پر شگوفوں کی نمود مقامی معیشت کے لیے امید کا پیغام سمجھی جاتی تھی۔
آج بھی ہنزہ میں نوروز کا آغاز دعاؤں سے ہوتا ہے۔ جماعت خانوں اور امام بارگاہوں میں خصوصی عبادات اس کے روحانی پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔ اس کے بعد گھروں میں میل ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ لوگ نئے کپڑے پہنتے، بچے خوشی سے جھومتے اور خواتین مہندی و چوڑیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ نوجوان روایتی دھنوں پر رقص کرتے جبکہ پولو جیسے کھیل اس جشن کو ثقافتی رنگ عطا کرتے ہیں۔ گویا پورا معاشرہ ایک اجتماعی بہار میں ڈھل جاتا ہے۔
نوروز کی ایک اہم روایت "چی، چی” کہلاتی ہے، جس میں گاؤں کے لوگ جمع ہو کر نوزائیدہ بچوں کو مرکزِ توجہ بناتے ہیں۔ انہیں نئے کپڑے پہنائے جاتے ہیں اور بزرگ مخصوص فاصلے تک انہیں اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ خاندان ڈرائی فروٹ اور مقامی پکوان تقسیم کرتے ہیں اور بچوں کی صحت و خوشحالی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ یوں نوروز ماضی، حال اور مستقبل کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔
علاقائی تنوع بھی اس تہوار کا حسن ہے۔ غذر میں نوزائیدہ بچوں کے بال کاٹنے کی رسم ادا کی جاتی ہے، جبکہ بلتستان اور اسکردو میں رنگین انڈوں کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔ بُکک یا فَوا بینز کو ہلکا نمک لگا کر مالاؤں کی صورت میں بچوں کو پہنایا جاتا ہے جو برکت اور تحفظ کی علامت ہیں۔
فِٹی نامی روایتی روٹی بزرگ خواتین محبت سے تیار کرتی ہیں اور بچوں کو تحفے میں دیتی ہیں۔ یہ عمل شفقت، روایت اور خاندانی تسلسل کی علامت ہے۔ اگر 20 مارچ کی رات یا 21 مارچ کی ابتدائی ساعتوں میں بارش ہو جائے تو اسے "آبِ رَساں” کہا جاتا ہے، جسے پاکیزگی اور روحانی تازگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بہار کی پہلی بارش کو آسمانی تحفہ تصور کیا جاتا ہے، گویا فطرت خود اس جشن میں شریک ہو۔
نوروز کا باطنی مفہوم اس کے ظاہری رنگوں سے کہیں زیادہ عمیق ہے۔ جس طرح بہار زمین کو زندگی عطا کرتی ہے، اسی طرح روحانی بہار انسان کے باطن کو منور کرتی ہے۔ اسماعیلی فکر میں نوروز کو "عالم افروز” اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ باطن کی تجدید اور نورِ معرفت کی یاد دہانی ہے۔ یہ تہوار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ تزکیۂ نفس کے ذریعے دل میں ایک نیا دن طلوع کیا جا سکتا ہے۔ یوں نوروز داخلی انقلاب کا بھی استعارہ بن جاتا ہے۔
قدیم شعرا سے لے کر جدید ادیبوں تک، بہار ہمیشہ امید اور حیاتِ نو کی علامت رہی ہے۔ نوروز اسی ادبی و فکری روایت کا عملی اظہار ہے۔
مصنفِ دَبِستانِ ہُنزہ، جناب غلام قادر بیگ صاحب, جو ہنزہ کے مقامی دانشور ہیں, کے گھر فِٹی، شَرگَن (دیسی گھی) اور اخروٹ کے کیک کے ساتھ بہت سے مقامی کھانوں سے تواضع کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر انہوں نے نوروز کی تاریخی و تہذیبی اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اسے ہنزہ کی شناخت، روحانی تجدید اور ثقافتی تسلسل کا زندہ استعارہ قرار دیا۔
وادیٔ ہنزہ میں نوروز محض ایک تہوار نہیں بلکہ تاریخ کا تسلسل، تہذیب کا اظہار، معاشرتی ہم آہنگی کا مظہر اور روحانی بیداری کا پیغام ہے۔ 21 مارچ کی صبح جب سورج پہاڑوں کے پیچھے سے طلوع ہوتا ہے تو وہ صرف ایک نئے دن کا آغاز نہیں کرتا بلکہ یہ یقین دلاتا ہے کہ ہر تاریکی کے بعد روشنی اور ہر جمود کے بعد حرکت آتی ہے۔ یہی نوروز کا اصل پیغام ہے۔





