پاکستان کے تناظر میں ہائبرڈ نظام
تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم
ترجمہ: نورالہدیٰ یفتالیٰ
پاکستان کے تناظر میں ہائبرڈ نظام کو مؤثر کارکردگی کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا۔ یہ نظام وقتی طور پر غالب تو آ سکتا ہے، لیکن اس کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ عوام کو حقیقی اور قابلِ محسوس نتائج فراہم کرے۔ اگر عسکری و انتظامی کارکردگی کے نتیجے میں عوام کو سکیورٹی کا بہتر ماحول، روزگار کے مواقع میں اضافہ، اور عدالتی نظام میں تیزی اور شفافیت میسر آئے، تو یہ ماڈل بتدریج عوامی قبولیت حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اختیارات اور کنٹرول میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے مگر ترقی اور عوامی فلاح کے ثمرات نظر نہ آئیں، تو معاشرے میں دو طرح کے ردِعمل جنم لے سکتے ہیں: ایک، عوامی تھکن اور مایوسی؛ اور دوسرا، مزاحمت اور بے چینی۔
-
استاد اور آفیسر، گدھا اور شیرمارچ 24, 2026
منیجڈ ہائبرڈ سے مراد ایسا نظام ہے جس میں سول ادارے بظاہر موجود رہتے ہیں، مگر اصل فیصلہ کن کردار عسکری ادارے ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ ماڈل کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ حالات کی مجبوری سے ابھرا، جب سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے تسلسل اور کنٹرول کے لیے اشتراک کو ناگزیر بنا دیا۔
دنیا کے مختلف ممالک جیسے ترکی، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ویتنام، چین، روانڈا، جنوبی کوریا، ملائیشیا، چلی، برازیل، میکسیکو، مراکش، عمان، پیرو، اسپین، پرتگال، پولینڈ، قازقستان، ازبکستان، آذربائیجان اور سنگاپور میں ہائبرڈ حکمرانی نے ریاستی صلاحیت، جدیدیت اور استحکام کو فروغ دیا ہے۔ یہ تمام مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اصل اہمیت نتائج کی ہے، محض بیانیے کی نہیں۔ متعدد مطالعات سے ایک واضح پیٹرن سامنے آتا ہے: اوّل، ہائبرڈ نظام اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب کمانڈ کا ڈھانچہ نظم و ضبط کو سکیورٹی، روزگار اور بروقت انصاف میں تبدیل کرے۔ دوم، یہ اس وقت ناکام ہوتا ہے جب کنٹرول مقصد سے بڑھ جائے اور کارکردگی کی جگہ خوف لے لے۔ سوم، اصل فیصلہ کن عنصر طاقت کا رخ ہے—آیا یہ خاموشی مسلط کرتا ہے یا کارکردگی کو ممکن بناتا ہے۔
خطرے کی ایک نمایاں مثال قاہرہ ہے، جہاں عسکری قیادت نے سیاسی استحکام اور ظاہری نظم تو قائم کیا، مگر اس کے ساتھ معاشی اصلاحات نہ ہو سکیں۔ مصر اس وقت ایک ایسے جال میں پھنس گیا، جب اس کا ہائبرڈ نظام کارکردگی کے بجائے کنٹرول پر مرکوز ہو گیا۔ نتیجتاً کمزور معاشی نمو، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور ناقص عوامی خدمات سامنے آئیں۔ طاقت کا تاثر برقرار رہا، مگر ترقی مفقود ہو گئی۔ اس کے برعکس، جنوبی کوریا میں جنرل پارک کے دور میں فوج نے جدیدیت کی بنیاد رکھی۔ سڑکوں، توانائی کے نظام اور برآمدی زونز کی تعمیر کے ذریعے صنعتی ترقی کی راہ ہموار کی گئی۔
سب سے کامیاب ہائبرڈ ماڈلز—سنگاپور، جنوبی کوریا اور روانڈا—نے نظم و ضبط کو مؤثر کارکردگی کے ساتھ جوڑا۔ پاکستان کے ہائبرڈ نظام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کنٹرول سے پہلے صلاحیت کو فروغ دے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کارکردگی سے مضبوط ہونے والی اتھارٹی دیرپا ہوتی ہے، جبکہ صرف طاقت پر مبنی اختیار وقت کے ساتھ تھکن پیدا کرتا ہے۔
پاکستان کے ہائبرڈ نظام کو بیانیے نہیں بلکہ نتائج کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ مہنگائی پر قابو، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور عدالتی نظام کی بہتری اس کے اصل پیمانے ہوں گے۔ اس کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو سیاست کو عسکری رنگ دیا جائے، یا ریاست کو جدید بنایا جائے۔
اگر یہ نظام حقیقی صلاحیت پیدا کرتا ہے—جیسے روزگار، مالیاتی اصلاحات اور عدالتی تیزی—تو اس کی ساکھ خود بخود قائم ہو جائے گی۔ لیکن اگر یہ مصر کے ماڈل کی طرح صرف کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے، تو پاکستان کو نظم تو ملے گا مگر ترقی نہیں؛ خاموشی تو ہوگی مگر کامیابی نہیں۔ آخرکار، پاکستان کے ہائبرڈ نظام کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ کمانڈ کو قابلیت میں بدلتا ہے یا محض اطاعت تک محدود رکھتا ہے۔ انتخاب واضح ہے: مصر کی فوج نے سڑکوں کو کنٹرول کیا، جبکہ جنوبی کوریا کی فوج نے مستقبل تعمیر کیا۔
یہ کالم معروف کالم نگار ڈاکٹر فرخ سلیم نے 18 اکتوبر 2025 کو دی نیوز انٹرنیشنل کے لیے لکھا تھا۔ اس کالم کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد، نورالہدیٰ یفتالیٰ نے اسے قارئین کے لیے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔
https://www.thenews.com.pk/print/1381371-egypt-or-south-korea





