17ہزار چیخیں اور 6 فیصد انصاف ، جب گلگت بلتستان بھی محفوظ نہ رہا

کالم: قطرہ قطرہ

اسلام آباد میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس صرف ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ پورے پاکستان کے زخمی بچوں کا ایک نوحہ تھا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں جو قومی سطح کے اعداد و شمار سامنے آئے وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے شرمندگی کا باعث ہیں۔

نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے مطابق صرف سال 2025 میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 17 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ چائلڈ رائٹس تنظیم ساحل کی سالانہ رپورٹ اس کی تصدیق کرتی ہے جس کے مطابق 2025 میں 3630 کیسز اخبارات میں رپورٹ ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہیں، یعنی روزانہ 9 سے زائد بچے زیادتی کا شکار بنے۔ اور 2026 کے صرف پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد 1914 تک پہنچ چکی ہے جن میں 1015 کیسز جنسی استحصال کے، 558 اغوا کے اور 98 کیسز زیادتی کے بعد فحش ویڈیوز بنانے کے ہیں۔

ان میں سے 45 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں میں ہوئے اور 43 فیصد مجرم جاننے والے نکلے، یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خطرہ باہر نہیں ہمارے اپنے گھروں اور گلیوں میں موجود ہے۔

جب ہم قومی اعداد و شمار سے نکل کر صوبائی سطح پر آتے ہیں تو کہانی مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں 625 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، 576 پر کارروائی ہوئی، 300 سے زائد ٹرائل کے لیے گئے لیکن سزا کی شرح صرف 6 فیصد رہی۔ صوبے میں بچوں کے آپس میں زیادتی کے 855 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ملک بھر میں ایسے 1700 سے زائد کیسز ہیں جس کی وجہ حکام نے گھروں میں فحش مواد تک بچوں کی آسان رسائی کو قرار دیا۔

پنجاب میں صورتحال اس سے بھی بدتر ہے جہاں جدید فرانزک لیبز ہونے کے باوجود 12 ہزار سے زائد کیسز التوا میں ہیں، سینیٹر ایمل ولی خان نے بجا طور پر سوال اٹھایا کہ سہولت ہونے کے باوجود انصاف کیوں نہیں مل رہا۔ پنجاب پراسیکیوشن نے خود اعتراف کیا کہ آخری بار بڑی سزا 2019 میں دی گئی تھی۔

بلوچستان کی بریفنگ پر کمیٹی اتنی غیر مطمئن ہوئی کہ اس نے صوبے کا سرکاری نگرانی والا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اور اب یہ آگ گلگت بلتستان تک پہنچ چکی ہے، وہ خطہ جو اپنی خوبصورتی اور سیاحت کے لئے مشہور تھا اب یہاں بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساحل کی رپورٹ میں گلگت بلتستان سے کیسز کا تناسب 5 فیصد کے اندر بتایا گیا ہے مگر ماہرین کہتے ہیں کہ یہ کم تعداد کم جرم کی وجہ سے نہیں بلکہ انتہائی کم رپورٹنگ کی وجہ سے ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق گلگت چائلڈ پروٹیکشن یونٹ میں صرف 2024 میں 33 کیسز رپورٹ ہوئے۔

حالیہ برسوں میں گلگت شہر اور اس کے گرد و نواح میں جو واقعات ہوئے ہیں انہوں نے اس مفروضے کو توڑ دیا ہے کہ یہ خطہ محفوظ ہے۔ مارچ 2024 میں گلگت کے نواحی گاؤں سلطان آباد سے 13سالہ بچی کا اغوا اور کم عمری شادی کا کیس سامنے آیا۔ 2024 میں گلگت بلتستان اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر سعدیہ دانش نے انکشاف کیا کہ ضلع استور سے 70 سے 80 کم عمر بچیوں کو شادی کے نام پر پنجاب اور آزاد کشمیر میں اسمگل کیا گیا ہے، ان میں ایک 13 سالہ بچی کو دو بار شادی کے نام پر بیچا گیا۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا واقع تھا۔

اس کے بعد 2025 میں دو انتہائی افسوسناک کیسز سامنے آئے۔ فروری 2025 میں سکردو کے تھانہ حسین آباد میں 11 سالہ بچے کو چائے کے ہوٹل پر بلا کر سپورٹس کمپلیکس میں تین افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مارچ 2025 میں ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں ایک 13 سالہ گونگی بہری بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی جو بعد میں مردہ بچے کو جنم دیتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئی، پولیس نے ڈی این اے سیمپلز کی مدد سے ملزم کو گرفتار کیا۔

اور تازہ ترین واقعہ اگست 2026 میں ہنزہ علی آباد کا ہے جہاں رستم پیلس ہوٹل میں 14 سالہ بچے کو قید کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس پر 377، 365 اور 342 کے تحت مقدمہ درج ہوا اور چار ملزمان گرفتار ہوئے۔

قبل ازیں گلگت میں راجہ کاشان کا اغواء اور مبینہ زیادتی اور قتل کا واقع، بسین کھاری میں بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقع، شگر میں بچے کے ساتھ زیادتی کا حالیہ واقع سمیت متعدد دیگر واقعات منظر عام پر آتے رہے ہیں۔

بچوں کے ساتھ زیادتی کے کئی کیسز مقامی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ ناانصافی کے سینکڑوں کیسز سامنے آنے سے قبل ہی دبا دیئے جاتے ہیں۔

سینیٹ کمیٹی کی کارروائی میں مذکورہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس دوران خیبرپختونخوا کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن اور محکمہ داخلہ کے حکام نے رپورٹ پیش کی، چیف چائلڈ پروٹیکشن آفیسر نے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010 کا حوالہ دیا۔ کمیٹی نے اسلام آباد کے ویسٹ منسٹر سکول میں 4 سالہ بچی کے کیس پر سکول کی جانب سے واقعہ چھپانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر حافظ کریم نے کہا کہ سزائیں قانون میں لکھی ہیں مگر عملدرآمد ناکام ہے۔

سینٹ کی کمیٹی نے جو سفارشات دی ہیں ان پر اب قومی سطح پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔ کمیٹی نے حکم دیا کہ خیبرپختونخوا کمیونٹی پروٹیکشن یونٹس کے ٹی او آرز فوری جمع کرائے، جو بھی سکول کیس چھپائے اسے بند کیا جائے، جاوید رشید قتل کیس میں ملزمان کی ضمانت منسوخ کرائی جائے، آئی جی پنجاب پراسیکیوشن کے ساتھ مل کر کام کرے، ویسٹ منسٹر کی بچی سے ملاقات کے لیے کمیٹی خود جائے گی اور بلوچستان کا نگرانی والا دورہ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ تمام صوبے اور گلگت بلتستان کے نمائندے مکمل تیاری سے آئیں۔

اب قومی سطح پر تین بڑے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ پہلا، ہر صوبے اور گلگت بلتستان میں فرانزک لیب اور چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کا قیام تاکہ 6 فیصد سزا کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔ دوسرا، گلگت بلتستان چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ریسپانس ایکٹ 2017 پر صحیح معنوں میں عملدرآمد، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کو عملہ اور فنڈز دینا، اور پورے ملک میں ہوٹلز، ہاسٹلز اور سکولوں کے لیے قومی ویریفکیشن اور 24 گھنٹے میں رپورٹنگ لازمی قرار دینا۔ تیسرا، چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ پر سختی سے عمل، جعلی شناختی کارڈ بنانے والوں کے خلاف کارروائی۔

اگر گلگت جیسے پرامن علاقے میں کئی بچے، استور کی بچیاں، غذر کی گونگی بہری بچی اور ہنزہ، سکردو، دیامر، نگر، گانچھے، شگر اور کھرمنگ کے بچے بھی محفوظ نہیں تو ملکی سطح پر 17 ہزار کا عدد اگلے سال 30 ہزار ہو جائے گا اور ہم صرف اجلاسوں کی کارروائی پڑھتے رہ جائیں گے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button