کالمز

ہاتون: شیطان کا آشیانہ، زندہ دل لوگوں کا مسکن یا مکر پورہ

 تحریر: کریم مدد

یادش بخیر! موجودہ ضلع غذر کی تحصیل پونیال کے گاؤں ہاتون کو ہم اپنے بچپن سے شیطان کا آشیانہ سمجھتے تھے۔

وجہ وہی ایک شینا کہاوت کہ "شیطان چھیرور جالون، بوبرور بُونیلُن، ہاتونر گوٹ گِنیگون”.

یعنی شیطان نے جنم شیر قلعہ میں لیا، بوبر میں پرورش پائی اور ہاتون میں گھر بسایا۔۔۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اُن دنوں شیطان کا تصور بھی ہمارے تخیل میں ایک زندہ دل، خوش باش، مزاح سے بھرپور ایک شریر شخص کا سا تھا جو اپنی شرارتوں مزاحیہ باتوں سے لوگوں کو ہنساتا تھا۔ شیطان کا یہ تصوراتی خاکہ لمبے عرصے تک یوں بھی ہمارے ذہن میں باقی رہا کہ اکثر محفلوں میں ہاتون کی سر زمین پہ جنم لینے والے لطیفے سنائے جاتے تھے۔ ہاتون کے باسیوں کی حسِ مزاح کے تذکرے زبان زدِ عام تھے۔ برجستہ جملے، فی البدیہہ چٹکلے اور طنز و مزاح سے پھرپور گفتگو میں ہاتون والوں کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔

لڑکپن تک آتے آتے ہاتون کو شیطان کا آشیانہ اور خوش مزاج و زندہ دل لوگوں کی بستی کے ساتھ ساتھ فٹ بال کے اچھے کھلاڑیوں کی سرزمین کی حیثیت سے بھی ہم جاننے لگے۔ جاوید، جمال حسین، کمال حسین، شکور اور دیگر کھلاڑیوں پر مشتمل ہاتون کی ٹیم میدان میں ہوتی اور اپنے مخصوص اور جوشیلے انداز میں حوصلہ بڑھانے کے لیے حضَرو چچا میدان کے باہر ہوتے تو میچ دیکھنے والا بن جاتا۔

جب ہم نے اپنی نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو گورنمنٹ کالج کی عمارت ہاتون میں تعمیر کی گئی اور ہم کالج کےطالب علم بن کے ہاتون جانے لگے۔۔ ہم کوئی معیاری، محنتی اور لائق قسم کے طالب علم تو تھے نہیں، نہ کوئی مقصد پڑھنے کا تھا اور نہ ہی نگاہوں میں کوئی منزل سجی تھی۔۔۔۔ بس مفت کی تعلیم، چند دوست اور کچھ مبہم احساسات کے ہاتھوں مجبور ہو کے ایک سال ہاتون کالج میں گزارا

لیکن ہاتون داس کے علاوہ باقی گاؤں دیکھنے کی خواہش اس لیے بھی نہیں ہوئی کہ مبادا "شیطان کی بستی” میں "مکر” اور چالاکی کے حامل لوگوں کا سامنا ہوگا اور ہم پہ عجیب و غریب نام رکھے جائیں گے اور یوں بھی اب ہاتون "شیطان کا آشیانہ” کے ساتھ ساتھ شیطان کی آنت جیسے لگ رہا تھا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلتے جائیں تو صبح سے شام ہوجائے۔

دو دفعہ فیل ہو کے ڈی گریڈ میں انٹر کرنے کے بعد دنیا کے میلے میں آئے تو روزگار کے دلفریب غموں نے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا اور پے در پے اتنی ٹھوکریں لگیں کہ ہم اٹھ کے اپنے مستقبل کی طرف دیکھنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ جب حال اور مستقبل دونوں تاریک محسوس ہوئے تو ماضی کی تابناکی سے اپنا کیتھارسس کرنے والے آزمودہ مشرقی نسخے کو بروئے کار لاتے ہوئے قدیم داستانیں پڑھنی شروع کیں۔ گھر پہ داستان امیر حمزہ اور قصص الانبیا نامی دو بہت ہی پرانی اور صخیم کتابیں جانے کب سے موجود تھیں۔ کتابیں بہت دلچسپ تھیں تو انہی کتابوں کے سبب پڑھنے کی لت ایسی لگی کہ پھر کسی اور نشے کی طرف حالات سازگار ہونے کے باوجود طبیعت راغب ہی نہیں ہو پائی۔ مزید کتابوں کی تلاش میں گلگت بلتستان کی تاریخ پہ لکھی کوئی کتاب ہاتھ لگی۔ اس کتاب میں ہاتون کا ذکر آیا تو ایک بار پھر دل میں گدگدی ہونے لگی اور کسی مزاحیہ واقعے کو پڑھنے کے لیے ذہن تیار ہونے لگا لیکن یہ کیا؟؟ آگے کوئی لطیفہ درج نہیں تھا بلکہ ہاتون میں کسی چٹان پہ قدیم سنسکرتی تحریر کندہ ہونے کا ذکر تھا۔ تجسس تو پیدا ہوا لیکن ذہنی سطح ابھی کافی پست تھی شاید، مزید کچھ سمجھ نہیں آ سکا۔

روز و شب کا سلسلہ چلتا رہا۔ زندگی کے نشیب و فراز نے بہت کچھ سکھا دیا، بہت کچھ بدل چکا لیکن تاریخ سے دلچسپی کم نہیں ہو سکی۔ گلگت بلتستان کی قدیم تاریخ سے متعلق جو کچھ بھی ملا اس کو پڑھنے کی کوشش کی اور اسی کوشش میں ہاتون کی چٹان کا ذکر ایک بار پھر کسی مقالے میں نظر آیا تو ذہن کے نہاں خانوں میں روشنی سی ہوئی۔ اب جب کہ ہم بھی خود کو اس قابل سمجھنے لگے تھے کہ کچھ سمجھ آ ہی جائے، کچھ لکھ پائیں تو کتابوں کی ورق گردانی کی، مقالے تلاش کیے، مضامین دیکھے اور انٹر نیٹ کی دنیا کھنگالی اور خود چل کے دو دفعہ اس چٹان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس در بدری میں معلوم پڑا کہ انیس سو تیس کی دہائی کے اواخر میں گلگت ایجنسی میں مقیم انگریز اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ریڈ پیتھ ایجنسی کے دورے پہ تھے تو انہوں نے ہاتون میں ایک چٹان دریافت کی جس پہ کوئی تحریر کندہ تھی۔ ان کو محسوس ہوا کہ یہ کوئی اہم تاریخی تحریر ہوگی اس لیے انہوں نے دستیاب آلات کی مدد سے اس چٹان پہ موجود تحریر کی تصویریں بنائیں اور گلگت میں پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر کرائٹن کو رپورٹ پیش کی۔ پولیٹیکل ایجنٹ نے ایک خط کے ساتھ انیس سو اکتالیس میں یہ تصویریں مشہور ماہر آثار قدیمہ سر مارک آورل اسٹین کو ارسال کیں جو سری نگر میں موجود تھے۔

اورل اسٹین نے دلچسپی سے تصویروں کا جائزہ لیا اور اس کتبے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وہ تصویریں دہلی میں قائم آرکیالوجی کے محکمے کے ڈائریکٹر مسٹر ڈکشت کو بھیج دیں۔ ساتھ ہی تجویز دی کہ چٹان کے واضح نقوش حاصل کرنے کے لیے میرے ساتھی اور معروف سروے کار خان صاحب افراز گل کی خدمات لی جائیں۔ مسٹر ڈکشت نے اپنے محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ماہر آثار قدیمہ و کتبہ شناس این چکرورتی کو اس اہم زمہ داری کے لیے نامزد کیا۔ این چکرورتی نے مذکورہ چٹان کی زیادہ واضح نقوش حاصل کرنے کے لیے ضروری سامان گلگت روانہ کیا مگر کاغذ پہ واضح عکس نہیں بن پانے کے سبب خان صاحب افراز گل نے کسی خاص کپڑے پہ اس تحریر کا عکس حاصل کیا۔ نیز چٹان کی پیمائش اور ارد گرد سے بھی چند اہم تصویریں لے کے دہلی میں محکمہ آثار قدیمہ ارسال کروا دیا جہاں محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر این چکرورتی نے اس کتبے کو پڑھنے اور ترجمہ کرنے اور پھر سمجھنے کی پہلی با ضابطہ کوشش کی۔ این چکرورتی کے مطابق یہ کتبہ سنسکرت زبان میں پروٹو شاردا رسم الخط میں تحریر کیا گیا ہے۔ سات سطروں پہ مشتمل اس تحریر کو چکرورتی کے بعد سِرکار، فوسمین اور پھر آسکر ون ہینبر نے بھی پڑھنے اور سمجنے کی کوشش کی۔ ان تمام کوششوں کے بعد اس کتبے کی قرآت سنسکرت میں ممکن ہوئی۔ گو کہ یہ تمام ماہرین ایک ہی قرات پہ متفق نہیں ہیں اور کافی کیریکٹرز کو سب نے مختلف انداز میں پڑھا ہے لیکن ان تمام کوششوں کو مدِ نظر رکھ کے اس کتبے کا با محاورہ اردو ترجمہ یوں بنتا ہے

"خیر و برکت ہو! سال سینتالیس، پوش کے مہینے میں تیرہویں روشن پکش کے دن شری بھگدت کے وارث عظیم الشان بادشاہ ، حکمرانوں کے حکمران پتو لا دیو شاہی شری سریندر ادتیہ نندی دیو کے پھلتے پھولتے دور حکومت میں آپ کے قدموں کا وفادار، خزانے کا زمہ دار اور جاگیرداروں میں سردار، گلگت سارگن کا وزیر اعلی مکر سنگھ کی سرپرستی میں ضلع ہنی سارہ کے گاؤں ہاتون میں پرانے کنارے سے بتیس ہزار ہاتھ کی پیمائش تک نہر مکر وہینی کو بڑھایا گیا اور قلعہ سومالا کے بیابان تک پہنچایا گیا۔ نئی بستی کا نام مکر پورہ رکھا جاتا ہے اور اس بستی کو شہر قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بستی تب تک قائم رہے جب تک چاند، سورج اور زمین قائم رہیں۔ یہ (نہر اور بستی) تمام مخلوق کی بھلائی کے لیے ہے.”

کسی بھی عام شخص کے لیے یہ چٹان اور اس پہ درج یہ تحریر بے وقعت ہو سکتی ہے لیکن گلگت کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ چٹان ہفت اقلیم سے بڑھ کر ہے۔ ۔ تقویم اور آثار قدیمہ کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس کتبے پہ جو سنسکرتی کیلنڈر کی تاریخ درج ہے وہ عیسوی سن میں بیس دسمبر چھ سو اکہتر عیسوی بنتی ہے۔ یعنی یہ کتبہ آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے تراشا گیا ہے!!

کتبے کی عبارت ہم کو بتاتی ہے کہ یہ کتبہ پتولا دیو شاہی دور کے عظیم بادشاہ شری سریندر ادتیہ نندی دیو کے عہد کا ہے جو شری بھگدت کے وارثوں میں سے ہیں۔ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ گلگت پتولا دیو شاہی کی سلطنت کا حصہ تھا اور یہ بادشاہ خود کو شری بھگدت کے وارث قرار دیتے تھے۔ شری بھگدت مہابھارت کے مطابق ایک دیو مالائی کردار ہے جس کا نسب بھگوان وشنو سے جوڑا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کی موجودہ ریاست آسام کی ایک قدیم ریاست کا مالک تھا اور مہا بھارت کے ہی مطابق ارجن اور بھگدت کا جب آمنا سامنا ہوا تو بھگدت ہاتھی پہ سوار مقابلے کے لیے میدان میں وارد ہوا اور بھگدت کے وار سے ارجن کا قصہ تمام ہونے ہی والا تھا کہ بھگوان کرشن نے ارجن کو بچا لیا اور پھر بھگدت ارجن کے تیر کا نشانہ بن گیا۔۔۔ یہاں ہم کو گلگت میں مشہور شری بدت اور آزر جمشید کا دیو مالائی قصہ مہا بھارت کے شری بھگدت اور ارجن کے اساطیری قصے سے ماخوز محسوس ہو رہا ہے۔۔۔

خیر ہاتون کا کتبہ مزید ہم کو خبر دیتا ہے کہ اُس وقت گلگت پتولہ دیو شاہی ریاست کا ایک صوبہ تھا جس کا وزیر اعلی مکر سنگھ تھا جو بزعمِ خود عظیم بادشاہ سریندر ادتیہ نندی دیو کے قدموں کا وفادار، خزانے کا ذمہ دار اور جاگیرداروں میں سردار گردانا جاتا تھا۔ انہی مکر سنگھ نے یہ کتبہ ترشوایا تھا کیونکہ ان کی سرپرستی میں ہاتون کے قدیم کنارے سے پانی کا رخ موڑ کے ایک نئی نہر نکالی گئی تھی جس کا نام مکر سنگھ کی نسبت سے "مکرا وہینی” رکھا گیا۔ یہ نہر بتیس ہزار ہاتھ کے برابر طویل تھی اور ایک جنگل کے قریب تک پہچائی گئی تھی جہاں ایک نئی بستی بسائی جانی تھی جس کا نام بھی مکر سنگھ نے اپنے نام پہ ” مکرپورہ” رکھ چھوڑا تھا اور اس نئی بستی کو شہر بھی قرار دیا تھا۔۔ ہم حیرت سے اس تحریر کو تکتے رہے، پڑھتے رہے اور مزید حیران ہوتے رہے۔

ایک بار تو خیال گزرا کہ یہ صدیوں پرانا وزیر اعلی مکر سنگھ ہمارے موجودہ نمائندوں کا جدِ امجد ہی نہ ہو کہ خود کو مین لینڈ حکمرانوں کے قدموں کا غلام قرار دے کے خزانوں کا سردار بنا ہے اور فخر کر رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کے صاحبِ اقتدار افراد کی طرح پہلے سے موجود کسی نہر پہ اپنے نام کی تختیاں لکھوا کے افتتاح کر رہا ہو اور نہر کا نام اور بستی کا نام بھی اپنی نسبت سے رکھ رہا ہو۔۔ یہ خیال آتے ہی ہم نے خود کو کوسا کہ اتنی چاپلوسی، بد دیانتی اور خود فریبی و مکر و چالاکی مکر سنگھ میں نہیں ہو سکتی بے شک اس کے نام میں ہی مکر کا لفظ کیوں نہ ہو۔۔۔ جو بھی ہوں مکر سنگھ کی لکھوائی یہ سات سطریں ہمارے نمائندوں کی سات سو کارناموں سے زیادہ بیش بہا ہیں۔ یہی کتبہ ہم کو بتا رہا کہ تیرہ سو پچاس سال پہلے گلگت کا نام گلگت ہی تھا، ہاتون کا نام ہاتون ہی تھا اور ہاتون جس ضلعے میں شامل تھا اس کا نام ہنی سَرا تھا۔

گمان کہتا ہے کہ ہنی سارہ اُس دور میں پونیال اور اشکومن کے آباد دیہاتوں پہ مشتمل ہوگا۔ یہاں پہنچ کے اس غلط فہمی کابھی ازالہ ہو چکا کہ کہ لفظ گلگت انگریزوں کی ایجاد ہے یا یہ کوئی نیا لفظ ہے بلکہ گلیت یا گِلت گریگرت وغیرہ بعد میں گھڑے گئے نام ہیں۔ کتبے کی تحریر صاف صاف بتا رہی کہ ہنی سارہ ضلعے کا نام ہے تو یہ تجویز تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ پونیال اشکومن پہ مشتمل اگر کوئی نیا ضلع بنتا ہے تو اس کا نام ہنی سارہ ہونا چاہئیے۔ کتبے کے آخر میں نئی بستی کے قائم و دائم رہنے اور سورج، چاند اور زمین کے باقی رہنے تک اس بستی کو بھی آباد رہنے کی دعا مانگی گئی ہے نیز یہ کہ تمام مخلوق کی بھلائی کے لیے یہ نہر اور بستی وقف کی گئی ہے۔

یہ الفاظ بدھ مت کے اس آفاقی پیغام کی عکاسی کر رہے ہیں کہ فطرت لازوال ہے اور ہمارا ہر عمل مخلوق کی بھلائی کے لیے ہو۔۔۔ یہ سطر پڑھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ کوئی بھی شے انفرادی حیثیت میں ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہتی۔ دیو مالائی کردار بھگدت، عظیم بادشاہ سریندر ادتیہ نندی دیو، مہا گنجپتی مکر سنگھ، بتیس ہزار ہتھ لمبی نہر مکرا وہینی اور نیا شہر مکر پورہ۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں ۔ اگر کچھ بچا تو یہ چٹان جس کو دیکھنے کے لیے ہم چودہ اگست دو ہزار پچیس کو پہلی بار پہنچے۔ ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ چٹان کے اوپر خوبانی سکھانے کے لیے رکھی گئی تھی اور چٹان کے بیچوں بیچ گہری ہوتی ہوئی دراڑ سے ایک پودے کی شاخیں نکلی ہوئی تھیں۔ آس پاس چند گھر تھے جن کو صرف اتنا پتا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے تک انگریز اس چٹان کو دیکھنے آتے تھے۔ ہم نے بھی سر سری سا چٹان کا جائزہ لیا اور بارش کے تیز ہوتے وہاں چل پڑے۔۔۔ کچھ گھنٹوں بعد اطلاع ملی کہ سیلاب نے دائین گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے لیکن ہمارے دل میں چٹان کی آخری دعائیہ سطر چمک رہی تھی۔۔۔ "یہ سب مخلوق کی بھلائی ہے لیے ہے ”

دوسری بار ہم اٹھائیس دسمبر دو ہزار پچیس کو اس چٹان تک پہنچے۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر ساجد اور ڈاکٹر فیض بھی تھے۔ ہم نے چٹان کو ہر زاوئے سے دیکھا۔ اس تاریخی ورثے کو بچانے کی کوئی حکومتی یا ادارہ جاتی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ دراڈیں مزید گہری ہو رہی ہیں،

تحریر بھی مزید دھندلی ہو چکی ہے۔ ہر دراڈ سے پودے اُگ آئے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ مکرا وہینی سمٹ کے چٹان کے اندر محدود ہو چکی ہے اور مکر پور کا شہر اب چٹان کے اندر آباد ہے تاکہ آخری سطر کی دعا کا بھرم رکھ کے خود کو چٹان کے اندر ہمیشہ کے لیے باقی رکھ سکے اور باقی دنیا کو دراڈوں سے اگتے درخت یہ پیغام دیتے ہیں کہ انفرادی حیثیت میں کچھ بھی، کوئی بھی باقی نہیں رہ سکتا۔

اگر سورج، چاند اور زمین کی طرح خود کو آباد رکھنا ہے تو سورج کی طرح مخلوق کو علم کی زندگی دو، چاند کی طرح جہالت کے اندھیروں کو کم کرو، زمین کی طرح علم کے لیے زرخیز بنو، مکراوہینی کی طرح ذہنوں کی پیاس بجھاؤ تب ہی تمہارے چٹان جیسے وجود پہ کوئی لازوال تحریر ثبت ہو سکتی ہے، تب ہی تمہارے پتھر دل سے آفاقی شگوفے پھوٹ سکتے ہیں۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button