کالمز

جب تاجِ برطانیہ نے ریاستِ ہنزہ و نگر پر جنگ مسلط کی۔  (قسطِ اوّل) 

ای۔ایف۔ نائٹ نے اپنی مشہور تصنیف “جہاں تین سلطنتیں ملتی ہیں” میں ہنزہ و نگر کے خلاف برطانوی جنگ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ” 1891ء میں ہنزہ اور نگر  کی ریاستیں مطلق العنان راجوں کے ماتحت تھیں۔ ہنزہ و نگر کے شاہی خاندان کا شجرہ نسب پندرھویں صدی عیسوی سے دو بھائیوں کی نسل تک چلا جاتا ہے۔ تاہم  یہ خاندان خود کو دیوتاؤں کی اولاد قرار دیتا تھا۔
 یہاں عام طور پر یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ ہندوکش کے کسی مافوق الفطرت دیوتا کی نسل سے ہیں۔ 
لارڑز آف دی ماونٹینز نامی کتاب کے مصنف ہیرالڈ ہوپٹن کے بقول "بروشو قوم کی قدیم تاریخ اور اصل کے بارے میں بہت کم معلومات موجود ہیں۔ ان  کا اصلی ماخذ آج تک ایک معمہ ہے، کیونکہ خود بروشو قوم کے پاس نہ کوئی تحریری تاریخ ہے اور نہ ہی زبانی روایات جو ان کے قدیم 
ماضی کو بیان کریں۔یہ لوگ خود کو بروشو کہتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ یا تو ان پہاڑی علاقوں کے قدیم مقامی باشندے ہیں یا پھر وسطی ایشیا سے آنے والے ابتدائی مہاجرین کی اولاد ہیں”۔ 
ماضی میں ہنزہ اور نگر کے قبائل ہندوستان سے وسطی ایشیا جانے والے مالدار تجارتی قافلوں کو اپنی سرحد کے مقام شاد اللہ پر لوٹ لیا کرتے تھے۔ دونوں ریاستوں کے راجاؤں نے یارقند میں مستقل مخبر مقرر کر رکھے تھے، جو انہیں متوقع قافلوں کی بروقت اطلاع  دیتے تھے۔ 
کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر انہوں نے پچاس اونٹوں اور پانچ گھوڑوں پر لدا ہوا قیمتی سامان ضبط کر لیا تھا۔ کشمیر اور چین کی حکومتیں کمزور ہونے کے باعث ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہتی تھیں، جس کے نتیجے میں آس پاس کے ملکوں میں ہنزہ، نگر کا رعب و دبدبہ قائم ہو گیا اور وہ ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے لگے تھے۔ 
ایک مرتبہ ہنزہ کے راجہ کے دربار میں، ان کی موجودگی میں ایک وزیر سے سوال کیا گیا: 
“مشرق کا سب سے بڑا بادشاہ کون ہے؟” 
دربار میں موجود ایک خوشامدی نے جواب دیا: 
"یقیناً ہنزہ کا بادشاہ، اور اگر وہ نہیں تو خاقانِ چین، کیوں کہ یہ دونوں بلا شبہ سب سے بڑے حکمران ہیں۔” 
حقیقت یہ ہے کہ کرنل ڈیورنڈ کی مہم سے قبل ہنزہ کی تاریخ میں کبھی شکست کا ذکر نہیں ملتا۔ مہاراجہ کشمیر کی رعایا کی بڑی تعداد کو یہ لوگ وسطی ایشیا میں غلام بنا کر فروخت کر چکے تھے۔ اس دور میں ریاستِ ہنزہ کے چین کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ چینی حکمران نہ صرف غلاموں کے شکار اور قافلوں کی لوٹ مار پر چشم پوشی کرتے تھے بلکہ ایک موقع پر انہوں نے ہنزہ کے سخت گیر بادشاہ کو تگدمباش پامیر کے کرغیزی چرواہوں سے ٹیکس وصول کرنے کی اجازت بھی دے دی تھی۔
برطانوی ہند کے گلگت اور بلتستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی مخالفت میں ہنزہ کے راجہ صفدر علی خان اور نگر کے راجہ عذر خان (جو اپنےبوڑھے والد کی جگہ حکمران بنا تھا) نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر لیے تھے۔ اس کی وجہ شاید بلتستان اور گلگت پر قابض ڈوگروں سے وہ اپنی تحفظ چاہتے تھے۔ 
واضع رہے 1840 سے قبل پورے گلگت بلتستان میں تیرہ سے زیادہ  چھوٹی شاہی ریاستیں موجود تھیں ان میں سے بعض پر پہلی بار رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کے دور سے حملہ شروع ہوئے تھے۔ بعد ازاں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب رنجیت سنگھ کی امپائر کو جنگ میں شکست دے کر ختم کیا تو بطور تاوان رقم ادا نہ کرنے پر رنجیت سنگھ کے زیر قبضہ کچھ علاقوں کو اس کے ایک جنرل گلاب سنگھ آف جموں کے ہاتھوں  معاہدہ امرتسر کے تحت 75 لاکھ نانک شاہی روپے کے عوض فروخت کیا اور 1846 کے معاہدہ امرتسر کے زریعہ ماڈرن ریاست جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معاہدہ امرتسر کے تحت دیگر شرائط کے علاوہ ایک شق کے تحت مہا راجہ  جنگ کی صورت میں برطانوی سرکار کو فوجی مدد بھی فراہم کرنے کا پابند تھا۔ 
قبل ازیں کشمیر میں دو تین چھوٹے راج واڑے موجود تھے۔ معاہدہ امرتسر کے تحت 
گلاب سنگھ جن علاقوں کا مہاراجہ بنا تھا اس میں جموں و کشمیر، کرگل لداخ کے علاوہ موجودہ بلتستان کے علاقہ جات بشمول استور ، بونجی  اور گلگت شامل تھے ، خالصہ فوج  نے ان  علاقوں پر 1840 کے بعد قبضہ کیا تھا۔
 جدید ریاست جموں و کشمیر بننے کے بعد ڈوگروں نے ہنزہ، نگر ، یاسین، پونیال غذر کی شاہی ریاستوں اور دیامیر کے قبائلی علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے کئی بار حملے کئے، لیکن بری طرح ناکام ہوئے تھے۔ اس لیے بلآخر برطانوی ہند نے کرنل ڈیورنڈ کو ہنزہ نگر فتح کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ 
ان دنوں تاج برطانیہ اور زار روس کے درمیان گریٹ گیم جاری تھا۔ حکومت برطانیہ کو ہر وقت روسی افواج سے خطرہ لاحق  تھا کہ روسی پامیر کے راستے  ہنزہ نگر اور چترال و گلگت سے ہوتے ہوئے پہلے کشمیر اور پھر ہندوستان میں ان کی بادشاہت پر حملہ کرکے ختم نہ کریں۔ اس لیے وہ سرحدی علاقوں پر قبضہ کرکے  روسی پیش قدمی کو روکنا چاہتے تھی۔ اس لیے برٹش انڈیا نے امیرپل سروس رجمنٹ کو سرحدی دفاع کے کیے قائم کیا تھا جس سے حال ہی میں برطانوی افسران کے ماتحت کیا کر دیا گیا تھا ان کا فوجی دستہ گلگت چھاونی میں تعینات تھا۔
گلگت ایجنسی کے قیام کا بنیادی مقصد بھی روسی جارحیت کو روکنا تھا، اور سرحدوں کو محفوظ بنانا تھا۔ اسی دوران ایک روسی کپتان گرام چوسکی نے اسلحے سے لیس مہم جو دستے کے ساتھ ہنزہ کا دورہ کیا تھا، اس خبر سے برطانوی حکومت سخت پریشان تھی کہ روسی پیش قدمی حقیقت میں ان کے لیے خطرناک تھی ۔
 پہلے جان بڈلف پھر کرنل ڈیورنڈ نے ہنزہ نگر کے راجوں کو رام کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔ اس طرح کی ایک مثال برطانوی کپتان ینگ ہسبینڈ کی ہے جب اس نے راجہ صفدر علی خان آف ہنزہ سے ایک بار یہ پوچھا کہ آپ نے ہندوستان کا دورہ کیوں نہیں کیا، تو میر صفدر علی خان نے غصہ سے جواب دیا: "میں اور میرے آبا سکندرِ اعظم بڑے بادشاہ ہیں۔ ہم جیسے حکمرانوں میں یہ رواج نہیں کہ وہ اپنی سلطنت چھوڑیں۔” یہ مشہور ہے کہ وہ خود کو سکندر اعظم کی نسل سے سمجھتے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے ہنزہ اور نگر کی ان چھوٹی مگر جنگجو ریاستوں نے مل کر کئی بار مہاراجہ کشمیر کی افواج کو عبرتناک شکست دی تھی۔ انہیں اپنی قوت اور بہادری پر کامل اعتماد حاصل تھا۔ اس کی ایک عمدہ مثال 1848ء میں ملتی ہے، جب گلگت پر قبضے کے بعد پنجاب کے سکھ گورنر نتھو شاہ نے ہنزہ نگر پر حملہ کیا تو ہنزہ نگر کے جنگجوؤں نےنہ صرف کرنل نتھو شاہ کو قتل کیا بلکہ اس کی پوری فوج کو بھی ہلاک کر ددیا۔ 
اسی طرح تاریخ میں ایک اور مثال 1866ء کی ہے جب ریاست جموں وکشمیر کے ڈوگرہ افواج نے ہنزہ نگر پر حملہ کیا تو ان کو بھی سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ پسپا ہو کر گلگت بھاگ گئے، جبکہ ہنزہ نگر والوں نے قلعہ چھلت پر قبضہ کر لیا اور مہاراجہ کشمیر کے افواج کے اسلحہ پر بھی قبضہ کیا تھا۔ بقول مسٹر نائٹ وہ ہتھیار اب ہمارے خلاف استعمال ہونے والے ہیں۔ ای۔ایف۔ نائٹ کے مطابق کنجوتیوں نے پوری وادی میں یہ تاثر قائم کر رکھا تھا کہ روس ان کی پشت پناہی کے لیے تیار ہے کیونکہ روس کے ساتھ ان کے تعلقات بہتر تھے۔
 واضح رہے آج کے دور میں ہنزہ، نگر کے لوگ لفظ کنجوتی پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس لفظ سے نا آشنا ہیں۔ درحقیت ماضی میں چینی حکومت اور مشرقی ترکستان کے یغور لوگ ہنزہ و نگر کے باشندوں کو "کنجوت” کہتے تھے، اور مخالفین بھی طنزاً انہیں "کنجوتی” کہا کرتے تھی۔ اس لیے برطانوی نوآبادیاتی لکھاریوں نے بھی ہنزہ نگر کے لوگوں کو کنجوتی کہا ہے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ دشمنوں کو گرفتار کر کے یارقند میں غلام بنا کر فروخت کرتے تھے۔ 
ای ایف نائٹ لکھتے ہیں کہ راجہ صفدر علی خان نے اپنے والد کو قتل کر کے تخت حاصل کیا تھا۔ اسی طرح مئی 1891ء میں نگر کے راجہ عذر خان نے بھی اپنے دو بھائیوں کو راستے سے ہٹا دیا تھا، کیونکہ وہ انگریزوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اور اس کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ اسی تناظر میں اس نے کرنل ڈیورنڈ کو ایک نہایت گستاخانہ خط بھی لکھا۔ 
اسی دوران گلگت میں یہ خبر پہنچی کہ ہنزہ و نگر کے لوگوں نے چھلت کے قریب کے باشندوں کو اغوا کر کے غلام بناکر بھیج دیا ہے۔ بقول ای ایف نائٹ اس افسوس ناک طرزِ عمل نے برطانوی حکام کی پالیسی کو دوستی سے دشمنی میں بدل دیا۔ مئی کے وسط میں دونوں راجاؤں نے اپنے جنگجوؤں کو جمع کر کے قلعہ چھلت پر قبضے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی۔ 
بروقت اطلاع ملنے پر کرنل ڈیورنڈ ایک برطانوی افسر اور دو سو جوانوں کے ساتھ چھلت کی جانب روانہ ہوا اور سرحدی چوکی کو مضبوط کر لیا۔ اس فوری اقدام نے قبائلیوں کی پیش قدمی ناکام بنا دی۔ 
تاہم کرنل ڈیورنڈ کے لیےیہ ممکن نہ تھا کہ وہ سکندرِ اعظم کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس سرکش راجہ صفدر علی خان کو فوراً گرفتار کر لیتا۔ اس کے پاس صرف ڈوگرہ امپیریل فوج تھی، جسے حال ہی میں منظم کیا گیا تھا۔ جنگ کی صورت میں ان پر  مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا تھا۔ 
ان دشوار گزار گھاٹیوں اور دریائے ہنزہ جیسے علاقوں میں لڑائی کے لیے ایسے تربیت یافتہ دستے درکار تھے جو فوجی حکمتِ عملی سے بخوبی واقف ہوں۔ مہاراجہ کی چھ ہزار فوج تو اس وقت گلگت میں موجود تھی لیکن ان کی حالت بہتر نہیں تھی۔ 
اسی پس منظر میں کرنل ڈیورنڈ نے برطانوی ہند کا مرکز شملہ کو مدد کے لیے خط لکھا، جس کے جواب میں دو سو گورکھا سپاہی اور دو پہاڑی توپیں گلگت بھیجی گئیں، گلگت ایجنسی کے لیے چودہ تجربہ کار افسران تعینات کیے گئے جن کو جنگوں کا بڑا تجربہ تھا۔ اس طرح پونیال لیویز نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا، کیونکہ استور اور پونیال کے راجے برطانوی حلیف تھے ۔ 
ہنزہ و نگر کے خلاف اس جنگ کی منظوری کے لیے ایک تفصیلی رپورٹ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ اس رپورٹ میں درج تھا کہ 1889ء می ہنزہ نگر کے دونوں راجاؤں نے کرنل ڈیورنڈ سے معاہدہ کیا تھا ،جس کے تحت انہوں نے یارقند روڈ پر حملے نہ کرنے اور برطانوی افسران کو اپنے علاقوں سے گزرنے کی اجازت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے بدلے برطانوی حکومت نے انہیں سالانہ وظیفہ دینے کی منظوری دے دی تھی، مگر کچھ ہی عرصے بعد دونوں حکمرانوں نے یہ معاہدہ توڑ دیا ۔
راجہ صفدر علی خان نے کھلے الفاظ میں کپتان ینگ ہسبینڈ سے کہا کہ جب تک امداد میں اضافہ نہیں کیا جاتا، وہ قافلوں پر حملے جاری رکھے گا ،کیوں کہ یہی اس کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ ایک نازک موقع پر اس نے پامیر میں موجود ینگ ہسبینڈ کو برطانوی خطوط کو اپنے علاقے سے لے جانے کی اجازت بھی نہ دی۔ 
 ہنزہ نگر کی طرف سے ممکنہ حملوں کے پیش نظر چھلت میں نیا قلعہ تعمیر کیا گیا اور بونجی میں دریائے سندھ پر رسّی کا پل بنایا گیا تاکہ سردیوں میں نقل و حمل آسان ہو۔ کشمیر سے استور اور پھر بونجی کے راستے سامان گلگت پہنچایا جاتا تھا۔ اسی طرح گلگت سے ہنزہ و نگر اور ہندوکش کے درّوں تک فوجی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ 
سڑکوں کی تعمیر پر مامور دو سو مزدوروں کو اسلحہ فراہم کیا گیا تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنا دفاع کر سکیں۔عام شہری بھی عملاً جنگ کاحصہ بن گئی۔ منصوبہ  یہ تھا کہ تمام سڑکوں پر فوری قبضہ کیا جائے، اور اگر راجاؤں نے مزاحمت کی تو فوجیں ان کے علاقوں میں داخل ہو جائیں۔ نائٹ لکھتے ہیں: "ہمیں انہیں حقیر نہیں بلکہ دشمن سمجھنا چاہیے، کیونکہ وہ کبھی مغلوب نہیں ہوئے ہیں۔ کئی مواقع پر انہوں نے برٹش انڈیا کے بہترین سپاہیوں کو شکست دی ہے۔” دوسری طرف ان دنوں گلگت اور استور کے باشندوں کا عام خیال تھا کہ برطانوی فوج تباہ ہو جائے گی۔ گلگت میں یہ خبر بھی پھیلی کہ ہنزہ و نگر والوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو پہاڑوں میں منتقل کر دیا ہے، نلت قلعہ میں مضبوط فوج جمع کر لی گئی ہے، اور جلد چھلت پر حملہ متوقع ہے۔ یہ افواہ بھی گردش میں تھی کہ چلاسی قبائل ان کی مدد کے لیے آ رہے ہیں ۔ اس لیے انگریز سرکار نے
احتیاطاً سامان بونجی کے قلعے میں محفوظ کیا گیا اور کچھ رسد واپس استور بھیج دی گئی۔ بقول نائٹ مقامی لوگ ایسے آتے جاتے تھے جیسے جنگ کا کوئی احساس ہی نہ ہو، حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ ہنزہ و نگر سے ہمدردی رکھتے تھے، جس سے برطانوی عملہ شدید پریشان تھا۔ 
بقول ای ایف نائٹ اگرچہ فوری حملہ ضروری تھا، مگر ہماری تیاری ناکافی تھی۔ رسد کا انتظام مکمل نہیں ہو سکا تھا۔ اکتوبر کے آخر تک مطلوبہ گندم کا دسواں حصہ بھی گلگت نہیں پہنچا تھا۔ سپاہیوں کے لمبے کوٹ، جوتے اور بارہ سو قلیوں کا سامان بھی دستیاب نہ تھا۔ صورتحال نہایت سنگین تھی، اور ایک باخبر دشمن اس کمزوری سے فائدہ اٹھا سکتا تھا۔ 
اس کے باوجود، شملہ سے ہدایات موصول ہوئی کہ سال کے آخر میں جنگ چھیڑ دی جائی۔ بالآخر 16نومبر 1891ء کو تمام فوجیں گلگت میں خیمہ زن ہو گئیں۔ گلگت زندگی سے بھرپور نظر آ رہا تھا، اور جنگ اب شروع ہونے ہی والی تھی۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button