کالمز

چپورسن میں سردی، زلزلہ اور حکومتی بے حسی کے درمیان پھنسی انسانیت

چپورسن میں اس وقت قدرتی آفات نے مل کر ایک ایسا انسانی المیہ جنم دے دیا ہے جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ ایک طرف وقفہ وقفہ سے آنے والے زلزلے کے جھٹکے ہیں، دوسری جانب شدید برف باری اور منفی بیس سے پچیس ڈگری تک گرتا ہوا درجۂ حرارت۔ ان حالات میں تین سو سے زائد خاندان ناقص اور غیر محفوظ ٹینٹس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں سردی کا مقابلہ کرنا انسانی بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔

برف باری کے باعث یہ خدشہ شدت اختیار کر گیا ہے کہ اگر سڑک بند ہو گئی تو پورے علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں نہ صرف امدادی سرگرمیاں رک جائیں گی بلکہ انخلاء کا عمل بھی ناممکن ہو سکتا ہے۔ یوں چپورسن ایک مکمل محاصرے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انیس جنوری کو آنے والے تباہ کن زلزلے نے وادی چپورسن، گلگت بلتستان میں چھ سو گھرانوں کو متاثر کیا، جب کہ تین سو مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ پانچ افراد زخمی ہوئے جن میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مسلسل آفٹر شاکس نے خوف اور بے یقینی کو معمول بنا دیا ہے۔ لوگ اپنے گھروں کی طرف دیکھتے ہیں تو ملبہ دکھائی دیتا ہے، اور مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں تو دھند۔

وادی چپورسن گوجال اپر ہنزہ کی تین بستیاں زودخون، شتمرگ اور اسپنج مکمل طور پر متاثر ہو چکی ہیں جبکہ مجموعی طور پر پوری وادی اس آفت کی زد میں ہے۔ متاثرین کے لئے فراہم کئے گئے ٹینٹس منفی درجۂ حرارت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ حرارتی سہولیات کا فقدان اس قدر شدید ہے کہ لوگ لکڑیاں جلا کر خود کو گرم رکھنے پر مجبور ہیں۔ اسی مجبوری کے باعث آج ایک ٹینٹ میں آگ لگ گئی اور وہ خاکستر ہو گیا یہ واقعہ اس بحران کی سنگینی کا خاموش مگر خوفناک اعلان ہے۔

انخلاء کی جزوی کوششیں شروع ہوئیں۔ آج تین گاڑیوں میں متاثرین کو سوست منتقل کیا گیا، جب کہ کل مزید چھ گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو منتقل کرنے کی تیاری تھی، مگر اچانک برف باری نے اس عمل کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ حکومت جتنا تاخیر کرے گی، مسئلہ اتنا ہی سنگین ہوتا جائے گا۔ شدید سردی اور وبائی امراض کا خطرہ انسانی جانوں کے لیے ایک کھلا چیلنج بن چکا ہے۔

یہ المیہ اچانک نہیں آیا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے مقامی لوگ زیرِ زمین دھماکوں اور زلزلے کے جھٹکوں کی شکایات کرتے رہے، مگر حکومتی سطح پر کوئی سنجیدہ توجہ نہ دی گئی۔ آج اس غفلت کا نتیجہ ایک کھلے انسانی سانحے کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ اگر اب بھی تاخیر کی گئی تو اس کے نتائج ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔

صورتحال فوری اور ٹھوس اقدامات کی متقاضی ہے۔
سب سے پہلے انخلاء ناگزیر ہے، خاص طور پر بچے، خواتین، معذور افراد اور بزرگ شدید خطرے میں ہیں۔ امدادی سامان میں خوراک، صفائی کے کٹس اور خواتین کے لیے ڈگنٹی کٹس کی اشد ضرورت ہے۔
طبی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ زخمیوں کی علاج ہو سکے اور عارضی پناہ گاہوں میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
شدید موسم سے بچاؤ کے لیے حرارتی سہولیات سے آراستہ سرمائی عارضی شیلٹرز ناگزیر ہیں۔
اور سب سے اہم، متاثرہ علاقے کا جامع زلزلہ جاتی جائزہ (سیسمک اسسمنٹ) کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے ٹھوس حکمتِ عملی مرتب ہو سکے۔

چپورسن کے لوگ کسی غیر معمولی مراعت کے طلبگار نہیں، وہ صرف جینے کا حق مانگ رہے ہیں۔ متعلقہ اداروں کی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری، مؤثر اور انسان دوست اقدامات کریں۔ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی تو کل تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ سردی، زلزلے اور بے بسی کے اس سنگم پر انسانیت کو کیوں تنہا چھوڑ دیا گیا۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button