شخصیت کا سحر اور تحریک کی شکست

کسی بھی معاشرے میں حقوق کی تحریکیں محض وقتی ردِعمل نہیں ہوتیں بلکہ وہ اجتماعی شعور کی وہ لہریں ہوتی ہیں جو طویل ناانصافی، محرومی اور جبر کے خلاف اٹھتی ہیں۔ یہ تحریکیں دراصل عوام کے اندر پلنے والی اس بے چینی کا اظہار ہوتی ہیں جو ایک زیادہ منصفانہ سماج کا خواب دیکھتی ہے۔ مگر تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سی تحریکیں اپنے سفر کے دوران شخصیت پرستی کے ایسے حصار میں قید ہو جاتی ہیں جہاں نظریہ دھندلا جاتا ہے اور چہرہ نمایاں ہو جاتا ہے۔
تحریک اپنی اصل میں ایک اجتماعی عمل ہے جس کی بنیاد اصول، نظریے اور مشترکہ جدوجہد پر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس شخصیت پرستی ایک فرد کو اس قدر مرکزیت دے دیتی ہے کہ پوری تحریک اسی کے گرد سمٹنے لگتی ہے۔ یوں گفتگو حقوق، پالیسی اور نظام سے ہٹ کر شخصیت کی مقبولیت، بیان بازی اور شبیہ سازی تک محدود ہو جاتی ہے۔ اختلافِ رائے، جو کسی بھی زندہ تحریک کی علامت ہوتا ہے، آہستہ آہستہ ناپسندیدہ ٹھہرتا ہے اور تنقید کو دشمنی سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس مرحلے پر تحریک ایک فکری اور اخلاقی جدوجہد کے بجائے جذباتی وابستگی میں بدل جاتی ہے جہاں سوال کرنے کے بجائے عقیدت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ہمارے سماج میں ایک مخصوص اشرافیہ ایسی بھی ہے جو عوامی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر تحریکوں میں نمایاں ہو جاتی ہے۔ وسائل، تعلیم اور میڈیا تک رسائی انہیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ عوامی دکھ کو اپنے بیانیے کا حصہ بنائیں۔ بظاہر وہ مظلوموں کی آواز بنتے ہیں، مگر اکثر یہ نمائندگی ایک نمائشی رنگ لیے ہوتی ہے۔ احتجاج ایک منظر میں بدل جاتا ہے، کرب ایک داستان بن جاتا ہے اور جدوجہد ذاتی شہرت کے ایک زینے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس عمل میں وہ لوگ، جن کے نام پر تحریک کھڑی کی جاتی ہے، اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ان کی آواز پھر کسی بااثر ترجمان کی محتاج ہو جاتی ہے۔
شخصیت پرستی کا سب سے بڑا فائدہ اسی نظام کو پہنچتا ہے جس کے خلاف تحریک برپا ہوتی ہے۔ طاقت کے ڈھانچے اجتماعی شعور سے خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ بیدار عوام کو نہ آسانی سے خریدا جا سکتا ہے اور نہ مکمل طور پر خاموش کرایا جا سکتا ہے۔ مگر ایک فرد کو کمزور کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اسے بدنام کیا جا سکتا ہے، مراعات دے کر خاموش کیا جا سکتا ہے یا دباؤ کے ذریعے تنہا کیا جا سکتا ہے۔ جب تحریک کی ساری توانائی ایک شخصیت میں مرتکز ہو جائے تو اس شخصیت کی کمزوری پوری تحریک کو ہلا دیتی ہے، جبکہ نظام اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی عوام میں ایک خاموش نفسیاتی انحصار بھی پیدا کرتی ہے۔ لوگ خود منظم ہونے اور قیادت پیدا کرنے کے بجائے کسی نجات دہندہ کے منتظر رہتے ہیں۔ وہ اپنی اجتماعی قوت کو پہچاننے کے بجائے ایک چہرے میں اپنی تمام امیدیں سمو دیتے ہیں۔ یہ طرزِ فکر جمہوری روح کے منافی ہے کیونکہ جمہوریت فعال اور باشعور شہریوں سے وجود میں آتی ہے، نہ کہ تماشائیوں کے ہجوم سے۔ جب عوام اپنی سیاسی طاقت کسی ایک فرد کے حوالے کر دیتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی اسٹیٹس کو کو مضبوط کرتے ہیں جس سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔
پائیدار تحریکیں وہی ہوتی ہیں جو افراد کے ساتھ ساتھ ادارے بھی تعمیر کرتی ہیں، جو قیادت کو قابلِ احترام ضرور سمجھتی ہیں مگر اسے تنقید سے بالاتر نہیں بناتیں، اور جو وقتی مقبولیت کے بجائے دیرپا شعور کو اہمیت دیتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ شخصیات عارضی ہوتی ہیں مگر نظریے اور ادارے دیرپا ہوتے ہیں۔ ایسی تحریکیں عوام کو محض پیروکار نہیں بلکہ شریکِ جدوجہد بناتی ہیں، انہیں سوال کرنے، اختلاف رکھنے اور فیصلہ سازی میں حصہ لینے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک منصفانہ معاشرے کے خواہاں ہیں تو ہمیں شخصیت پرستی کے سحر سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی کسی ایک فرد کا معجزہ نہیں بلکہ اجتماعی ارادے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب تحریک کا مرکز ایک شخصیت کے بجائے واضح نظریہ اور منظم عوامی قوت ہو، تبھی وہ نظام کی بنیادوں کو چیلنج کر سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر جدوجہد ایک دلکش تماشے میں بدل جاتی ہے جس میں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر اسٹیج وہی رہتا ہے۔ تاریخ آخرکار انہی تحریکوں کو یاد رکھتی ہے جو شخصیات کے سائے سے نکل کر عوام کے شعور میں ڈھل جاتی ہیں، کیونکہ اصل طاقت ہمیشہ بیدار ذہنوں کے اجتماع میں ہوتی ہے، نہ کہ کسی ایک روشن چہرے میں۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

Back to top button