ریاست ہنزہ و نگر کے خلاف تاجِ برطانیہ کی جنگی مہم ۔۔۔ قسط چہارم

کرنل ڈیورنڈ اپنی مشہور تصنیف "دی میکنگ آف اے فرنٹیر” میں ریاست نگر کے مشہور دفاعی قلعہ نلت پر قبضہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ "میرا منصوبہ یہ تھا کہ اگر توپوں سے قلعے کا برج نہ گرا تو برطانوی افسر کپٹن ایلمر بارود (Guncotton) کے ذریعے نلت قلعے کا گیٹ اڑا دے گا۔ ہر قیمت پر قلعے پر قبضہ کرنا بقا کا مسئلہ تھا۔” اس قلعے کی جغرافیائی پوزیشن ایسی تھی کہ یہ ایک عظیم کھائی اور دریا کے سنگم پر واقع تھا، جہاں کی چٹانیں تین سو فٹ بلند تھیں۔ جب ہم نے پہاڑی کے ایک ابھارے (Spur) سے سر نکالا اور توپوں نے پہلا گولہ داغا، تو دشمن کے لشکر سے ایک ایسا لرزہ خیز نعرہ بلند ہوا جو پوری وادی میں گونج گیا۔
ای ایف نائٹ اپنی تصنیف” جہاں تین سلطنتیں ملتی” میں ہنزہ نگر کے خلاف برطانوی جنگ کے اس فیصلہ کن مرحلہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ” نلت نالے کے پار پتھروں کی آڑ سے دشمن ہم پر فائرنگ کر رہے تھے ان کی پرانی شیربچہ توپیں جن میں سے کچھ ہماری سیون پونڈ توپوں سے بھی زیادہ بھاری تھیں پہاڈوں کے اونچی اطراف سے ہمارے آگے گولہ باری کر رہے تھے اور اس فائرنگ کا تبادلہ سورج غروب ہونے تک جاری رہا۔ ​
دشمن کی گولہ باری بڑی سیدھی اور ان کے نشانہ باز بڑے اچھے تھے۔ بقول نائٹ، ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ان کے پاس دور مار رائفلوں اور جدید اسلحے کے علاوہ مقامی ساختہ ‘توڑے دار’ بندوقیں بھی تھیں، جنہیں چلانے کا ڈھنگ وہ بخوبی جانتے تھے۔ دشمن کے کچھ سپاہیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ برطانوی افسران کو نشانہ بنائیں، چنانچہ اس دن ہم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو بال بال نہ بچا ہو۔ مثال کے طور پر، اس جنگ میں لیفٹیننٹ ولیم کے ہیلمٹ پر گولی لگی، جبکہ لیفٹیننٹ بوالسرگون کے ریوالور پر اس وقت گولی لگی جب وہ قلعے کے اندر آخری کوشش کر رہے تھے۔ اسی طرح کرنل ڈیورنڈ کو گولی ماری گئی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور انہیں چارپائی پر ڈال کر گلگت منتقل کیا گیا اس کے بعد ہمارے افواج کی کمانڈ کپٹن بڑاڈشا کرنے لگا۔اس مہم میں نہ صرف کرنل ڈیورنڈ بری طرح زخمی ہوئے بلکہ لیفٹیننٹ بیڈ کاک بھی شدید زخمی ہوئے اور کیپٹن ایلمر کو تین گہرے زخم لگے، مگر وہ بچ گیا۔ ہمارے چالیس کے قریب جوان پہلے ہی مارے جا چکے تھے یا زخمی ہوکر ناکارہ ہو چکے تھے۔ ہمارے برطانوی جنگجو افسران میں سے پانچ جنگ کے لیے ناکارہ ہو چکے تھے اب صرف بارہ افسران ہمارے ساتھ باقی بچ گئے تھے ۔ دو دسمبر کی طرح کچھ دن اگر اور گذرتے تو ہمارے پاس فوجیوں کی کمانڈ کرنے کے لیے کوئی افسر نہ بچتا۔
 نگر کی فوج قلعے کے اندر سے بھی گولیاں چلا رہی تھا جہاں وہ محفوظ تھے۔ ہمیں شک تھا کہ ان کے صرف دو سے تین بندے ہی ہمارے نشانے پر آئے ہوں گے، جبکہ ان کی فائرنگ سے ہماری طرف بہت زیادہ سپاہی نشانہ بنے تھے۔ جبکہ ہنزہ والوں نے خود جار حانہ قدم اٹھایا تھا اور ہمارے طویل مواصلاتی نظام پر حملہ کیا تھا۔ نلت نالے کی مخالف سمت کا دفاع لاتعداد مورچے اور شیر بچہ توپیں کر رہی تھیں۔ ہمالیہ کی اس جنگ کی ایسی حالت تھی جس کی مثال نہیں ملتی ہے۔ گلیشروں سے دریائی خشک گزرگاہوں تک ہمیں ناقابل گزر چٹانوں کا سامنا تھا جن پر نشانہ بازوں کی قطاریں لگی تھیں ہمارے جوانوں کے لیے گولی کی نسبت وہاں کی جعزافیائی حالت زیادہ خوفناک تھی جس نے ہمارے دشمن کے دفاع کو آسان بنایا تھا۔ 
اب فیصلہ کن حملے کا وقت آ چکا تھا۔ ہمیں حکم دیا گیا اور نعروں کی گونج میں گورکھوں کا ایک حفاظتی دستہ تیزی سے آگے بڑھا، انہوں نے آخری سیڑھی نما دیوار کے ساتھ صف بندی کی اور قلعے کے روزنوں (Loopholes) پر شدید فائرنگ شروع کر دی۔ ان کی فائرنگ کی آڑ میں ایلمر (Aylmer) اور اس کا حملہ آور دستہ کھلے میدان کو عبور کر کے خندق میں کود گیا۔
​نلت قلعے کا دروازہ مرکزی دیوار کے بیچ میں تھا، جو ہماری نظروں سے ایک چھ فٹ اونچی دیوار کی وجہ سے چھپا ہوا تھا۔ یہ دیوار خندق کے کنارے پر بنی ہوئی تھی جس میں دشمن نے سوراخ تو کیے تھے مگر وہ وہاں قبضہ برقرار رکھنے میں ناکام رہا تھا۔ وہ خندق درختوں کے تنوں سے بنی رکاوٹوں سے بھری ہوئی تھی، جو وہاں سے قلعے کے اوپر پہاڑی کے ابھارے تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان رکاوٹوں کے درمیان ایک راستہ مل گیا جو ایک چھوٹے دروازے کی طرف جاتا تھا، جہاں سے بیرونی اور مرکزی دیوار کے درمیان کے راستے تک رسائی حاصل ہوتی تھی۔ یہ دروازہ کھائی کی دوسری طرف موجود سنگاہوں (پتھروں کے مورچوں) سے ہونے والی شدید فائرنگ کی زد میں تھا، لیکن ہم نے ایک سپاہی کے نقصان کے بعد اسے تیزی سے توڑ دیا اور ایک بار جب ہم اس کے اندر داخل ہوئے تو صورتحال بدل گئی۔
بقول ڈیورنڈ ​میرا ارادہ اپنی چھوٹی توپوں سے ایک برج (ٹاور) کے کونے پر گولہ باری کرنے کا تھا، اس امید کے ساتھ کہ برج گر جائے گا اور ہمیں دھاوا بولنے کے لیے راستہ مل جائے گا۔ اگر یہ کوشش ناکام ہو جاتی، تو ایلمر کو گورکھوں کی چھتری تلے چند انجینئر سپاہیوں کے ساتھ گیٹ کی طرف تیزی سے بڑھنا تھا اور ‘گن کاٹن’ (دھماکہ خیز مواد) کے ذریعے اسے اڑا دینا تھا۔ ہر قیمت پر قلعے پر قبضہ کرنا ایک ایسی ضرورت تھی جس سے سب واقف تھے۔ جیسے ہی قلعہ ہمارے قبضے میں آتا، ریزرو میں رکھی گئی ‘باڈی گارڈ رجمنٹ’ کو پیچھے والی کھائی کی طرف دھکیل دیا جانا تھا تاکہ وہ دوسری طرف کے دفاعی مورچوں پر حملہ کر سکیں۔ یہ قلعہ ایک عظیم کھائی اور دریا کے سنگم پر واقع تھا، وہ چٹانیں جن سے کھائی اور دریا کا کنارہ بنتا تھا اور جہاں سے قلعے کی دیواریں بلند ہوتی تھیں، تقریباً تین سو فٹ اونچی تھیں۔
​قلعہ اتنی دور تھا کہ چھوٹی توپوں سے درست نشانہ لگانا ممکن نہ تھا، اس لیے ہر شخص کو اس کے احکامات ملنے کے بعد ہم آگے بڑھے۔ یہاں دریا نے اچانک موڑ لیا اور ہمیں اس کے ساتھ دائیں جانب مارچ کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ہم پہاڑی کے ایک ابھارے (Spur) کے پیچھے چھپ کر قلعے کی نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ ہم قریب سے قریب تر ہوتے گئے یہاں تک کہ بالکل اس پہاڑی ابھارے کے نیچے پہنچ گئے، جس پر میں نے ‘پنیالی لیویز’ کے ساتھ قبضہ کر لیا۔ جیسے ہی ہم نے اس کے کونے کو عبور کیا، ایک برج کا اوپری حصہ نظر آنے لگا۔ لیکن صرف ایک فٹ کے قریب حصہ ہی دکھائی دے رہا تھا، اس لیے ہمیں مزید قریب جانا پڑا۔
​آخر کار، جب برج کا تقریباً دس فٹ حصہ اور آدھی دیوار نظر آنے لگی، تو ہم نے توپیں روک لیں اور کارروائی کا آغاز کر دیا۔
بقول نائٹ ہمارے اندازے کے مطابق قریبا چار ہزار ادمی اس عجیب و غریب حالت کو سنھبالے ہوئے تھے، ہمارے واسطہ نہایت خطرناک دشمن سے پڑا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ہمارا زہن پڑھ رہے ہیں ۔ کیونکہ رات کو حملہ کرنے کے بعض انتہائی خفیہ منصوبوں کا انہیں پہلے سے علم ہوتا تھا، وہ ہر خطرے کے مقام پر پہلے سے تیار ہوتے تھے۔رات کو وہ جفاکش قبائلی سب کچھ بدل دیتے۔ صبح ہماری نظر پڑتی تو ان کا ایک نیا دفاع دکھائی دیتا وہ رات کو مورچوں کی مرمت کرکے مضبوط کرتے تھے۔ 
پہاڑوں کے اطراف سے پتھروں کی بوچھاڑ کرکے نیچے گراتے اور نالے میں لکڑی کے بڑے بڑے گولے جلا کر پھینکتے جن کی روشنی میں انہیں ہمارے جوانوں کی موجودگی کا پتہ چلتا اور ہمیں فوری پسپا ہونا پڑتا۔ اس پرشور وادی کے اوپر چوٹی پر بہت خاموشی تھی جس کے نیچے انسان ایک دوسرے کو قتل کرنے میں مصروف تھے یا ایسا کرنے کے لیے بہت زور زور سے چیخ رہے تھے۔ 
 بقول ای ایف نائٹ ایک موت جیسی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور دشمن کی طرف سے کوئی حرکت ظاہر نہیں ہو رہی تھی، لیکن جیسے ہی پہلا گولہ دیوار کے اوپر سے گزرا اور قلعے کے پیچھے پھٹا، دشمن کے دستوں کی جانب سے ایک پرجوش نعرہ بلند ہوا، جو ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پھیلتا چلا گیا۔ توپوں اور بندوقوں نے اپنے گولوں اور گولیوں سے قلعے پر بوچھاڑ کر دی جس کی شور و غل میں بارود پھٹنے کی ایک بہت اونچی اواز سنی اور ہوا میں دھواں بلند ہوتے دیکھا، ہمارے بارود کی آواز نے دشمن کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہم سمجھ گئے تھے کہ قلعے کے اندر کسی میگزین کا بارود جل گیا تھا یا دشمن کی شیربچہ توپ پھٹ گئی ہو ہم نے پہاڈی منڈیر پر قبضہ کیا۔ اس فائرنگ کی آڑ میں ایلمر اور اس کا جری دستہ میدان پار کر کے خندق میں کود گیا۔ لڑائی اب قلعے کے حدور میں جاری تھی ہمارے سپاہیوں نے اس کے اندر اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ قلعے کا اصلی دروازہ ایک چھ فٹ اونچی حفاظتی دیوار کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ خندق میں درختوں کے تنوں اور شاخوں سے بنی رکاوٹیں موجود تھیں، مگر ایلمر کے جوانوں نے ایک راستہ تلاش کر لیا جو ایک چھوٹے دروازے تک جاتا تھا۔ شدید فائرنگ کی زد میں ہونے کے باوجود ہمارے سپاہوں نے دروازہ توڑ دیا اور اندر داخل ہو گئے اور کچھ دیر کے لیے قلعے اور روزنوں پر فائرنگ کی گئی، قبل ازیں بہت لوگوں کو گولیاں لگی تھی وہ مر چکے تھے۔
​قلعے کے مین دروازے کی طرف جانے والی گلیوں میں ہم قبائلیوں سے دست بدست لڑتے رہے۔ ان میں سے کافی مارے گئے اور بہت سارے زخمی ہو گئے، کپٹن ایلمر نے اپنی بارودی روئی کی سلیں قلعے کے صدر دروازے کی دہلیز پر نصب کیا اور بتی کو آگ لگائی جس سے دھمکے سے گیٹ ٹوٹ گیا اور ہم قلعے میں پھٹانوں کے ساتھ اترتے چلے گئے وہاں میں نے ایک گورکھے کی لاش پڑی دیکھی اس کے قریب نگر کے وزیر اور ان کے بعض بہترین لیڈروں میں سے ایک محومت شاہ کی لاش پڑی دیکھی جو بیڈ کاک کی گولی سے ہلاک ہوا تھا۔ قلعہ کے اندر صرف ایک عورت پائی گئی دوسری عورتوں اور بچوں کو لڑائی کے وقت پہاڑوں پر منتقل کیا گیا تھا۔ اس خاتون کا شوہر مارا گیا تھا معلوم ہوا کہ اس عورت کا بھائی اور چچا دونوں راجہ اکبر خان کے ملازمت میں ہیں چنانچہ پونیالیوں نے اس عورت کو اپنے حفاظت میں لیا اور پونیال میں اس کے رشتہ داروں کے ہاں بھیج دیا۔
اگر ہمارے بندوں کو جلد ہی کمک نہ پہنچ جاتی تو ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچتا۔  نگر کے ماہرین جنگ میں زیادہ تر اس قلعہ کو گرا کر نالے کے پیچھے ایک مضبوط پوزیشن سھنبالنے کی حق میں تھے لیکن یہ محمد شاہ تھا جس نے اس کی مخالفت کی وہ بضد رہا کہ نلت کا قلعہ ناقابل شکست ہے۔اگر ایلمر کی بارودی روئی کام نہ کرتی تو ہم قلعہ فتح نہیں کر سکتے تھے۔ 
 نلت کی اس جنگ میں نگر کا وزیر خود مارا گیا، لیکن ان کے بڑے لیڈر پھر بھی بچ نکلے کیونکہ یہ ان کا اپنا علاقہ ہونے کی وجہ سے انہیں راستوں کی بھول بھلیوں کا علم تھا۔ انہوں نے نالے کی جانب والے ایک چھوٹے دروازے سے نکل کر راہ لی لیکن دفاعی فوج  اپنی رائفلیں لے جانے میں کامیاب ہوگئی۔
 اس طرح نلت کا قلعہ بڑی بہادری سے لڑ کر ہم نے حاصل کیا؛ یہ ایک ایسی جنگ تھی کہ شاید ‘امبالہ کی لڑائی’ کے بعد اس کے برابر کوئی جنگ نہ لڑی گئی ہو۔ اس قلعے پر قبضے کی لڑائی میں ہمارے 6 جوان ہلاک اور 27 زخمی ہوئے، جبکہ اندازے کے مطابق دشمن کے 80 سے زائد آدمی مارے گئے اور سو افراد کو قیدی بنایا گیا۔ اس معرکے میں خود کیپٹن ایلمر بھی خون میں لت پت ہوا تھا پونیال کا راجہ اوپر پہاڑی سے یہ جنگ دیکھ رہا تھا وہ قلعے کے دروازے پر ایلمر کے حملے کا عینی شاہد تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ادمی کی نہیں بلکہ جن کی لڑائی تھی۔ قلعہ گرایا جا چکا تو توپوں سے اس پر شل گرانے لگے ۔ اور نچلا مورچہ جہاں دشمن کے سو جوان تھے اس سے خالی کرایا گیا، نگر کے بہادر بوڑھے وزیر نے اپنی سوچ کے مطابق قربانی دی، وہ لڑتے ہوئے مارا گیا۔ ہم قلعہ میں داخل ہونے میں کامیاب اس کی لاش کی وجہ سے ہوئےجو قلعے کے داخلی راستے کے اس پار لے جائی جارہی تھی۔ اسی اثنا ہمارے آدمیوں کو قلعے کے اندر داخل ہونے کا نادر موقع مل گیا۔
​اگر ہم اس مہم میں ہار جاتے تو یہ برطانوی راج کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر سکتا تھا۔ وادیِ سندھ کے قبائل کا اٹھ کھڑا ہونا یقینی تھا، چترالی بھی ان کے ساتھ شامل ہو سکتے تھے اور پوری سرحد شعلوں کی لپیٹ میں آ سکتی تھی۔ بقول کرنل ڈیورنڈ:
​”اگرچہ میں جانتا تھا کہ گلگت اور بونجی کا گرنا ممکن نہیں تھا، لیکن محاذ پر موجود فوجیوں کو خوراک کی فراہمی ایک ناقابلِ تسخیر مشکل بن جاتی، مزید یہ کہ درے بند ہو چکے تھے اور جون سے پہلے کسی قسم کی مدد کا آنا نامکن تھا۔ میں جانتا تھا کہ مجھے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے مزید دستوں کی ضرورت نہیں تھی، لیکن ہندوستان میں حکام کی گھبراہٹ انہیں فوج بھیجنے پر اکسا سکتی تھی؛ اور اس وقت کی ناکامی کا مطلب بہرصورت بہار میں ایک مہنگی امدادی مہم بھیجنا ہوتا۔
 بقول ای ایف نائٹ  ” کشمیری افواج  اس سے قبل بھی کئی بار ہنزہ نگر پر حملہ آور ہو چکی تھی وہ اس قابل نہ تھے کہ میدان میں ایک ہفتہ سے زیادہ ڈٹی رہیں ان کے پاس لمبے عرصہ تک خوراک کا انتظام نہ تھا فوجیوں کو یا تو بھوکا مرنا تھا یا مار کھا کر واپس بھاگنا تھا”۔
 بقول ڈیورنڈ یہ ایک تکلیف دہ وقت تھا، اور صرف یہ علم کہ جارج رابرٹسن فوج کے ساتھ سیاسی افسر کے طور پر موجود ہیں اور ان کی پُرعزم ہمت اور پختہ ارادہ کسی ناکامی کو برداشت نہیں کرے گا، مجھے پراعتماد رکھے ہوئے تھا۔”
​دن بہ دن محاذ سے رپورٹیں مجھ تک پہنچتی رہیں، اور وہ بہت زیادہ خوش کن نہیں تھیں۔ ہماری فوجوں نے نلت کے مفتوحہ قلعے اور اس کھلے میدان پر قبضہ کر رکھا تھا جس پر ہم نے پیش قدمی کی تھی۔ ان کے لیے پانی کی فراہمی یقینی تھی اور خوراک کی کافی مقدار موجود تھی۔ دشمن غیر فعال تھا، وہ صرف مزاحمت پر تلے ہوئے تھے اور انہوں نے نلت کو دوبارہ حاصل کرنے یا چھوٹی فوج کے گرد گھوم کر مواصلاتی لائن پر حملہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اب تک سب ٹھیک تھا؛ سوال یہ تھا کہ ان کے دفاع کو کیسے توڑنا ہے؟ 
​روایتی طور پر تین راستے کھلے تھے۔ یا تو دریائے ہنزہ کو عبور کر کے مایون کے قلعے پر دھاوا بول دیا جائے، یا دریا کے پاٹ (River bed) سے اوپر کی طرف بڑھا جائے اور یوں دشمن کی پوزیشن کا رخ موڑ کر نگر کے کنارے پر پہنچا جائے، یا آخر میں، سامنے والی چٹانوں پر چڑھنے کا راستہ تلاش کر کے براہ راست حملے کے ذریعے ان کی دفاعی لائن کو چیر دیا جائے۔ ایک اور متبادل بھی تھا کہ مفتوحہ قلعے کو دھماکے سے اڑا کر چھلت کی طرف پیچھے ہٹ جائیں اور چھ ماہ بعد ہندوستان سے امداد کا انتظار کریں۔ اس آخری آپشن کو پیش ہوتے ہی مسترد کر دیا گیا۔ وہ راستہ دیوانگی تھا، جس کا نتیجہ پوری سرحد پر عام بغاوت کی صورت میں نکلتا۔
​فیصلہ کیا گیا کہ مایون پر حملہ کیا جائے، چنانچہ بارہ دسمبر کو رات کے وقت ایک فوجی دستے نے دریا عبور کرکے ہنزہ میون میں داخل ہونے کی کوشش کی اور خاموشی سے دیواروں کی طرف بڑھا لیکن کنجوتی ہشیار ہو چکے تھے، چنانچہ مداخلت اس حد تک بڑھ گئی کہ یہ جاسوسی مہم کچھ حاصل نہ کر سکی اور فوجی ایک بھی فائر کیے بنا دن نکلنے سے قبل ہی نلت نگر واپس پہنچ گئے۔ پہلے راستے میں کامیابی کی کوئی امید نظر نہ آئی۔ وہ قلعہ بہت مضبوط اور محفوظ تھا اور وہاں تک پہنچنا نہایت مشکل تھا۔ دریا کے پاٹ سے فوجوں کو حرکت دینے اور دشمن کی پوزیشن کو پیچھے چھوڑنے کے امکان پر دوبارہ غور کیا گیا۔ یہ کھیل بہت خطرناک تھا۔ 
یہ واضع تھا ہماری تیاریوں کی خبر کمپ میں موجود جاسوسوں کے زریعے مایون تک پہنچ چکی تھی۔اس لیے کپٹن براڈشاہ نے بہت سوچ بچار کے بعد حملے کو اس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک حالات ساز گار نہ ہو جائیں۔
  بقیہ اگلی قسط میں..

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button