گلگت بلتستان میں ای ٹی آئی کے 10 سالہ ترقیاتی سفر کے اثرات

تحریر کردہ: شجاعت علی
کمیونیکشن آفیسر، ای ٹی آئی جی بی

 اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشٹو (ای ٹی آئی )حکومت گلگت بلتتسان کا  ایک اہم ترقیاتی پروگرام ہے  جس کے لئے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ایفاد(IFAD) اور وزارت خارجہ ا ور بین الاقوامی تعاون حکومت  اٹلی    اطالوی ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون(AICS ) کی مالی معاونت شامل ہیں۔ محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات حکومت گلگت بلتستان کی چھتری تلے  2015کو سات سال   یعنی 2022 تک  کے لئے  120 ملین امریکی ڈالر سے شروع ہونے والے ترقیاتی پروگرام کو اب   گلگت بلتستان میں  اس سال ایک دہائی (عشرہ)مکمل ہوا ہے اس دوران پروگرام کا آغاز ، منصوبوں پر عملدرآمد  اور تکمیل  اولین ترجیع رہی جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات ابھی آنا شروع ہو ا ہے۔ 16 اکتوبر 2015 کو ایفاد اور حکومت پاکستان کے مابین مالیاتی معاہدے    پر دستخظ ہونے    کے بعد مئی2016   میں  اس  پروگرام پر باضابطہ عملدرآمد شروع ہوا۔  2019 میں ایفاد کی جانب سے وسط مدتی جائزہ (Mid-term Review ) رپورٹ  کے بعد جون 2020میں اے آئی سی ایس  نے بطور   شریک مالی شراکت دار(Co-financer) پروگرام میں حصہ لیا۔  2022میں ایفاد کی جانب سے پروگرام میں تین سالہ(2022-2025)کی  ” پہلی بغیر کسی اضافی لاگت کے مدت میں اضافہ” یا "بلا قیمت میعاد میں اضافہ” کر دی گئی۔  جبکہ جون 2023 سے پروگرام کے لئے اے آئی سی ایس کی باقاعدہ فنانسنگ  کا آغاز ہوا  ۔  2025 میں ایفاد کی جانب سے پروگرام میں مزید دو سال( 2025-2027 کی دوسری  بلا قیمت میعاد توسیع کر دی گئی جبکہ 25 مارچ 2025 کو ایکنک(ECNEC) نے پروگرام کے نظرثانی شدہ پی سی ون کو منظور کرتے ہوئے پروگرام کو جون 2029تک توسیع دینے کے ساتھ پروگرام کے بجٹ  کو 12 ارب سے بڑھا کر 27 ارب  کردیا۔ اس توسیعی مدت میں پروگرام مکمل شدہ منصوبوں کے نتائج کا استحکام، اخراج اور پائیداری،  VACs/کسانوں کے لیے جاری سرگرمیوں، ہینڈ ہولڈنگ اور توسیعی خدمات کا نفاذ، پالیسی سپورٹ اور عمل درآمد کرنے والے شراکت داروں کی استعداد کار میں اضافہ پر توجہ مرکوز رکھے گی۔

   پروگرام کا ترقیاتی ہدف( Development Goal)  گلگت بلتستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی آمدنی میں بہتری، غربت اور غذائی قلت کو کم کرنا جبکہ ترقیاتی مقصد( Development Objective) زرعی ویلیو چین کی پائیدار ترقی کے ذریعے گلگت بلتستان میں کم از کم 100,000 دیہی گھروں کے لیے زرعی آمدنی اور روزگار میں اضافہ  کرنا مقصود ہیں۔ پروگرام کے  بنیادی اجزاء(Program Components) حسب ذیل ہیں۔

  • زراعت کی ترقی کے لئے اقتصادی انفراسٹرکچر (ILD & FMR) کی تعمیر۔
    1. آبپاشی کے چینلز کی تعمیر تاکہ 70,000 ایکڑ اضافی زمین زیر کاشت لائی جا سکے
    2. زرعی زمینوں کو مرکزی سڑکوں اور بازار سے جوڑنے کے لیے 700 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر اور 200میٹر آر سی سی پلوں کی تعمیر ۔
  • ویلیو چین کی ترقی کے لیے معاون خدمات
    1. زرعی کاروبار کو فارم پر اور فارم سے باہر گرانٹس کے لیے ویلیو چین فنڈ کا قیام ۔
    2. 226 دیہاتی زرعی کوآپریٹو سوسائٹیز کا قیام
  • پروگرام مینجمنٹ اور پالیسی سپورٹ
    1. زرعی توسیع، تحقیقی شعبہ جات کی حمایت
    2. پانی کے انتظام اور آبپاشی کے محکمے کی معاونت
    3. ETI ترقی یافتہ زمینوں کے مستفید ہونے والے ذمینداروں کی زمین کے ٹائٹلنگ کے لیے BoR کی حمایت

 

    جینڈر، یوتھ، نیو ٹریشن اور ماحولیات کوای ٹی آئی  پروگرام   میں خاصی اہمیت دی جاتی ہیں اور اس بات کا خیال رکھا گیا ہے  کہ پروگرام میں صنفی توازن  خصوصاً خواتین، غرباء، یتیم اور بے سہارا لوگوں کی کفالت، پروگرام میں  نوجوانوں کی  بھرپورشمولیت، غذائیت کو حوالے سے عوامی  اگاہی، ماحولیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے تمام اہم نکات کو زیر نظر رکھا جائے۔ 14 نومبر 2024کو باکو ، آذر بائیجان میں منعقدہ COP 29میں ای ٹی آئی کو حکومت گلگت بلتستان کا موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ ایک بہترین   ترقیاتی پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا۔   پروگرام کی اب تک کی کامیابیوں کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہیں۔  

پروگرام کے پہلے  حصے "زرعی ویلیو چین کی ترقی کے بنیادی ڈھانچھے کی تعمیر  ” کا مختصر جائزہ یو ں ہے۔  

 

2015میں پروگرام کے آغاز سے لیکر اب تک 88ایریگیشن سکیم مکمل کئے جا چکے ہیں جن کا کل رقبہ 42,238ایکڑ بنتا ہیں جبکہ 19 ایریگیشن سکیمو ں پہ کام جاری ہیں جن کا کل رقبہ 13,665یکڑ بنتا ہیں۔ یوں مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں 107سکیموں پہ کام ہوا ہے جن کا کل  مجوعی رقبہ 55,903 ایکڑ بنتا ہیں جو کہ پروگرام کے ہدف 70,000 ایکڑ کا 79% بنتا ہے۔ اسی طرح  700کلومیٹر فارم ٹو مارکیٹ روڈ کے ہدف کے تعاقب میں اب تک 92 منصوبے مکمل ہوئے ہیں جن کی مجموعی لمبائی 434کلومیٹر بنتی ہے جبکہ 27منصوبوں پر کام کاری ہے جن کی کل لمبائی 148کلومیٹر بنتی ہیں یوں پروگرام اب تک اس مد میں 83% کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے تمام دس اضلاع میں119 فارم ٹو مارکیٹ  روڈ پروجیکٹس  پہ کام ہوا ہےجن کی مجوعی لمبائی 582کلومیٹر بنتی ہے۔ اسی طرح پروگرام کی مدد سے سات آر سی سی پل اور چھ لکڑی کے معلق پل جن کی کل لمبائی 388میٹر بنتی ہے بھی مکمل کیا جا  چکا ہے۔ جبکہ بہت سارے  چینل، روڈ اور پلوں کے منصوبے زیر غور ہیں جن پر جلد کام کا باقاعدہ  آغاز کر دیا جائے گا۔   پروگرام کے اس حصے میں ای ٹی آئی، واٹر منیجمنٹ اینڈ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور گاؤں کی  متعلقہ سکیم منیجمنٹ ٹیم  (ایس ایم ٹی )مل کر منصوبوں پر عملددآمد کرواتی ہے۔

پروگرام کے دوسرے حصے "زرعی ویلیو چین کی ترقی کے لیے معاون خدمات  ” کے تحت آلو کے بیج کو بہتر انداز میں محفوظ کرنے کے لئے 99سٹورز تعمیر کئے گئے 34مشینری (Ridgers & Planters)ذمینداروں کو فراہم کئے گئے جبکہ محکمہ زراعت  کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے 50 میٹرک ٹن آلو  کے بیج کو ذخیرہ کرنے کے لئے 7 سٹورز کی تعمیر کی گئی  جس سے مجموعی طورپر 2,009  ذمینداروں کو فائدہ ہوا۔ اسی طرح گلگت بلتستان میں اعلیٰ نسل کے پودے پیدا کرنے کے لئے 72فروٹ پلانٹ نرسریز(Fruit Plant Nurseries) اور 513خوبانی کے باغات(Apricot Orchards) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جبکہ آٹھ 4P پارٹنرز  کو پروسیسنگ سنٹرز کے قیام میں مالی و تیکنکی معاونت فراہم کی گئی۔  دنیور گلگت میں ڈیری فارمنگ کے پائلٹ پروجیکٹ کے ذریعے 360خواتین ذمینداروں کو مدد فراہم کی گئی۔ ذمینداورں کو باقاعدہ قانونی عمل کے تحت 162 ویلیج ایگریکلچر کوآپریٹو سوساٹیز کے قیام کے ذریعے 40,613ذمینداروں کو مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت بھی ہوئی 4,336 ذمینداروں کو گرانٹس فراہم کی گئی 3,557 ذمینداروں کو ای ٹی آئی اور محکمہ زارعت کی معاونت سے تربیت فراہم کی گئی جس میں باغبانی، ورٹیکل فارمینگ، اوپن فیلڈ میں سبزیاں اگانا،  آئی پی ایم،  فارمر فیلڈ ڈیز اور غذائیت سے بھر پور خوارک کی تیاری وغیرہ شامل ہیں۔  مجموعی طور پر 50,027ذمینداروں کے پروگرام کے اس حصے سے استفادہ کیا جن میں 30%خواتین ذمیندار شامل ہیں۔   

محکمہ زارعت گلگت بلتستان  کی مدد اور تعاون سے ای ٹی آئی  پروگرام نے؛

  1. 11,000 سے زائد کسانوں کو فصل کٹائی سے پہلے اور بعد کے احتیاطی تدابیر، باغبانی اور شجر پروری، فارمر فیلڈ ڈیز، غذائیت اور دیگر تکنیکی نوعیت کی تربیت دی گئی
  2. 47 نجی نرسریاں قائم کی گئیں اور 11 سرکاری نرسریاں  کو مضبوط و مستحکم کیں۔
  3. IPM لیبارٹریوں کا قیام اور مضبوطی اور ذمینداروں کی تربیت۔
  4. 7 آلو کے بیج کے اسٹورز تعمیر کیے گئے جن کی گنجائش 50 میٹرک ٹن فی سٹورہیں یعنی مجموعی طور پر  350میٹرک ٹن آلو کے بیج ذخیرہ کرنے کی صلاحیت فراہم کی گئی۔
  5. ایک ٹشو کلچر لیب قائم کی گئی
  6. 400 میٹرک ٹن سے زائد بیج آلو تیار کیاگیا اور ذمینداروں کو بہتر نسل کے آلو کے بیج فراہم کئے گئے۔ ۔

 محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور کواپریٹو ڈیپارٹمنٹ بھی ای ٹی آئی پروگرام کا ایک اہم شراکت دار ہیں۔ کواپریٹو ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے پروگرام نے،

  1. VACs کی باقاعدہ رجسٹریشن کے عمل سے انہیں قانونی دائرہ کار  میں شامل کیا یوں ذمیندار اب باقاعدہ  مستند ادارے کے ممبر ہیں۔
  2. ریگولیٹری اور نگرانی، بشمول آڈٹ اور سالانہ اجلاس عام کا انعقاد
  3. تربیت اور صلاحیت سازی
  4. محکمانہ استعداد کار ۔ انسانی اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی  

 

  • گلگت بلتستان کے ذمینداروں کو زرعی قرضہ جات تک آسان رسائی کے لئے  ایکسیس ٹو فنانس سکیم کا اجراء بھی اس ترقیاتی   پروگرام کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک ہیں۔

اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشی ایٹو گلگت-بلتستان (ETI-GB) نے علاقے کی دیہی عوام( Rural Communities) کو مالی طور پر بااختیار بنانے کے عزم میں ایک اہم سنگ میل حاصل کیا  ۔ صرف نوماہ  کی قلیل مدت میں میں ذمینداروں کو ایک ارب انتیس کروڑ بائیس لاکھ ستاسی ہزار( 1,292,287,000/= روپے بطور سبسڈی قرضے دیے۔ اپنی ایکسیس ٹو فنانس اسکیم کے ذریعے، اس پروگرام نے 4,232ذمینداروں کو زرعی شعبے میں ان کی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے انتہائی آسان شرائظ اور بغیر کسی ضمانت کے  قرضہ فراہم کیا۔  قرض فراہم کنندہ گان میں 27%خواتین جبکہ 17% نوجوان ہیں جو اس سکیم سے  براہ راست مستفید ہو رہے ہیں ۔ یہ تمام  ذمیندار ETI-GB کے قائم کردہ زرعی کوآپریٹیوز (VACs) کے رکن ہیں جو گلگت، دیامر، استور، اور بلتستان  ریجن کے تما م اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں۔  ایکسیس ٹو فنانس اسکیم کو حکومت گلگت بلتستان نے اپنے تاریخی ETI-GB پروگرام کے تحت ترتیب دے کر آغاز کیا، جسے انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) اور اطالوی ادارہ برائے ترقیاتی تعاون  (AICS) مشترکہ طور پر مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ کامیابی ETI-GB، گلگت-بلتستان رورل سپورٹ پروگرام (GBRSP)، جو فنڈ مینیجر کے طور پر کام کرتا ہے، اور HBL مائیکروفنانس بینک (HBL MFB)، جو پارٹنرڈ مالیاتی ادارہ ہے، کے درمیان مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ مارکیٹ پر مبنی طریقہ کار گرانٹ پر مبنی امداد پر طویل عرصے سے انحصار کو ختم کرنے اور پائیدار سرمایہ کاری اور مالیاتی ماڈل کی راہ ہموار کرنے، زرعی ویلیو چین کو مضبوط کرنے اور گلگت بلتستان بھر کے زرعی کاروباری افراد کو بااختیار بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔قرض کی تقسیم، جو 4 اپریل 2025 کو شروع ہوئی، نے خطے میں مالی شمولیت کے لیے اب تک  اہم نتائج حاصل کیے ہیں۔ اس اسکیم نے پہلی بار 1,938 ذمینداروں کو—جو کل قرض لینے والوں کا 54% بنتے ہیں—رسمی مالیاتی نظام میں شامل کیا، نئے بینک اکاؤنٹس کھولنے اور کسی بھی بینک سے مالی خدمات حاصل کرنے میں مدد دی۔ یہ اقدام مساوی رسائی کے لیے مضبوط عزم ظاہر کرتا ہے، قرضے، جو 25,000 روپیہ سے 500,000 روپے تک ہیں، اہم زرعی ضروریات کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں ان پٹ، چھوٹے پروسیسنگ یونٹس، مویشیوں کی خریداری، اور ورکنگ کیپیٹل شامل ہیں۔ ذمینداروں کو آسان قرض کی پروسیسنگ سے فائدہ ہوتا ہے جس میں کوئی ضمانت کی ضرورت نہیں اور ETI-GB کی طرف سے  50% تک سود کی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے۔یہ کامیابی 10 فروری 2025 کو ETI-GB، HBL MICROFINANCE BANK، اور GBRSP کے درمیان دستخط شدہ معاہدے کے بعد سامنے آئی۔  ایکسیس ٹو فنانس سکیم کا طویل مدتی ہدف یہ ہے کہ 50,000 سے زائد VAC رجسٹرڈ ذمینداروں کو رسمی مالیاتی نظاموں میں شامل کیا جائے، تاکہ دیہی گلگت بلتستان میں رسمی قرض تک رسائی میں موجود اہم خلا ( Gap)کو براہ راست پورا کیا جا سکے۔  

  • ای ٹی آئی پروگرام کا ایک خاصہ”زرعی تعلیم، ٹیکنالوجی، اور جدت کو سرکاری اسکولوں میں مرکزی دھارے میں لانا” ہے، جس کے لئے گلگت بلتستان کے 82 گورنمنٹ سکولوں میں 50  ایگری ٹیک فیلو کی تعیناتی   کی گئی ہیں،  یہ ایگری ٹیک فیلوز سکولوں میں میں  طالب علموں  کو پڑھانے کے علاوہ اپنے آس پاس کے ویلیج ایگریکلچر کوآپریٹوز میں ذمیندوارں کو جدید زراعت ، غذائی قلت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے اگاہی اور تربیت بھی  فراہم کرتے ہیں۔ سکولوں کی سطح پر ایگری کلچر ٹیک فیلوز کے ذریعے طالب علموں میں زرعی شعبے اور جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے آگاہی مہم کا انعقاد نئی نسل میں زرعی شعبے کی افادیت کو فروغ دینے میں ممدومعاون ثابت ہوگا۔ یہ پروگرام ای ٹی آئی ، سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور جی بی آر ایس پی  کے مابین بہتر شراکت کاری کا مظہر ہیں۔

ای ٹی آئی پروگرام کے تیسرے  اہم حصے پروگرام منیجمنٹ اینڈ پالیسی سپورٹ  کے ذریعے؛

  • ETI-GB کے تحت نئی آباد کردہ زمینوں کے لیے زمین کی ٹائٹلنگ اور ڈیجیٹلائزیشن  کا عمل جاری ہے  جس کے لئے گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو اور پنجاب لینڈ ریکارڈ زاتھارٹی اور  ای ٹی آئی پروگرام کے شراکت دار ہیں اس امر کے لئے  ابتدائی طور پر 76 سکیموں کا انتخاب کیا گیا ہیں ۔ جبکہ  ای ٹی آئی ڈیولپڈ لینڈز کی لینڈ ٹائٹلنگ پالیسی  کی منظوری  گلگت بلتستان کابینہ پہلے ہی دے چکی ہے ۔
  • گلگت بلتستان واٹر پالیسی کے حتمی مسودے پر کام جاری ہے جسے جلد گلگت بلتستان کابینہ میں منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔
  • گلگت بلتستان روڈ ماسٹر پلان اور O&M پالیسی کے لیے دوسرا مسودہ زیر تکمیل ہے۔

2022 میں ای ٹی آئی جی بی ایفاد (IFAD) کے تعاون سے ایک Impact Study کیا گیاتھا جس کے جواب دہندگان کی رپورٹ کا لب لباب کچھ یوں ہیں۔

 

  1. زمین کی ملکیت میں اضافہ 1.5 ایکڑ
  2. بچوں کی سکول کی صورتحال میں بہتری 85%
  3. زرعی پیداوار میں 63%اضافہ
  4. زرعی آمدنی میں 58%اضافہ
  5. آمدنی میں 73%اضافہ
  6. مارکیٹ تک رسائی 81%
  7. اطمینان بخش 73%

جبکہ پروگرام کے دس سالہ (2015-2025)   اثرات کے جائزہ رپورٹ پر  ابھی کام جاری ہے جو  بہت جلد ہی ہمارے قارئین کے لئے دستیاب ہو گا۔

گلگت بلتستان میں اکنامک ٹرانسفارمیشن انیشیٹو  پروگرام پر عملدرآمد کی راہ میں  بیش بہا رکاوٹوں  کا سامنا کرنا بھی ایک فطری عمل ہے جوبنیادی طور پر وسیع اسٹیک ہولڈر مینجمنٹ اور عوامی  قیادت والے ماڈل کی پیچیدگیوں  کی وجہ سے درپیش ہیں ۔ علاقائی سماجی حرکیات (Social Dynamics )کو  درست اور بروقت بھانپنا , مقامی  عملدرٓمد کے انتظامات کے اندر صلاحیت کے فرق کو پورا کرنا  پروگرام پر بہتر عملدرآمد کے لئے اشد ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کا  پھیلا ہوا جغرافیائی محل و قوع  بشمول موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بنیادی ڈھانچے کو اکثر پہنچنے والے نقصان، اور مختصر کام کا دورانیہ  جو پروجیکٹ کی ٹائم لائنز کو محدود کرتا ہے پروگرام پر عملدرآمد کی راہ میں اہم رکاوٹیں ہیں۔   ان تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود پروگرام  نے گذشتہ دس سالوں میں گلگت بلتستان میں جو کارہائے نمایاں سرانجام دی ہے وہ یقیناً گلگت بلتستان کی مستحکم اور پایئدار ترقی   کے لئے ایک اُمید  کی کرن  ہے۔

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button