استاد اور آفیسر، گدھا اور شیر

ہمارا قومی مزاج ایک عجیب تضاد کا شکار ہے، ہم روز اسی تضاد کو دیکھتے ہیں۔ ہم اصولوں کی بات کرتے ہیں مگر جھکتے صرف "طاقت” کے آگے ہیں۔ یہ بدیہی سچ ہے کہ ہمارا نظام دلیل نہیں، دباؤ سمجھتا ہے، کردار نہیں، اختیار کو سلام کرتا ہے، اور انسان نہیں، منصب کی پوجا کرتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کو ایک سادہ مثال سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

استاد، یہ محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ انسان اور تہذیب سازی کا مقدس فریضہ ہے۔ وہ چراغ ہے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔

کیا یہ سچ نہیں کہ "ہم میں سے ہر شخص، خواہ وہ کسی بھی مقام پر پہنچا ہو، کسی نہ کسی استاد کی محنت، شفقت اور رہنمائی کا مقروض ہے۔؟”

استاد نے اس سماج کو شعور دیا، اخلاق دیا، اور انسان کو انسان بنایا۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ اسی استاد کو ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ نظر انداز، حتیٰ کہ بعض اوقات رسوا کیا جاتا ہے۔ اس کی عزت گفتار میں تو بہت کی جاتی ہے، مگر کردار میں اسے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے بلکہ ذلیل و رسوا کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس ایک آفیسر، جس کے ہاتھ میں اختیار کی چھڑی ہو، وہ ہمارے سماج کا محور بن جاتا ہے۔ اس کے گرد چاپلوسی کے ہجوم، اس کے در پر مفادات کی قطاریں، اور اس کی خوشنودی کے لیے ہر حد تک جانے والے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ چاہے اس کے کردار پر درجنوں سوالیہ نشان کیوں نہ ہوں، اس کی کرپشن کے قصے زبان زدِ عام کیوں نہ ہوں، مگر چونکہ اس کے قلم میں طاقت ہے، اس لیے وہی معزز، وہی معتبر اور وہی "کامیاب” ٹھہرتا ہے۔ غریب کا بیٹا اگر آفیسر بن جائے تو چند برسوں میں اس کے اطراف طاقت، دولت اور رعب کا ایسا حصار قائم ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو قانون سے بالا سمجھنے لگتا ہے۔ بلکہ خود کو خلائی مخلوق سمجھتا ہے اور دیگر کو کیڑے مکوڑے!

اب ذرا اس اس بگڑے سماج کے معاشرتی پیمانے کو دیکھیے، ایک طرف استاد ہے، جو انسان سازی کا معمار ہے، قومیں بناتا ہے اور رجال پیدا کرتا ہے ، اور دوسری طرف آفیسر ہے، جو اکثر اختیار کے نشے میں انسانیت کو روند دیتا ہے۔ مگر ہمارے سماج کی ترجیحات کا عالم یہ ہے کہ سب کے سب آفیسر کے گرد طواف میں مصروف ہیں، جبکہ استاد کو نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ بعض اوقات "استاد” خود بھی اپنے مقام کو بھول کر ایک دوسرے کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، اور ایک دوسرے کی تذلیل و تضحیک پر اتر آتے ہیں، یہ زوال کی آخری حد ہے۔

اگر اب بھی بات واضح نہیں ہورہی ہے تو مزید وضاحت کے لیے فطرت کی ایک مثال لیجیے۔ گدھا، جو خاموشی سے بوجھ اٹھاتا ہے، انسان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے، اور بدلے میں صرف روکھا سوکھا کھا کر گزارہ کرتا ہے، وہ ہماری نظروں میں حقیر ہے، رذیل ہے اور کم عقل و کم تر بھی ۔ اور شیر، جو درندگی، طاقت ، چیر پھاڑ اور خوف و وحشت کی علامت ہے، وہی ہماری مثالوں کا ہیرو ہے۔

کیا ہمارے سماج میں کامیاب شخص کو "شیر” نہیں کہا جاتا ہے، اور کمزور کو "گدھا”۔ ؟ گویا خدمت، صبر، عاجزی، سماج سازی اور اخلاص کی کوئی قدر نہیں، اصل قدر صرف طاقت، خونخواری اور رعب و دبدبہ کی ہے۔

یہ تمام منظرنامہ ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ابھی تک شعور، اخلاق اور انصاف کی زبان نہیں سیکھ سکے، ہم صرف طاقت، ڈنڈے اور جبر کی زبان سمجھتے اور مانتے ہیں بلکہ اسی کی پوجا کرتے ہیں۔ جب تک یہ ذہنیت تبدیل نہیں ہوتی، استاد کی عظمت محض کتابوں میں رہے گی اور آفیسر کی طاقت حقیقت میں راج کرتی رہے گی۔

سوال یہ ہے کہ ہم نے کب انسان کو اس کے کردار سے پہچاننا ہے، نہ کہ اس کے عہدے سے؟

آپ بھی سوچیے گا، کہیں میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟ اگر سچ کہہ رہا ہوں تو پھر مزید سوچیے گا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button