اقبال مسیح ، غلامی کے خلاف ایک ننھی مگر توانا آواز

کالم :قطرہ قطرہ

اقبال مسیح کی کہانی محض ایک بچے کی داستان نہیں بلکہ ظلم کے ایک پورے نظام کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ وہ یکم جنوری انیس سو تراسی کو پنجاب کے شہر مریدکے میں ایک غریب مسیحی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے والد سیف مسیح ایک مزدور تھے جبکہ والدہ عنایت بی بی گھروں میں کام کرتی تھیں۔ غربت، بے بسی اور معاشی تنگی اس خاندان کا مقدر تھی۔
انیس سو چھیاسی میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جب اقبال کے والد نے اپنے بیٹے کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے چھ سو روپے قرض لیا اور بطور ضمانت اپنے چار سالہ بیٹے اقبال کو قالین کی فیکٹری کے مالک کے حوالے کر دیا۔ یہ وہ نظام تھا جسے "پیشگی” یا بانڈڈ لیبر کہا جاتا ہے۔ اس قرض پر بھاری سود، جعلی اخراجات اور جرمانے شامل ہوتے گئے اور یوں ایک معمولی رقم بڑھ کر تیرہ ہزار روپے تک جا پہنچی۔
قالین فیکٹری میں اقبال کو روزانہ بارہ سے چودہ گھنٹے تک کام پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اسے کھانے کو کم دیا جاتا، معمولی غلطی پر مارا پیٹا جاتا اور بعض اوقات اسے کھڈی (لوم) کے ساتھ زنجیروں سے باندھ دیا جاتا۔ مسلسل مشقت اور بدسلوکی کے باعث اس کی جسمانی نشوونما رک گئی، یہاں تک کہ بارہ سال کی عمر میں بھی وہ چھ سال کے بچے جیسا دکھائی دیتا تھا۔
انیس سو بانوے میں، جب اقبال تقریباً دس برس کا تھا، اسے معلوم ہوا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بندھوا مزدوری کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس شعور نے اس کے اندر آزادی کی تڑپ کو مزید بھڑکا دیا۔ وہ پہلی بار فرار ہوا مگر پولیس نے اسے دوبارہ فیکٹری پہنچا دیا۔ لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور دوسری بار فرار ہو کر "بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ (بی ایل ایل ایف)” میں پناہ حاصل کر لی، جس کی قیادت احسان اللہ خان کر رہے تھے۔
بی ایل ایل ایف کے اسکول میں داخل ہو کر اقبال نے حیران کن صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور چار سالہ تعلیم صرف دو سال میں مکمل کر لی۔ اب وہ ایک نیا اقبال تھا، باشعور، پُرعزم اور مزاحمت کی علامت۔
انیس سو ترانوے تا انیس سو پچانوے کے دوران، اقبال مسیح ایک متحرک کارکن کے طور پر سامنے آیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جبری مشقت کے خلاف آواز بلند کی۔ اس نے تین ہزار سے زائد بچوں کو غلامی سے نجات دلانے میں کردار ادا کیا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ بڑا ہو کر وکیل بننا چاہتا ہے تاکہ غلام بچوں کو قانونی طور پر آزادی دلوا سکے۔
انیس سو چورانوے میں اقبال امریکہ کے شہر بوسٹن گیا جہاں اسے ریبوک ہیومن رائٹس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اپنی تقریر میں اس نے کہا:
"میں ان لاکھوں بچوں میں سے ایک ہوں جو پاکستان میں جبری مشقت کا شکار ہیں، مگر میں خوش قسمت ہوں کہ آج آزاد ہوں۔”
اسی دوران اس نے سویڈن اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کا دورہ کیا اور عالمی سطح پر بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔
لیکن یہ جدوجہد زیادہ دیر جاری نہ رہ سکی۔ سولہ اپریل انیس سو پچانوے کو، ایسٹر سنڈے کے دن، اقبال مسیح اپنے گاؤں مریدکے میں سائیکل چلا رہا تھا کہ اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال تھی۔ اس کے جنازے میں تقریباً آٹھ سو افراد شریک ہوئے جبکہ لاہور میں تین ہزار افراد نے بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے احتجاج کیا۔
اقبال کی موت کے بعد اس کی جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ دو ہزار میں اسے بعد از مرگ ورلڈز چلڈرنز پرائز فار دی رائٹس آف دی چائلڈ دیا گیا۔ تئیس مارچ دو ہزار بائیس کو حکومت پاکستان نے اسے بعد از مرگ تمغۂ شجاعت (ستارۂ شجاعت) سے نوازا۔
اقبال مسیح کی قربانی نے دنیا بھر میں تحریکیں جنم دیں۔ اس کی یاد میں کئی تنظیمیں قائم ہوئیں، جن میں اقبال مسیح شہید چلڈرن فاؤنڈیشن قابلِ ذکر ہے، جس نے پاکستان میں بیس سے زائد اسکول قائم کیے۔ اسی طرح کینیڈا کی تنظیم وی چیریٹی اور عالمی ادارہ گُڈ ویو انٹرنیشنل (سابقہ رگ مارک) بھی اسی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اقبال کے نام سے اسکول کے قیام کی کہانی بھی نہایت متاثر کن ہے۔ انیس سو چورانوے میں امریکہ کی ریاست میساچوسٹس کے شہر کوئنسی کے براڈ میڈوز مڈل اسکول میں اقبال نے طلبہ سے خطاب کیا تھا۔ جب انیس سو پچانوے میں اس کی شہادت کی خبر وہاں پہنچی تو طلبہ شدید غمزدہ ہوئے۔ انہوں نے "پینی پاور” کے نام سے ایک مہم شروع کی، جس میں چھوٹے چھوٹے عطیات جمع کیے گئے۔ اسی رقم سے پاکستان کے شہر قصور میں اقبال مسیح کے نام سے ایک اسکول قائم کیا گیا، تاکہ غریب بچوں کو تعلیم دی جا سکے اور وہ غلامی کے اندھیروں سے نکل سکیں۔
اقبال مسیح کی زندگی مختصر سہی، مگر اس کا پیغام ابدی ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ حق کے لیے اٹھنے والی آواز کبھی دبائی نہیں جا سکتی۔ آج بھی جب دنیا میں کہیں کوئی بچہ ظلم کا شکار ہوتا ہے، تو اقبال مسیح کی یاد ایک روشنی بن کر ابھرتی ہے۔
ہر سال سولہ اپریل کو بچوں کی غلامی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے، جو پاکستان کے کم عمر مسیحی کارکن اقبال مسیح کی یاد سے منسوب ہے۔
اقبال مسیح کی کہانی لوگوں کو رلانے کے لئے نہیں بلکہ بچوں کی جبری مشقت اور غلامی کے خاتمے کے لئے تجدید عہد کے لئے بیان کی جاتی ہے۔

آپ کی رائے

comments

متعلقہ

متعلقہ

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button