اسماعیلی کمیونٹی کا سفر، فاطمی خلافت سے خدمت انسانیت تک
کالم: قطرہ قطرہ
شعیہ امامی اسماعیلی کہلانے والا مسلمانوں کا یہ فرقہ حضرت امام علی کے جانشین حضرت جعفر صادق کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت ا سماعیل کو امام تسلیم کرنی کی نسبت سے شعیہ مسلمانوں کا اسماعیلی فرقہ کہلاتا ہے۔
تاریخ میں اسماعیلیوں نے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ اہلِ بیتؑ سے نسبت رکھنے والی یہ جماعت کبھی عظیم سلطنتوں کی وارث رہی تو کبھی جلاوطنی، قتل و غارت، فکری اختلافات اور سیاسی دباؤ کا شکار بنی، مگر ہر دور میں اس نے اپنے وجود، تنظیم اور فکری شناخت کو برقرار رکھا۔ اسماعیلی تاریخ صرف مذہبی امامت کی تاریخ نہیں بلکہ علم، تہذیب، صبر، بقا اور خدمتِ انسانیت کی ایک طویل داستان ہے۔
فاطمی دور اس تاریخ کا سب سے روشن باب سمجھا جاتا ہے۔ اس زمانے میں مصر میں فاطمی خلافت قائم ہوئی جس نے شمالی افریقہ سے لے کر مشرقی عرب دنیا تک ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی۔ قاہرہ شہر کی تعمیر ہوئی اور جامعہ الازہر جیسے علمی ادارے قائم کیے گئے جہاں فلسفہ، طب، فلکیات، ادب اور دینی علوم کو فروغ ملا۔ اس دور میں تجارت، فن تعمیر اور علمی مباحث نے غیر معمولی ترقی کی اور اسماعیلی فکر ایک علمی اور تہذیبی قوت کے طور پر ابھری۔
بعد ازاں ایران کے پہاڑی علاقوں میں قلعہ الموت اسماعیلیوں کا مرکز بنا جہاں حسن بن صباح اور ان کے جانشینوں نے ایک منظم نظام قائم کیا۔ یہ دور سیاسی مزاحمت، فکری آزادی اور علمی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، مگر منگول حملوں نے اس مرکز کو تباہ کردیا۔ ہلاکو خان کے لشکروں نے قلعہ الموت پر حملہ کیا، کتب خانے جلائے گئے، ہزاروں لوگ قتل ہوئے اور اسماعیلی تاریخ کا ایک بڑا علمی سرمایہ ضائع ہوگیا۔ اس تباہی کے بعد اسماعیلی طویل عرصے تک خفیہ زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ایران میں اسماعیلی ائمہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ امام شاہ خلیل اللہ کو 1817 میں یزد میں شہید کردیا گیا۔ یہ واقعہ اسماعیلی تاریخ کے دردناک سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایرانی قاجار حکمرانوں نے امام کے خاندان کو اعزازات دیے اور امام حسن علی شاہ کو “آغا خان” کا لقب عطا کیا۔ “آغا” کا مطلب سردار یا آقا جبکہ “خان” ایک اعزازی خطاب تھا۔ یہی لقب بعد میں نزاری اسماعیلی ائمہ کی مستقل شناخت بن گیا۔
آغا خان اول بعد میں برصغیر منتقل ہوئے جہاں برطانوی حکومت نے ان کے اثر و رسوخ اور سیاسی اہمیت کے باعث انہیں شاہانہ احترام دیا۔ ان کے بعد سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم اسماعیلی تاریخ کی سب سے بااثر شخصیات میں شامل ہوئے۔ انہیں برطانوی حکومت کی طرف سے “سر” کا خطاب ملا اور وہ برصغیر کی مسلم سیاست میں ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے جدید تعلیم، سماجی اصلاحات اور خواتین کی تعلیم پر زور دیا۔ علی گڑھ تحریک کی سرپرستی، مسلم لیگ کی قیادت اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد نے انہیں عالمی سطح پر معروف بنایا۔ وہ لیگ آف نیشنز کے صدر بھی رہے، جس سے ان کی بین الاقوامی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔
آغا خان سوم کے دور میں اسماعیلی برادری نے تعلیم، تجارت، تنظیم اور سماجی ترقی میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ افریقہ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا میں اسماعیلی کمیونٹی نے کاروبار، تعلیم اور سماجی خدمات کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی۔ یہی وہ دور تھا جب ایک منظم عالمی اسماعیلی شناخت ابھرنے لگی۔
1957 میں شاہ کریم الحسینی آغا خان چہارم امام بنے۔ انہوں نے اپنے دادا کے برعکس سیاسی راستے سے دور رہتے ہوئے انسان دوستی، تعلیم، صحت اور ترقی کے شعبوں پر توجہ دی۔ ان کی قیادت میں آغا خان ترقیاتی نیٹ ورک دنیا کے بڑے فلاحی اداروں میں شمار ہونے لگا۔ ایشیا، افریقہ اور یورپ کے کئی ممالک میں ہسپتال، جامعات، دیہی ترقی کے منصوبے، ثقافتی ورثے کی بحالی اور غربت کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کیا گیا۔ پاکستان، تاجکستان، افغانستان، کینیا اور دیگر ممالک میں ان اداروں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا۔
شاہ کریم آغا خان نے ہمیشہ مذہبی رواداری، تکثیریت ، امن اور انسانی وقار کی بات کی۔ انہوں نے اسماعیلی برادری کو سیاسی کشمکش سے دور رکھتے ہوئے تعلیم یافتہ، منظم اور معاشی طور پر مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اسی وجہ سے دنیا بھر میں انہیں ایک بڑے انسان دوست رہنما کے طور پر احترام حاصل ہوا۔ مختلف ممالک کی حکومتیں انہیں سربراہِ مملکت جیسا پروٹوکول دیتی رہیں کیونکہ وہ صرف مذہبی پیشوا نہیں بلکہ ایک عالمی فلاحی نظام کے سربراہ بھی تھے۔ ان کے ادارے حکومتوں کے ساتھ مل کر صحت، تعلیم اور ترقی کے منصوبوں پر کام کرتے رہے، جس سے ان کی عالمی ساکھ مضبوط ہوئی۔
آج اسماعیلی برادری دنیا کے کئی ممالک میں آباد ہے جن میں پاکستان، بھارت، تاجکستان، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ، کینیا اور مشرقی افریقہ کے دیگر ممالک شامل ہیں۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹی مسلم برادری ہے، مگر تعلیم، تجارت، سماجی خدمات اور تنظیم کے اعتبار سے اسے دنیا کی منظم اور ترقی یافتہ مسلم جماعتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
2025 میں شاہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم نے امامت سنبھالی۔ وہ ایک ایسے دور میں قیادت کررہے ہیں جب دنیا معاشی بے یقینی، موسمیاتی تبدیلی، جنگوں اور سماجی بحرانوں کا سامنا کررہی ہے۔ شاہ رحیم کی توجہ نوجوانوں کی تعلیم، ماحولیات، معاشی ترقی اور عالمی فلاحی منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے پر مرکوز ہے۔ انہیں بھی دنیا کے مختلف ممالک میں غیر معمولی احترام دیا جارہا ہے کیونکہ وہ ایک ایسی عالمی برادری کے روحانی پیشوا ہیں جو تعلیم، امن، نظم و ضبط اور سماجی خدمت کے حوالے سے ممتاز سمجھی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسماعیلی کمیونٹی جس جس ملک میں رہتی ہے وہاں انہوں نے اپنی محنت اور اپنے امام کے فرامین اور ویژن کی روشنی میں فلاحی اور ترقیاتی کاموں میں عزت کا مقام حاصل کیا ہے اور وہ ان ممالک کی حکومتوں کو بھی بھر مدد اور تعاون فراہم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کو غیر معمولی عزت اور احترام ملتا ہے۔
اسماعیلی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہ برادری شدید آزمائشوں، قتل و غارت، جلاوطنی اور سیاسی بحرانوں کے باوجود نہ صرف زندہ رہی بلکہ ہر دور میں خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالتی رہی۔ فاطمی خلافت کے علمی عروج سے لے کر الموت کی تباہی، امام خلیل اللہ کی شہادت، آغا خان سوم کی سیاسی بصیرت، آغا خان چہارم کی انسان دوستی اور شاہ رحیم کی جدید قیادت تک یہ سفر مسلسل جدوجہد، تنظیم اور خدمتِ انسانیت کی ایک منفرد مثال ہے۔





