مگر تم کیا ہو ؟

تم سکول میں پڑھے ہو ۔یونیورسٹی پڑھے ہو ۔محفلوں میں وقت گذار چکے ہو۔بڑے بڑے پروگراموں میں شریک رہ چکے ہو ۔۔تعلیم یافتہ لوگوں کی محفلوں میں رہ چکے ہو ۔۔زندگی میں کامیابیاں حاصل کر چکے ہو ۔۔پیسے ہیں۔ گاڑیاں مزید پڑھیں

جیون کا دوراہا

 محمد جاوید حیات معمولی سپاہی تھا۔افیسر کے بنگلے میں خدمت پہ مامورتھا۔معمولی مزدور کا بیٹا تھا ۔اس کو یاد تھا ۔کہ اس کے ابو شام کو تھک ہار کے آتے۔ماں دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو پونچتی۔اور حال احوال پوچھتی۔۔ابو مزید پڑھیں

ہارٹ اٹیک

محمد جاوید حیات روز دسیوں بار خبر آتی ہے کہ فلان حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوئے۔فلان کا ہارٹ اٹیک ہوا۔۔مگر میں ہوں کہ دن میں بیسیوں بار میرا ہارٹ اٹیک ہوتا ہے۔حرکت قلب بند ہوتی ہے پھر حرکت مزید پڑھیں

’’ایک سجدہ‘‘

تحریر: محمد جاوید حیات 14اگست 1947 ؁ء کا سورج نکلتا ہے تو امن کی کرنیں ایک نئی مملکت کی مٹی کو چھوم رہی ہوتی ہیں۔زمین کا ٹکڑاخون کی چھینٹیوں ،آہ وزاروں،خوابوں ،اُمیدوں،حوصلوں اور قربانیوں کی رِدا اوڑھی ہوئی ہے۔ہوائیں اس مزید پڑھیں