’’ اٹھو کہ بند کریں نفرتوں کے در سارے‘‘

’’ اٹھو کہ بند کریں نفرتوں کے در سارے‘‘

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

20,19اپریل کو قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں AKRSPاور PEN(Publishing Extention Network) کے اشتراک اور یونیورسٹی کے تعاون سے’’ دو روزہ‘‘ ایک پروگرام منعقد ہوا۔منتظمین کی طرف سے’’ اٹھو کہ بند کریں نفرتوں کے در سارے‘‘ کے عنوان پر گلگت بلتستان کے تمام شعراء اور خطباء کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اپنا کلام اور تقاریر (Speachs)پیش کریں۔تقریری مقابلے میں شرط یہ رکھی گئی تھی کہ گلگت بلتستان کے ہرضلع سے ایک مقرر شرکت کرے گا مگر عملاً ضلع گلگت اور غذر سے زیادہ مقررین کو موقع دیا گیا۔ ضلع دیامر سے مجھے نمائندگی کا موقع ملا۔ میں نے تقریر کی، الحمدللہ !مقابلے میں شرف حاصل ہوا۔ڈاکٹر پروفیسر سہیل اما م صاحب سے اعزازی شیلڈا ور کیش پرائزوصول کیا۔ میری تقریر کا لب ولباب کچھ یوں تھا۔

حمد و ثنا ء کے بعد: ومن یقتل مومنا متعمداََ فجزاؤہ جہنم خالدا ، فیہا، وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما۔ ، قال النبی صل اللہ علیہ وسلم: لاتحسسوا ولاتجسسوا ولاتناجشو ولاتحاسدو ا ولا تباغضوا ولاتدابروا ولاتنابزو ، وکونوا عباداللہ اخوانا۔

سامعین حضرات ! بابا چلاسی ؔ کی زبان میں آپ سے مخاطب ہوں۔انہوں نے ’’وعتصموا بحبل اللہ جمیعاولاتفرقوا‘‘ کو خوبصورت شعری قالب میں ڈھالا ہے۔سنیں

کہا رب نے کرو مت تم جدائی

اگر کی تم نے آپس میں جدائی

تمہاری پھر تو طاقت ختم ہوگی

تو کیا بے طاقتی میں ہے بھلائی

تو پھر باطل کو تم دے دو سلامی

کرو کفارکی دل سے غلامی

سلف کے نقش عزت کو مٹاؤ

کرو برباد ان کی نیک نامی

آج انتہائی اہم موضوع پر گفتگو کرنی ہے ، آپ دعا کیجیے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس موضوع پر چند گزارشات پیش کرسکوں۔چونکہ ہم امن کے حوالے سے بات کررہے ہیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے فرمان کو سامنے رکھیں گے، ماقبل میں قرآن و حدیث کو تلاوت کیاگیا۔اللہ کا ارشاد ہے کہ’’ جو کوئی جان بوجھ کر اپنے کسی مومن بھائی کو قتل کرے گا، تو اس کا سزا دائمی جہنم ہے۔اللہ تعالیٰ کی اس پر پھٹکار ہوگی اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کررکھا ہے۔ نبی کریم کا بھی فرمان ہے کہ’’ اے مومنو! ایک دوسروں کی ٹوہ میں نہ لگے رہو،باہم حسد ، کینہ ، اور عناد نہ رکھو۔ بدگوئی نہ کرو اور ایسا کرو کہ آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ‘‘۔بہرصورت اسلام ایک مکمل دین حیات ہے۔ اس کی واضح تعلیمات کی ایک جھلک آپ نے سماعت فرمائی۔ اسلام نے ہربرائی سے بچنے اور ہراچھائی کو اپنانے کو حکم دیا ہے۔

آج مغرب ‘ اس کے تھنک ٹینک ‘ ان کا میڈیا اور اسکالرز، اسلام اور اسلام پسندطبقات کو نفرتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اور ہم بھی شعوری اور لاشعوری طورپر ان کی لے میں لے ملارہے ہیں۔جو داراصل غلط ہے ۔ اسلام نے تو امن کو سب سے مقدم رکھا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی دعاتو دیکھیں جو قرآن میں موجود ہے۔’’رب اجعل ہذا البلد آمنا ورزق اہل من الثمرات‘‘حضرت ابراہیم علیہ السلام نے امن کی بات پہلے کہ اور معیشت کی بات بعد میں کی۔کیونکہ کہ جب تک امن نہیں ہوگا زندگی کا کوئی شعبہ پھل پھول نہیں سکتا ۔امن کے بغیر نفرتوں کے سارے در بند کرکے محبتوں کے درکھلے رکھنا محال ہے۔امن کے بغیرزندگی کا کوئی پہیہ چل نہیں سکتا۔کاروبار زندگی چلانے کے لیے امن سب سے اولین حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فرقہ واریت پھیلانے میں اندرونی عوامل کے ساتھ اصل ذرائع و عوامل بیرورنی ہیں ۔ ان میں ایک اسلام اور مسلم دشمن بین الاقوامی طاقتیں اور دوسرے ان کے گماشتہ مقامی حکمران اور ان کی ایجنسیاں۔ بین الاقوامی طاقوں کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ الکفر ملۃ واحدۃ‘‘ ہمیں کبھی بھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلمانوں کے اندر بالخصوص پاکستان اور گلگت بلتستان کے اندر بدآمنی میں ان بیرونی عوامل کا کوئی کردار نہیں ہے۔مختلف واقعات و شواہد اور ذمہ دار لوگوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ ان عوامل نے امت مسلمہ کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نفرتوں کے در بند کیسے کریں اور محبتوں کے دریچے واہ کیسے رکھیں۔مجھے بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جدیدتعلیم یافتہ حضرات اور ارباب بست وکشاد‘ ملک عزیز کے غریب اور اسلام پسند عوام اور بالخصوص گلگت بلتستان کے محب وطن عوام کو انتہا پسند،ترقی کی راہ میں رکاوٹ،دہشت گرد ، گنوار ،جاہل،بدتہذیب ،نفرتیں پھیلانے والے اور محبتوں کی راہوں میں رکاوٹ سمجھتے ہیں ، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل مترادف ہے۔ان تمام باتوں کے اصل مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے اسباب وعلل اورمحرکات کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک’’سیاسی کینسر‘‘ کی حیثیت اختیار کرگئی ہے جوبنیادی انسانی حقوق سے محرومی ،ظلم وستم کی انتہا (یعنی بربریت‘ چنگیزت‘اوبامیت اور پرویزیت و زرداریت ) ،میرٹ کی پامالی اوربے انتہا کرپشن، اقرباء پروری،رشوت خوری،علاقائیت، لسانیت،بیروزگاری، آئین شکنی،جمہوری اقدار کی پامالی، اسلامی تعلیمات سے دوری اور ان جیسے خوفناک مسائل کی وجہ سے مغلوب ‘ محکوم ، مظلوم اور مفلوک الحال لوگوں کے اندراز خود پروش پاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے ‘ ان مظلوم لوگوں کا تعلق کسی بھی مذہب ‘ علاقہ یا رنگ و نسل سے ہوتا ہے ‘ پوری دنیا ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس ’’سیاسی کینسر‘‘ کا علاج مریض کو دھمکانا،ڈرانا، لعن و طعن اور سب و شتم کرنااور ان کے گھروں کو اڑانے سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کی مسلسل محرومیوں اور معاشرتی ناانصافیوں کے ازالے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ اگر ان حقیقی مسائل کو نظر انداز کرکے غریب عوام کو دھونس دھمکی‘ جبر و اکراہ سے زیر کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ’’سیاسی کینسر ‘‘ دبنے اور ختم ہونے کے بجائے مزید قوت حاصل کرے گا اور توانا ہوگا اور اس کا رد عمل شدید سے شدید تر ہوجائے گا۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ محب وطن عوام اور اسلام پسند طبقات کے ساتھ دوغلا رویہ اپنایا جارہاہے جس سے شعوری اور لاشعوری طو رپر ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں۔ہمارے قول اور فعل میں کھلا تضادپایاجاتا ہے حالانکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ’’ یایھا الذین اٰ منوا لم تقولون مالاتفعلون‘‘اے ایمان والو! وہ کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ کیا آج ہمارے ارباب اقتدار اس کی کھلی مثال نہیں ہیں؟۔

آجعلماء کرام،جدید تعلیم یافتہ طبقات اور دانشورانِ قوم کی اہم ذمہ داریبنتی ہے کہ وہ بتائیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے درمیان پھیلائی جانی والی نفرتیں دراصل بدترین منافقت پر مبنی ہے، آج ہمیں غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح بتانا ہوگا۔ جب تک ہمارے اندر سچ اور حق بولنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو تب تک ہمارے معاشرے میں سکون اورامن نہیں آسکتا۔ہمارا پورا معاشرتی ڈھانچہ بیٹھ جائے گا۔ آج اصحاب علم ہی کو آگاہی اور روشنی کا باب کھولنا ہوگا۔ انہیں بتانا ہوگا۔ یہی قرآن کا حکم بھی ہے۔سورۃ المائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ’’ لولا ینہھم الربانیوں والاحبار عن قولہم الاثم واکلہم السحت‘‘۔

آو! ہم سب مل کر نفرتوں کے دروازے بند کریں اور محبت عام کریں مگر کیسے تعلیم عام کرنے سے،ظلم کے خلاف بغاوت کرنے سے، گڈ گورننس سے، میرٹ کی بحالی سے،اقربا پروری،رشوت ستانی سے دور بھاگ کراوردین اسلام کی روشنی سے محبت ومودت کے باغ اُگائیں اور نفرت کی تمام فیکٹریاں دریا برد کریں۔بہر صورت ان اشعار کیساتھ آپ سے اجازت چاہونگا.

؂تمہارے سود کی خاطر حقانیؔ ، آج ہے گویا

خدارا ! تم کہو یہ ،اور تم سے چاہتا ہے کیا

حقانیؔ کو نہ دے دو کچھ بھی لیکن

الگ اس کو محبت سے نہ کرلو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔