گلگت بلتستان میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات

گلگت بلتستان میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر۔۔ہدایت اللہ آختر
ایڈمنسٹریٹر
نارتھ لینڈ پبلک سکولز گلگت

بو نر نالہ ضلع دیامر میں غیر ملکی سیاحوں کا قتل ایک دل ہلا دینے والا اندوہناک سانحہ ہے اس سے پاکستان اور گلگت بلتستان کی بدنا می کے علاوہ ہماری معیشت اور ٹوریزم انڈسٹری پر دور رس منفی اثرات کا پڑنا لازمی امر ہے میں آج جب اس بارے کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو میرے ذہن میں بہت سے موضوع امڈ آئے ہیں جس میں دہشت گردی ، علاقے کی معیشت ، عالمی طاقتوں کی سازشیں ، چائنا سے پاکستان کے تعلقات اور آج دن تک کے اخباری خبریں اور تبصرے ۔۔۔ میں حیران ہوں کہ کس پہ لکھوں جس موضوع کو بھی اٹھاؤ تان سیکورٹی پر آکر ہی ٹوٹتی ہے۔۔۔ سوچا کہ کیوں نہ آ ج کی اس بحث میں سیکورٹی خصوصاً گلگت بلتستان کے حوالے سے چند باتیں آپ سے شیئر کروں ۔۔۔

سانحہ بونر نالہ دیامر کی جتنی بھی مذمت کی جائے بہت کم ہے اس واقعے سے پاکستان کی جو بدنامی ہوئی وہ ایک طرف لیکن اس واقعہ کے بعد گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کی قلعی بھی کھل گئی کہ وہ کتنے پانی میں ہے ۔۔۔ یہ کیسی صوبائی حکومت ہے کہ اس کے صوبے میں غیر ملکی سیاح پہنچ جاتے ہیں اور ان کو خبر تک نہیں ہوتی سیکورٹی کے ایسے ناقص انتظامات شاید ہی کسی اور جگہ میں ہوں ان کی ساری سیکورٹی صرف اور صرف جٹیال گلگت سے لیکر بسین گلگت تک کی سڑکوں میں گاڑیوں کی چیکنگ کے سوا کچھ نہیں گلگت سکاؤٹس ہو یا رینجرز یا پولیس سب کے سب گلگت کی سڑکوں میں پاگلوں کی طرح پھر رہے ہوتے ہیں یا کسی وزیر ، مشیر یا چیف سیکرٹری اور وزیر اعلٰی کے پروٹوکول ڈیوٹی میں اور جو حوالدار یا نائیک رینک کے ہیں وہ ان وزیروں ، مشیروں اور سیکرٹریوں کی بیگمات کی خدمت اور ان کے بچے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں ۔۔۔

سیکورٹی کے نام پر لاکھوں کا فنڈ گاڑیوں کی مد میں شو کر کے ان سرکاری گاڑیوں کو گھر کے کام کاج اور صحت افزا مقامات کی سیر کے لیئے استعمال میں لانا کوئی ان سے سیکھے ۔۔۔ جہاں چیکنگ نہیں کرنی چاہئے وہاں بے جا چیکنگ اور ڈسٹربینس پید اکی جاتی ہے اور جہاں سیکورٹی کی ضرورت ہے وہاں دور دور تک سیکورٹی کے انتظام کا نام نشان تک نہیں ہوتا اس پر ستم یہ کہ جب کسی جگہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے وہاں مستقل چوکی بنائی جاتی ہے یوں لگتا ہے کہ بس اب اس جگہ بار با رواردات ہوتی رہے گی ان کے پاس سیکورٹی کا کوئی منصوبہ نہیں ۔۔۔۔

پولیس تو اتنی نا اہل ہے کہ ڈیوٹی کے دوران وہ موبائل فون کا استعمال بے دھڑک کرتی ہے اور رائفل کے ساتھ آپس میں بیٹھ کر لوڈو کھیل رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔یونیفارم میں ہوٹلوں میں بیٹھ کر چائے پی رہے ہوتے ہیں ۔۔۔ ان پولیس والوں کو یہ سکھایا ہی نہیں گیا ہے کہ ڈیوٹی ڈیوٹی ہوتی ہے اور ڈیوٹی کے دوران صرف ڈیوٹی دی جاتی ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔۔گلگت سکاؤٹس کا حال بھی پولیس سے کچھ کم نہیں ۔۔۔۔ایک ضرب المثال ہے کہ جیسی رعایا ہوگی ویسے ہی حکمران ہونگے۔۔۔ ہماری رعایا بھی ایسی ہی ہے ایسا کو ئی ذی شعور ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا جو ان خرابیوں کی نشاندہی کرے ۔۔۔ بجلی نہیں ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، صحت و تعلیم کا شعبہ برباد ، سیلاب فنڈ کے لاکھوں روپے فرضی حفاظتی بندھ اور فرضی ٹھیکوں کے نام پر خرد برد ۔۔۔۔ من پسند افراد کی ملازمت میں بھرتی جیسی برائیوں پر ایسے خاموش ہیں جیسے ان سب کو سانپ سونگھ گیا ہو بس رعایا بھی ایسی ہی ہے جو خوشامد کر کے اپنا دن گزار رہی ہے ہمارے پڑھے لکھے جوان موبائل کی میسیجنگ اور فیس بک کے شیر بنے بیٹھے ہیں بس وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فیس بک اور موبائل میسیجنگ سے وہ ملک میں انقلاب لائیں گے اور سب کام حل ہونگے ۔۔۔

ہماری صحافت کا شعبہ بھی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا کردار ادا کر رہا ہے ۔ ۔۔ سماجی برائیوں میں ہم سب گھرے ہوئے ہیں اس لئے ہمارے ارد گرد جو کرپشن کا بازار گرم ہے وہ ہمیں نظر نہیں آرہا ۔۔۔ ہاں ہماری عوام ایک کام میں بہت ماہر ہے وہ کام یہ ہے کہ ہم بہت مذہبی ہیں اس بات کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ ۔۔۔ سکول تعمیر نہیں ہورہے ، ڈسپنسریاں تعمیر نہیں ہو رہی ہیں لیکن ہر گلی اور ہر سڑک کے چوراہے میں مدرسے ، خانقاہیں ، جماعت خانے اور مسجدیں بن رہی ہیں ۔۔۔ ہم لوگ اتنے مذہبی ہیں کہ قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے تو ہم خاموش ، آئمہ کرام کی بے حرمتی ہوتی ہے تو ہم خاموش لیکن کسی سید یا مولوی کے کرتوت کے بارے بات ہو تو ایک دوسرے کے قتل کرنے کے درپے ۔۔۔ ہم کسی سے کیا گلہ کریں اس ملک کو اس علاقے کو ہم ہی لوگوں نے اس مقام تک پہنچایا ہے ۔۔۔ برا کو برا کہنے اور اچھے کو اچھا کہنے کی روش ہم سے کب کی رخصت ہو چکی ہے ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم سب مل کر ہاتھ مل رہے ہیں ۔۔۔

بونر نالہ کے واقعہ کا ہم سب مل کر جتنا بھی ماتم کریں کچھ نہیں ہوگا اور یہ واقعہ بھی پچھلے واقعوں کی طرح دھل جائیگا ۔۔۔ کچھ نہیں ہوگا کوئی بھی کسی کو سکیورٹی نہیں دے سکتا جب تک ہم خود اپنی سکیورٹی کو یقینی نہ بنائیں۔۔۔۔میرا مطلب آپ سمجھ گئے ہونگے۔۔۔بونر نالہ کا واقعہ کوئی پہلا یا نیا نہیں ۔۔۔پورا پاکستان پچھلے کئی دہائیوں سے ایسے واقعات کی لپیٹ میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ہماری آپس کی چپقلش سے بیرونی عناصر فائدہ اٹھا رہے ہیں جس کی ہمیں خبر نہیں ۔۔۔۔۔۔ان تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ ہماری صوبائی حکومت ایک مربوط سکیورٹی پلان ترتیب دے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے صرف ٹریفک سارجنٹ کا کردار ادا کرنے سے سکیورٹی بہتر نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔۔۔۔پولیس کو فعال کرے اور کام چوروں کو فارغ کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرٹ کے نظام کو بحال کیا جائے اور سفارشی اور رشوت کے بل بوتے پر ملازمت کرنے والوں کی چھٹی کر دی جائے۔۔۔۔۔میں یہاں ایک تجویز بھی پیش کرنا چا ہونگا ۔۔ممکن ہے کہ یہ تجویز کئی لوگوں کو بھلی نہ لگے لیکن مجھے یقین ہے کہ اکثریت کو میری اس تجویز سے اتفاق ہوگا اور جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا اس عبوری سیٹ اپ سے مستفید ہوا جا سکتا ہے ۔۔میں سیاسی پکیج کا مخالف نہیں اس پکیج میں بہتری لائی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔میری ناقص رائے کے مطابق گلگت بلتستان کے لوگ ابھی حکمرانی کے اہل نہیں ۔۔اس لئے گلگت بلتستان کے موجودہ پکیج کو معطل کر کے گلگت بلتستان کے موجودہ سیٹ میں تبدیلی لاکر فاٹا طرز کا کوئی سیٹ اپ دیا جا سکتا ہے جس سے یہاں کے لوگوں کو پاکستان کی اسمبلی میں نمائندگی کا موقع مل سکتا ہے ممکن ہے اس سے ہمیں حکمرانی کے آداب بھی آئینگے ۔۔۔۔۔۔۔بات ہوری تھی سکیورٹی کی تو بونر نالہ کا جو سانحہ رونما ہوا وہ صرف اور صرف ناقص سکیورٹی کی وجہ سے رونما ہوا ہے کتنی ستم ظریفی ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس سیاحوں کی بنیادی معلومات ہی موجود نہیں اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کون سا گروپ یا فرد کہاں سے آیا اور کدھر گیا ۔۔۔۔اس کے علاوہ صوبائی حکومت کی نااہلی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کو اس بات کا پابند ہی نہیں بنایا گیا کہ کہ وہ اپنی مومنٹ سے پہلے انتظامیہ کو باخبر رکھے ،،اور جہاں جہاں غیر ملکی سیاحوں کے کیمپ ہوتے ہیں وہاں سکیورٹی کا نام و نشان نہیں ہوتا ہے ۔۔حالانکہ ہونا چاہئ تھا کہ چلاس میں موجود جی بی پولیس کے کم از کم دس جوان اس گروپ کی سکیورٹی میں ہونے چاہئے تھے لیکن جیسا میں نے ذکر کیا ہے کہ صوبائی حکومت کے پاس کوئی مربوط سکیورٹی پلان ہی نہیں اور نہ ہی ان کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ہے کہ وہ ایسے کام کرے ۔۔۔۔۔ان کا کام گلگت سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے گلگت اے ٹی آر میں سفر کرنا اور ٹی اے ڈی اے بنانا ہے اخباری بیان بازی کو دیکھیں تو رونے کو جی چاہتا ہے کہ سیاسی اور مذہبی ٹھکیدار اس سانحہ کو بھی مذہبی اور فرقہ ورانہ بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ہم ان کے لئے بس دعا ہی کر سکتے ہیں کہ خدا ان کو عقل کے ناخن دے ۔۔۔۔۔۔آئی جی اور چیف سکریٹری سے باز پرس اور ایکشن لینے کا کام صوبائی وزیر داخلہ کا تھا لیکن نہ جانے موصوف اس وقت کہاں سوئے ہوئے تھے اور جب وفاقی وزیر داخلہ نے آئی جی اور چیف سکریٹری کو معطل کیا تو اب بحث یہ چھڑی ہے کہ کیا وفاقی وزیر ایسا ایکشن لے سکتا ہے ۔۔ اس بارے ماہر قانون بہتر بتا سکتے ہیں کہ آئین کے کس آرٹیکل کے تحت وفاقی وزیر کا ایکشن غیر قانونی ہے ۔۔۔۔۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ گلگت بلتستان میں افغانستان جنگ اور طالبان کی حکومت ختم ہونے کے فورا بعد یہاں کی مخصوس جغرافیائی حالات کے پیش نظر سکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانے کی کوششش کی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا ہماری صوبائی حکومت کی کوہ تا اندیشی کے باعث یہاں کا سکیورٹی کا دائرہ کار گلگت تک محدود رہا اور وہ بھی مذہبی لیڈروں کی نگرانی اور گاڑیوں کی چیکنگ ۔۔۔۔۔خدا را اس نظام میں اب تبدیلی لائیں اور آنے والے خطرات کو بھانپتے ہوئے ایک موثر سکیورٹی پلان ترتیب دیں ایسا نہ ہو کہ یہ دوسرا وزیرستان بن جائے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔