ادبی تنظیموں کا کردار

ادبی تنظیموں کا کردار

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہدایت اللہ آختر

یہ ایک دوست کا شکوہ ہے اور ایسا شکوہ ہے جو کسی حد تک صحیح بھی ہے یہ میرا خیال ہے ممکن ہے کہ چند ایک کو اس سے اختلاف ہو اس دوست کے شکوے کا ذکر کرنے کے بعد مجھے معلوم ہے کہ میرے دوستوں کو بھی مجھ سے شکایت ہوگی کہ یہ کیا بات ہوئی کہ لوگوں کے گلے شکوے بھی کالموں کی شکل میں اخباروں کی زینت بنیں اس دوست کو شکایت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی وہ اس لئے کہ وہ پڑھنے لکھنے کا دلدادہ ہے اسی شوق اور لگن کی وجہ سے ہی ایک ادبی تنظیم کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے دیکھنے میں بات معمولی سی نظر آتی ہے لیکن کبھی کبھار چھوٹی سی بات پر بڑی یا ایک لمبی سی کہانی بن جاتی ہے اور وہ چھوٹی بات کچھ اس طرح سے انسان کے دل پر سوئی کی طرح چھبتی ہے کہ بات بنتے نہیں بنتی جب تک اس کی تہہ تک نہیں پہنچا جاتا ہوا کچھ اس طرح سے کہ اس دوست کو اپنی ادبی تنظیم کو فعال طریقے سے چلانے اور بہتر نتائج کے لئے اس شعبے سے تعلق رکھنے والے کہنہ مشق ادیبوں کی رہنائی کی ضرورت پیش آئی اس سلسلے میں اپنے علاقے میں پہلے سے موجود ادبی تنظیم کے ایک سینئر شخص سے ملتا ہے کیونکہ اس نے اس شخص کے بارے بہت کچھ سن رکھا تھا اس کے دل میں اس شخص کے بارے ایک اچھا تصور تھا اسے پوری امید تھی کہ وہ شخص اس کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے لیکن اس کی امیدوں پر اس وقت پانی پھیر جاتا ہے جب اس کی ملاقات اس سے ہوجاتی ہے کیونکہ اس دانشور نے اسے لفٹ نہیں کرائی اگر لفٹ نہیں کا سلیس اردو ترجمہ کیا جائے تو آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اسے گھاس نہیں ڈالی کچھ لوگوں کو شوشا کرنے کی عادت سی ہوجاتی ہے وہ یہ سجھتے ہیں کہ شائد عزت کسی کو لفٹ نہ دینے کا نام ہے لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی وہی عادتیں ان کے وقار کو بری طریقے سے مجروح کرتی ہیں.

ان کے مطابق عزت اسی میں ہے کہ کسی سے سیدھے منہ بات نہ کی جائے اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز رکھنے کے لئے ملنے جلنے سے احتراز کیا جائے اور اردو بولتے ہوئے زیادہ سے زیادہ انگریزی کے الفاظ استعال کئے جائیں چاہئے ان کا مخاطب اردو ہی نہ جانتا ہو بالفرض محال اردو بول یا لکھ بھی سکتا ہو تو ایسے ثقیل الفاظ استعمال کریں کہ لوگ ان کے معانی تلاش کرنے کے لئے لغت ڈھونڈتے پھریں بعض تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب کوئی مشورہ لیا جائے تو طنزیہ انداز میں کچھ ایسے جملے مرحمت فرما تے ہیں کہ اللہ اللہ اس دوست کو بھی شائد کسی دانشور نے کسی طنزیہ جملے سے نوازا تھا ممکن ہے اسی صورت حال سے دوچار ہونے کے بعد اس کا منہ پھٹ پڑاتھا.

کیا دانشور ایسے ہوتے ہیں؟ کیا دانشور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ایسے کرتے ہیں؟ کیا دانشور اس میدان میں آنے والوں کو یوں دھتکارتے ہیں؟ کیا ایسا کرنے والوں کا نام دانشور ہوتا ہے؟ لازمی بات ہے جب کسی کو ایسا واقعہ پیش آئیگا تو اس قسم کے سوالات بھی اس کے ذہن میں ابھرئنگے اسکی باتوں سے یہ بھی اندازہ ہورہا تھا کہ وہ بڑا نا امید ہے وہ اس لئے کہ اس کے علاقے میں بہت ساری ادبی تنظمییں موجود ہونے کے باوجود اسے کوئی ایسا رہنما نہیں مل رہا تھا کہ وہ اس علاقے کے نئے لکھاری جن کے اندر شوق اور جذبہ موجزن ہے اور وہ اپنی تخلیقات سے معاشرے میں اپنا کردار نبھانا چاہتے ہیں انکی رہنمائی کرے ۔۔ اس دوست کا کہنا یہ بھی تھا کہ اس دانشور سے مایوس ہوکر پہلے تو اس نے یہ ارادہ کر لیا کہ اب کسی اور کی تلاش فضول ہے لیکن پھر اسے خیال آیا کہاتنی جلدی ہمت ہارنا بھی مردانگی نہیں اسی دوڑ دھوپ میں آخر اسے ایک ملنسار، ادب پرور اور ادب شناس شخص مل ہی گیا اس نے اسے کچھ اس طرح سے رہنمائی کی اس کے اندر ایک نیا ولولہ پیدا ہوا اور اس کےدل میں خوشی کی ایک لہر اٹھی شائد اس کی مراد بھر آئی تھی اسے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی تھی کہ جس فرد سے اس کی ملاقات ہوئی تھی وہ تو مشہور لکھاری اور دانشور ہے لیکن اس کی باتوں سے اور اس کے رکھ رکھا وٗ سے ایسا معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کوئی دانشور ہے پھر اس نے سوچا کہ نہیں دانشور تو وہ نہیں تھے جنہوں نے اسے دھتکارا اسے حوصلہ دینے کے بجائے اپنی نمبرداری دکھائی اپنے کو اونچا ظاہر کرنے کے لئے مجھ ناچیز کو خاطر میں نہیں لیا دانشور تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے دل میں دوسروں کا درد رچا بسا ہوتا ہے دانشور تو وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں دانشور تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آپ کو بھی اور معاشرے سے برائی پاک کرنے کے

متمنی ہوتے ہیں دانشور تو وہ ہوتے ہیں جن کے قلم سے علم کے چشمے پھوٹ پڑیں دانشور تو وہ طبقہ ہوتا ہے کہ ان کا علم دوسروں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو اس لئے تو قران میں ذکر ہے کہ۔۔ اس علم کا کیا فائدہ جو نافع نہ ہو؟ یہ سوچ کر اس نے عہد کیا کہ وہ اپنی تخلیقات کو خوبصورتی پہنائے گا اس لئے نہیں کہ وہ دانشور بن جائے اور لوگ اس کو دانشور اور نہ جانے کیا کیا کہیں صرف اس لئے کہ اس کی تخلیقات سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے اور اس کی لکھی ہوئی تحریر معاشرے میں سدھار پیدا کرنے کا سبب بنے نہ کی بگاڑ اس نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ بننے کی کوشش کرے گا اس دوست کی شکوہ شکایت لکھتے لکھتے میرے ذہن میں بھی اب ایک سوال ابھرا ہے کی کیا یہ ادبی تنظمییں جو کئی کئی سالوں سے ادب کے میدان میں کام کر رہی ہیں۔ کیا وہ اپنا فرض پورا کرنے اور نبھانے میں کامیاب رہی ہیں؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔