قومی کتب خانہ

تحریر: سید سیعد احمد
لائبریری یا کتب خانہ وہ عمارت ہے جس میں قارئین کے لیے کتابی اور صمعی و بصری مواد کو ایک منعظم طور پر مہیا کیا جائے۔اس قسم کے کتب خانے زمانہ  قدیم سے موجود ہیں،جب فن طباعت  کا جا رواج نہیں تھا تو کتب کی فراہمی پر بہت زیادہ روپیہ صرف ہوتا تھا
کتب خانے ہر قوم کی عمرانی،اقتصادی،سیاسی،ادبی،سائنسی و فنی ارتقاء میں اس قوم کو  علم کی رسائی کے قابل بناتا ہے۔دینا کا پہلا کتب کانہ کب اور  کہاں قائم ہو یہ تو ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے ہے البتہ ایک اندازے کے مطابق اشور بانی پال کی کتب خانہ کو دینا کا پہلا کتب خانہ مانا جاتاہے۔لیکن میرے خیال کے مطابق انسانی تہذیب نے جس جگہ پر جنم لیا وہی پر پہلا کتب خانہ وجود میں آیا۔
آج دینا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں کتب خانے عظیم الشان عمارتوں میں علم کے خزانوں سے آرستہ ہیں۔یہ کتب خانے جہاں بنی نوع انسان کے لیے علم کی ترسیل کا سبب بنتے ہےوہاں اپنے اپنے ملک کی نمائدگی بھی کرتے ہے
کچھ دن پہلے اپنے تعلیمی سلسلے میں اسلام آباد جانا پڑاوقت بہت کم اور مصروفیات بہت زیادہ تھے۔ ،خیر اپنے مصروفیات سے کچھ وقت نکال کے اپنے ایک دوست سید اصد شاہ کے ہمرہ نیشنل لائبریری کا ایک مختصر وزٹ کیا کیوں کہ ایک بحیشت لائبریری سائنس کے طالب علم ہونے کے ناطے یہ ضروی بھی تھا۔پاکستان کا قومی کتب ایک اسے جگہ پر واقع ہے جس تک عام عوام کی رسائی نا ممکن تو نہیں کہ سکتے البتہ مشکل ضرور ہے کیوں کہ یہ ادرہ پاکستان کے حساس علاقعہ یعنی ریڈ زون میں واقع ہے۔ یہ لائبریری شاہراہ دستور سپریم کورٹ آف پاکستان ،پارلیمنت ہاوس ،وزیراعظم سیکرٹیریٹ ،ایون صدر اور فیڈرل سیکٹریٹ کے سنگم میں واقع ہے اس کے راستے میں تقریبا 7 پولیس چیک پوسٹوں سے گزر کر پاکستان کے قومی کتب خانہ تک رسائی ممکن ہے ۔بلا آخر ہم بھی اسی راستے سے گز کر پاکستان کے قومی کتب خانہ پہنچ گئے۔یہ کتب خانہ ایک عظیم الشان  4 منزلہ عمارت میں ہے۔
1947ء میں جب پاکستان ایک آزاد ملک کی حثیت سے دنیا کے نقشے میں نمودار ہو،اُس کے بعد حکومت پاکستان نے کراچی میں 1949 ء میں  ڈائریکٹریٹ آف ارکائیوز اینڈ لائبریریز قائم کیا گیا،1950 ء میں ڈائریکڑیٹ کے قیام کے بعد نیشنل لابریری کا قیام عمل میں لا یا گیا ۔1954 ء اسے کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا ۔
24 اگست 1993 ء میں نیشنل لائبریری  کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا اور اسے عوام کے لیے مکمل کھول دیا گیا۔اس مختصروزٹ میں ہماری ملاقات جناب اقرار حسین شیخ صاحب ہوئی جوکہ اس قومی کتب خانہ میں  بحثیت ڈائریکٹر آف سیرل پبلکیشن منیجمنٹ کے عہدہ پر فائز ہے دوران ملاقات اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ اس کتب خانہ 150،000 سے زائد کتب موجود ہے ،80 سے زائد زوزنامے  ہر دن اس کتب خانہ کو موصول ہوتی ہے اور اس کے علاوہ 2 ہرزار سے زائد نایاب کتب اور 800 کے قریب ادب،تاریخ،مذہب ،اسلام اور کلچر کے موضوعات مخطو طات بھی موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کو محفوظ کرنے کی غرض سے ان کی مائیکرو فلمیں بنائی بھی جارہئ ہے۔ اس نیشنل لائبریری میں تمام مقاصد کے لیے محقیقن اور پوسٹ گریجویٹ طلبا ء کو سماجی علوم اور انسانی علوم  کے شعبہ  میں خدمات فرہم کرہی ہے کتب خانہ کو  ڈیوی ڈیسمل کلاسفیکشن کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جبکہ کیٹلاگ میں ہر نوح کے کارڈ موجود ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لائبریری میں آٹومیشن نظام بھی موجود ہے  دوران گفتگوں اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ جناب خود  بھی کئی کتب کے مصنف بھی ہیں ۔اُن کی معوضوعات میں لائبریری پروفیشن اور تنز و مزح کے تقریبا” 16 کتابیں شامل  ہیں۔شیخ صاحب نے جاتے جاتے مجھے اپنی ایک کتاب بھی اپنے دست مبارک  سے عنایت کی ۔
کتب خانے کسی قوم کے تہذیبی و تمدنی ورثے کے امیں ہوتے ہیں یہ معاشرے کو  شناخت دیتی ہے ۔کتابیں طاقتور انکارونطریات کو جنم دیتی ہےاور بعض اوقات انقلابات کی راہ ہموار کر دیتی ہے ۔کتب خانوں کی بدولت شوچ میں مثبت تبدیلی پیدا ہو تی ہے۔یہ زندگی کے ہر صفے کے لیے ایک مینارنور و شعور ہیں۔میرےنزدیک  کتاب استاد کا درجہ اور کتب خانے ایک صدقہ جاریہ ہے۔جس سےلوگ ہر دور کے اندرمستفید ہوتے رہے ہیں۔اُن  تمام لوگوں  سےگزارش ہے  جو کتب اور کتب خانوں سے محبت رکھتے ہے ایک مرتبہ ضرور اپنے ملک پاکستان کی قومی کتب خانہ کا وزٹ ضرور کریں۔
اس مختصر سے وزٹ میں جس چیز کی کمی میں نے محسوس کی وہ تھی اس کتب کانہ کے قارئین کمی جو کہ نہ ہونے کے برابر تھی ۔اتنی عظیم الشان کتب خانہ اور کتاب  پڑھنے والے لوگ کم!میرے خیال میں اس کی وجہ اس لائبریری کا اس ریڈ زون میں ہونا ہے کیوں کہ عام شہریوں کا اس تک راسائی آسان نہیں ہے۔میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ اس کتب خانہ کو کسی اسی جگہ پر شفٹ کیا جائے جہاں ہر عام و خاص شہری کا اس تک رسائی آسان ہو۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments