وزیر اعلی کرپٹ افراد کی سرپرستی کر رہا ہے، محکمہ تعلیم تباہی کے دہانے پر ہے: منظور پروانہ

سکردو (پریس ریلیز) وزیر اعلٰی گلگت بلتستان کی نا اہلی کی کی وجہ سے گلگت بلتستان کے تعلیمی ادارے دیوالیہ ہو چکے ہیں ، ایک طرف محکمہ تعلیم میں کرپشن کی انتہا کر دی گئی ہے تو دوسری طرف کالج کے پرنسپل اور پروفیسروں کو معطل کر کے طلباء کوحصول علم سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان پڑھ لوگوں کے ہاتھوں تعلیم یافتہ افراد کی ذلت پر قوم کو خاموش نہیں رہنا چاہیے اگر نا اہل قیادت نے اپنی روش نہیں بدلی تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چئیرمین منظور پروانہ نے سکردو کالج کے پرنسپل اور پروفیسروں کی معطلی کی مزمت کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ سکردو کالج کے پروفیسروں کی معطلی بلتستان کے طلباء کے حقوق پر ڈاکا ہے ، گلگت بلتستان کو تعلیمی میدان میں پیچھے رکھنے کے لئے ایک منصوبہ بندی کے تحت سازش ہو رہی ہے یہ سازش کوئی اور نہیں بلکہ وزیر اعلٰی اور اس کی ٹیم کر رہی ہے پہلے تو انہوں نے محکمہ تعلیم میں میرٹ کو پامال کرتے ہوئے رشوت لے کر تین ہزار سے زائد غیر قانونی تقرریاں کیں اور اب محکمہ تعلیم کے قابل اور سینئر اساتذہ کو بے عزت کروا رہے ہیں ۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ نیم حکیم خطرہ جان اور آج نیم ان پڑ ھ قیادت کی وجہ سے علم و دانش کو خطرہ لاحق ہے۔

منظور پروانہ نے کہا کہ بلتستان میں گزشتہ چار سالوں سے علم دوست اور کرپٹ افراد کے درمیان سردجنگ جاری ہے ، کرپٹ لوگوں کو وزیر اعلٰی کی سر پرستی حاصل ہے جبکہ علم دوست افراد کے پشت پر عوام ہیں ۔ کرپٹ اور نیک با ز لوگوں کے درمیان فرق واضع ہو چکے ہیں ۔ گلگت بلتستان کے عوام کرپٹ لوگوں سے عاجز آچکے ہیں ، نواز حکومت کرپٹ عناصر کا احتساب نہیں کر سکتی کیونکہ اب کرپٹ لوگوں کا احتساب عوامی عدالت میں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments