گورنری اور ضمنی انتخابات

گورنری اور ضمنی انتخابات

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شیرعلی انجم

گورنر گلگت بلتستان کا تعین اس وقت وفاق کیلئے ایک معمہ بن ہوا ہے نون لیگ کے سارے کارکن اس دوڑ میں اپنا اسررسوُخ استعمال کرر ہے ہیں جو کہ اس عہدے کی حوالے سے شرمناک بات ہے یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ عہدہ وفاق کیلئے ایک انار اور سو بیمار بنا ہوا ہے لیکن میاں صاحب ہی واحد حکیم ہے جو اس مرض کو ٹھیک کر سکتے ہیں صدارتی حکم نامے بھی میاں صاحب کی دستخط کے بعد ہی جاری ہوتے ہیں مگر تعجب کی بات ہے کہ اس حکومت کو گلگت بلتستان سے اس منصب کا اہل شخص نہیں مل سکا اس کا مطلب یہ ہوا کہ میاں صاحب کی معیار کا کوئی شخص گلگت بلتستان میں موجود نہیں یہی سبب ہے کہ انہیں برطانیہ سے لوگوں کو مشورے کیلئے بُلانا پڑا پھر بھی لگتا ہے کہ میاں صاحب یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔

آخر وہ کون ممنون گلگت بلتستان ہے جس کی تلاش میں میاں صاحبپریشان ہے مگر ان سارے واقعات میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے لیگی رہنماوں کی حیثیت واضح ہو گئی کہ گلگت بلتستان کے کارکن جو اپنے آپ کو نظریاتی کارکن سمجھتے ہیں اُنکی اپنی پارٹی میں کیا مقام ہے خطے کی حوالے اظہار رائے پیش کرنے اور خطے کے حوالے سے فیصلے کرنے کا کتنا حق رکھتا ہے یقیناًاُن کی یہ حیثیت عوام اور پارٹی کی مسقبل کیلئیایک اہم مسلہ اور افسوس کا مقام ہے۔

نون لیگ کی وفاق میں حکومت کی تشکیل کے بعد مقامی طور کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا وہ لیگی رہنما جو کل تک کے شعلہ بیاں بیانات دیکر کر پرنٹ میڈیا کا زینت بنا رہتا تھا آج غائب ہے وہ سارے بیانات اور اعلانات جو خطے کی لیڈران کی طرف سے یہاں کے مسائل کی نشاندہی کرپشن کی صفائی کے حوالے سے کیا تھا صرف مخالٖف پارٹی کو ڈرانے کا ایک شوشہ تھا۔کچھ حلقہ فکر کا کہنا ہے کہ اگلے سال چونکہ گلگت بلتستان میں انتخابات ہونے ہیں اور گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار نون لیگ حکومت بنانے کا خواہشمند ہے لہذا اُنہیں ایسے آدمی کی تلاش ہے جو عوام سے ووٹ خریدنے اور وفاداریاں تبدیل کرانے میں اہم کردار ادا کرسکے کیونکہ گلگت بلتستان کی اکثرعوام نواز لیگ کو پسند نہیں کرتی اگر بغیر کسی سیاسی حکمت عملی کے جیت ہوجائے تو آج کل کے اس میڈیا کے دور میں سوالیہ نشان بن سکتاہیلہذا ایک سال کے اندر بہت سے امیدوران کو خریدنا بھی ہے اور الیکشن سے قبل گراونڈ تیار بھی کرناہے ان سارے معلاملات میں گورنر کا بڑا عمل دخل ہو گا ایسے میں میاں صاحب کو ذرادری کی چال رکھنے والے گورنر کی تلاش ہے جو گلگت بلتستان میں اگلی حکومت کی تشکیل کیلئے کردار ادا کرکے مستقبل میں اس خطے میں اپنا مستقل قدم جما سکے۔

اس حوالے سے ہم نے اخباروں میں موجودہ گورنر صاحب کے حوالے سے بھی خبریں پڑھی کہ موصوف نے اپنے بیٹے کو گورنری بچانے کیلئے نواز لیگ میں شامل کرنے کیلئے کئی حربے استعمال کئے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا ۔ اس خبر کے بعد پیر صاحب کا بھی اپنی پارٹی میں وہ مقام نہیں رہا جو پہلے تھا کیونکہ یہ سارے جدوجہد کرسی کیلئے تھی نہ کہ سیاسی نظریات کی بنیاد پر۔نون لیگ کے 100دن کے حوالے سے بات کریں توانکی حکومت گلگت بلتستان کے حوالے سے اب تک کوئی واضح پالیسی وضع نہیں کر سکی اس سے صاف واضح ہوا کہ یہ حکومت گلگت بلتستان کی تعمیر اور ترقی کے حوالے سے کیا سوچ رکھتی ہے۔

لہذا گلگت بلتستان کے عوام سمیت اہل قلم اور دانشور حضرات کو اس معاملے میں حکومت کو اگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان میں ایسے لوگ موجود ہے جو گورنری کی منصب کی اہلیت اور عوامی مسائل کی حل کیلئے بھی جامع سوچ رکھتے ہیں یہاں کے عوام کو ایسے گورنر کی ضرورت نہیں جو آپ کے مسقبل کی سیاست کیلئے پُل کا کردار ادا کرے۔ یہاں کے عوام کو ایسے گورنر کی تلاش ہے جو خطے کی مسائل اور اس کی حل کے طریقوں کو سمجھتے ہو۔ یہاں کے عوام کو ایسے گورنر کی تلاش ہے جو بین المسالک ہم آہنگی کیلئے مثبت کردار ادا کرے یہاں کے عوام کو ایسے گورنر کی تلاش ہے جو حکومتی کرپشن کو ختم کرنے میں کردار ادا کرے یہاں کے عوام کو ایسے گورنر کی تلاش ہے جو علم کو عام کرنے کیلئے کردار ادا کریں اور گلگت بلتستان کے عوام کو ایسے گورنر کی تلاش ہے جو اس خطے کے ساتھ ہونے والی سیاسی ذیادتیوں کا ازالہ کر سکے اور اس خطے کو وہ مقام دلانے میں کردار ادا کرسکے جس مقام کا یہ خطہ اہل اور حق رکھتا ہے۔

مگر افسوس میاں صاحب کو ایسے آدمی کی تلاش ہے جو عوام اور خطے کی کم اوراُن کی سیاسی مقاصد کیلئے ذیادہ فائدہ مند ہو۔ اس متنازعے خطے میں جہاں آپ کا سکہ عوام کی وفادری کے سبب چلتا ہے لہذا یہ عہدہ بھی عوام کی مرضی کے مطابق اور خطے کی ضرورت کے پیش نظر ہونا چاہے تھا لیکن اس طرح کے آثار نظر نہیں آرہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ نون لیگ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ گلگت بلتستان میں لارڈ نذیر جیسے گلگت بلتستان مخالف عناصر کو گلگت بلتستان پر مسلط کرنا چاہ رہے ہیں جو کہ کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ۔ اس خطے کی عوام کو پہلے ہی نون لیگ سے گلے شکوئے ہیں اگر اس موقع پر بھی آپ نے گلگت بلتستان مخالف فیصلے کئے تو یہاں کے عوام احتجاج کا حق رکھتا ہے۔اب چلتے ہیں اُس الیکشن کی طرف جو کچھ عرصہ قبل عوامی نمائندوں کا سرکاری نوکری کی حصول کے بعد خالی ہوا تھا۔

ایک بار پھر گہماگہمی کے ساتھ عوام کو بیوقوف بنانے کی تیاریاں عروج پر ہے امیدوار حضرات ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کیلئے ہر قسم کے حربے استعمال کر تے نظر آرہے ہیں۔ کوئی شکست کو دیکھ کر کاغذات واپس لینے پر مجبور ہے اور کوئی حکومت کے سہارے نئے عزم کے ساتھ میدان میں نظر آرہے ہیں اور کئی نئے چہرے بھی میدان میں اُترتے نظر آرہے ہیں ۔لیکن بچارے عوام سے کہا جارہے ہیں کہ لڑنے کیلئے تیار رہو ووٹ کی خاطر رشتے توڑنے کیلئے تیار رہو کیونکہ اس کھیل میں لڑائی عوام کی ہوتی ہے اور ترقی شخصیت کی اجتماعی مسائل اس سب کے درمیان میں گم ہوجاتی ہے۔ضمنی انتخابات کو اگلے الیکشن کیلئے ایک پیغام بھی کہا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے عوام کی مرضی کے برخلاف نواز لیگ اگلی بار گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کیلئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھ رہی ہے اور گلگت بلتستان میں اُ س کے بعد کس طرح کے داخلی اور خارجی مسائل پیش آئیں گے وہ وقت سے پہلے لکھیں تو مضمون بھی قابل اشاعت نہیں رہے۔

اس ضمنی الیکشن میں یہ بات تو طے ہے کہ نون لیگ کی فتح ہوگی کیونکہ اس سلسلے میں تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہے پھر بھی عوام کو بیوفوف بنانے کیلئے انہی کے چمچے میدان میں اُترے ہوئے ہیں لہذا عوام کو سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس بار بھی نہیں لگتا کہ عوام کی جیت ہوگی کیونکہہمارے عوام ہر وقت مصلحت کا شکار اور معاشرتی لحاظ داری کے تلے دبی رہتی ہے عوام دل چاہتے ہوئے بھی اپنی مرضی کا و و ٹ کاسٹ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ معاشرے کے وہ چالباز لوگوں کی یہی کوشش رہتی ہے کہ میری وجہ سے فلاں کوذیادہ ووٹ ملے تاکہ جیت کی صورت میں انفرادی مفادات حاصل کرسکیں ایسے میں اللہ ہی گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کی مسقبل کا حافظ ناصر ہو.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔