دلاو ر عباس: اپنی ماں کی آنکھوں کا اکلوتا نور  

تحریر ،رجب علی قمر

لاہور میں گزشتہ دنوں پیش آنے والا انسانیت سوز واقعہ بھی قصور واقعے سے کم نہیں گلگت بلتستان کے ضلع گانچھے کے پسماندہ گاؤں کونیس سے تعلق رکھنے والے دلاور عباس کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ انہیں زندہ دلان لاہور کے شہر میں بے دردی اور سفاکانہ حرکتوں سے مارا جائے گا ان کے والدین نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ کھیل کے میدان سے نورنظر کا جنازہ اُٹھے گا والدین دلاور کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ان کی بیاہ رچانے،اعلیٰ آفیسر بننے، بڑھاپے کا سہار ا بننے، نہ جانے کیا کیا حسرتیں دل میں بسائے رکھے ہوئے تھے مگر وحشی درندوں نے ماں کی دُلارے کو ہمیشہ کے لئے ان سے چھین لیا سنگلاخ پہاڑوں کی وادیوں سے چل کر میلوں دور علم کی پیاس بجھانے جانے والے اس طالب علم کا قصور یہ تھا کہ وہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ا ن کی نہ کسی سیاسی ،مذہبی یا کسی او روجہ سے کسی سے نہ دشمنی تھی بلکہ کھیل کے میدان میں ہونے والے معمولی نوعیت کے مسلے کو ایشو بنا کر انہیں ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سلانے والے کیا قانون کی گرفت میں آئیں گے اس سوال کا جواب دلاور عباس کی ماں جو کہ ان کے خاندانی زرائع کے مطابق اب بھی بے ہوشی کی حالت میں ہیں ان کے دل پرداغ کرگئی ہوگی دلاور کے والد بیٹے کی تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے ملک سے باہر دلاور سے بھی دور کویت میں زریعہ معاش کی خاطر مقیم تھے دلاور کی تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے اور انہیں پڑھا لکھا کر آفیسر بنانے کی ارمان دل میں بسانے والے والد کو بھی آخر ان کی لاش کے ساتھ گھر لوٹنا پڑ ا تو کیا یہ قیامت کا منظر نہیں ؟آج دلاور پر ہونے والے مظالم اور ان کی ماں باپ،خاندان کا ہر سانس اور لمحہ یقیناًقیامت سے کم نہیں قصور کی زینب اور کراچی میں حالیہ دنوں قتل ہونے والے انتظار کی والدین کے پاس اگر وزیر اعلیٰ اور تمام سیاسی ،مذہبی جماعتوں اور دنیا بھر میں ان کی قتل کے خلاف مذمتی بیانات اور قاتلوں کو پکڑنے اور سزا دینے کی باتیں چل رہی ہے سوشل میڈیااو رالیکٹرانک میڈیا پر ٹاک شوز اور خبریں چل رہی ہے تو گھر سے دور غریب الوطن مسافر ،طالب علم دلاور عباس کی بہمانہ قتل پر بھی ان کے والدین کو بھی زینب اور انتظار کی والدین کی طرح انصاف کی توقع ممکن ہے ؟یہ سوال پاکستان کا ہر ذی شعور شہری ،میڈیا ،سول سوسائٹی ،حکومتی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے بھی ہے کہ جواں لعل کی غم سے نڈھال دلاور کی ماں کو بھی انصاف کب ملے گا دلاور کو ابدی نیند سُلانے والے وحشی درندے بھی یقیناًاپنے جگے پر سکون اور اطمینان سے نہیں ہو ں گے لیکن گلگت بلتستان کا بچہ بچہ آج دلاور کی قتل پر سراپا احتجاج ہے سول سوسائٹی ، بلتستان یوتھ الاینس اور امامیہ طلبا کی جانب سے آج سکردو میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ان کی قاتلوں کو پکڑنے کا مطالبہ کیا گیا جہاں تک گلگت بلتستان کی حکومت کا کردار ہے اس قتل کے بعد گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے زبانی دعوؤں سے حسب روایت قتل کے اس سنگین جرم کو بھول جانے کی کوشش کی ہے اگر جغرافیائی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دلاور کی قتل میں وہ تمام گروہ بھی ملوث ہے جنہوں نے گلگت بلتستان کو ہمیشہ سے پست پشت ڈالے رکھا علاقے میں تعلیم کی سہولیات نہ ہونے سے دلاور عباس جیسے سینکڑوں نوجوان گلگت بلتستان سے باہر موت کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے ماضی میں سینکڑوں دلاور مارے جاچکے ہیں نہ جانے مستقبل میں کتنے دلاور مارے جائیں گے گلگت بلتستان میں تعلیم کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے دلاور کی والدین کی طرح سینکڑوں والدین کی اکلوتے دلاور چین سے نہیں بلکہ ان کے والدین بھی خوف کے عالم میں اپنے لخت جگروں کی فکر میں زندگیاں بسر کررہے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments